Wed, September 16, 2026

پانچ واہمے

پانچ واہمے

ہندوستان کی لگائی ہوئی جنگ اسی کو لے بیٹھی۔پاکستان کو اللہ کریم نے فتح سے ہمکنار کیا۔پاکستان اس وقت اپنی فتح کا جشن منارہا ہے۔یہ فقط فتح کا جشن نہیں بلکہ اللہ کا شکرانہ ہے۔بے شک اللہ کریم کا یہ انعام ہے پاکستان پر ورنہ جنگ سے پہلے کے حالات دیکھیں تجزیے دیکھیں۔ پاکستان اور ہندوستان کی افواج کا تعداد اور جنگی سازوسامان میں موازنہ کرلیں۔ظاہری طورپر ہر اشارہ ہندوستان کی برتری طرف تھا۔دونوں ممالک میں توازن توالگ ،مقابلہ بھی کوئی کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن ایک چیز جس میں پاکستان کو نہ صرف برتری حاصل بلکہ ہندوستان دوردور تک کہیں مقابل نہیں تھا ۔وہ تھا قوم کا جذبہ،وہ تھی ہماری مسلح افواج کی تربیت،وہ تھا ہمارے جوانوں کا حوصلہ ۔وہ تھا ہماری قومی سیاسی قیادت اور حکومت کا عزم ۔بس اسی جذبے ،حوصلے،عزم اور تربیت نے یہ جنگ لڑی اور فتح اللہ کریم نے انعام کی صورت ہماری قوم کو عطا کر دی۔ شکر اللہ کریم کا۔ جنگ ہندوستان نے لگائی ،حملہ پہلے ہندوستان نے کیا ۔ظاہری طورپراگر دیکھیں تو حملہ پہلے وہ کرتا ہے جس کو اپنی طاقت کا وہم ہو۔اور وہم بھی اتنا زیادہ کہ یقین ہوکہ ادھر حملہ کریں گے اُدھر ہم اس ملک کا خاتمہ کردیں گے ۔کچھ اسی زعم اور وہم میں مبتلا ہوکر بھارت نے یہ قد م اٹھایا لیکن نتیجہ اس کے لیے بہت ہی بھیانک نکلا۔پاکستان نے پانچ گھنٹے کی اس جنگ میں ہندوستان کے پانچ بڑے وہم دور کرکے اس کو آسمان سے زمین ہی نہیں بلکہ زمین کے اندرگاڑدیا ہے۔آئیے آج ذراہندوستان کے ان پانچ واہموں کے دورہونے کی کہانی لکھتے ہیں۔
پہلا وہم: ہمارے ہمسائے نے شروع سے ہی ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ہمیں (اپنی دانست)میں ہمیشہ کم ترجانا۔ہندوستان کو یہ وہم ہوگیا تھا کہ اس کی جنگی طاقت پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وہم کی وجہ اسرائیل سے حاصل کیے گئے ڈرونز اور فرانس سے حاصل کیے گئے رافیل جنگی طیارے تھے۔جب پلوامہ کے بعد ہندوستان نے ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو ہم نے بھارت کا مِگ 21 نہ صرف مار گرایا بلکہ اس کے پائلٹ ابھینندن کو بھی زندہ پکڑکر دنیا کے سامنے بھارت کی ہزیمت کی تصویرکے طورپر پیش کردیا ۔اس وقت ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی نے کہا تھا کہ کاش ان کے پاس رافیل ہوتے(اس وقت رافیل کی ڈیل چل رہی تھی اور ہندوستان کو یہ جہاز ملنے میں ابھی کچھ وقت تھا)تو پھر دیکھتے پاکستان کیسے ہمارا جہازمار گراتاہے۔وہ کم عقل یہ کہاں جانتا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ تو شاید اسی دن اور لمحے کے انتظار میں تھی کہ کب بھارت رافیل حاصل کرے اور کب اس کو جنگ میں اتارے اور کب ہم اس کا شکار کریں۔ ہندوستان کا یہ وہم تھا کہ رافیل اہم تھالیکن جونہی ہندوستان نے پاکستان پر حملے کے لیے رافیل کو فضا میں بھیجا اسی وقت پاکستان نے ایک نہیں تین رافیل طیار ے گراکر بھارت اور مودی کا یہ وہم پہلے ہی جھٹکے میں دورکردیا۔یہ وہم اس قدر دور ہوا کہ اس کے بعد حالات کتنے زیادہ سنگین اور کشیدہ رہے یہاں تک کہ پاکستان نے جوابی حملہ بھی کیا لیکن ہندوستان نے دوبارہ رافیل کو اڑانے کی جرأت نہیں کی۔بلکہ رافیل کو پاکستان کے بارڈر کے قریب ہوائی اڈوں سے پیچھے ہٹاکر اپنی مشرقی سرحدوں کے قریب واقع ہوائی اڈوں کے ہینگرزمیں کھڑا کردیا۔
دوسرا وہم:ہندوستان کو ایک وہم یہ بھی تھا کہ اس کے پاس اسرائیل سے حاصل کیے ہوئے جدید ڈرونز ہیں۔ اسرائیل ان ڈرونز کو نہتے فلسطینیوں کے خلاف استعمال کرکے ہندوستان پر ان کی دھاک بٹھاچکا تھا ۔ہندوستان کو وہم ہوگیا تھا کہ وہ بھی پاکستان کیخلاف ڈرون استعمال کرے گا تو جواب میں پاکستانی بھی نہتے فلسطینیوں کی طرح زیادہ سے زیاہ پتھر مارلیں گے لیکن ہندوستان کا یہ وہم پاکستان نے اس وقت دور کردیا جب اس کے بھیجے گئے اسی سے زائد ڈرونز مار گرائے گئے۔ یہاں تک کہ ایسے بے مثال مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ افواج کے ساتھ شہری اپنی بندوقیں اٹھائے ان ڈرونز کو مارتے دکھائی دیئے۔
تیسرا وہم: ہندوستان کو ایک وہم یہ بھی تھا کہ اس کے پاس روس سے حاصل کیا گیا میزائل دفاعی نظام ایس 400ہے تو اب وہ ا یسے ہی محفوظ ہے جس طرح اسرائیل،امریکا اور روس دفاعی نظام کے نیچے محفوظ ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے سات مئی کو شرارت کی بڑی وجہ یہ بھی تھی اس کو وہم تھا کہ ہم پاکستان پر حملہ کریں گے لیکن اگر پاکستان نے جوابی حملہ کربھی دیا تو ہمارا میزائل دفاعی نظام اس حملے کو ناکام بنادے گا ۔لیکن ہندوستان کا وہ وہم بھی اسی دن دورہوگیا جب پاکستان کے جے ایف 17تھنڈرپر ایک شاہین نے اڑان بھری اور ہائپر سونک میزائل کے ساتھ ایس 400کا بیٹری سسٹم برباد کرکے اس دفاعی نظام کو ناکارہ کردیا۔ اس دفاعی نظام کا ناکارہ ہوناتھاکہ پاکستان کے ڈرونز بھارتی دارلحکومت دلی تک پہنچ گئے اور بھارت سیز فائر کی بھیک مانگنے امریکا پہنچ گیا۔
چوتھا وہم:ہندوستان کو یہ وہم بھی ہوگیا تھا کہ اس کی سفارتکاری بہت جاندار ہے۔پوری دنیا اس کی بات سنتی ہے اور پاکستان دنیا میں سفارتی طورپرتنہا ہے۔پاکستان کو سفارتی طورپرتنہاکرنے کا پراجیکٹ ہندوستان نے دوہزار چودہ میں شروع کیا تھا جب اجیت دودل کو مودی نے اپنانیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بنایا۔ اجیت دودل نے آتے ہی تھیوری پیش کی کہ پاکستا ن کو’’ ڈیفنسو اوفینس‘‘ کے تحت سفارتی طورپرتنہا کردیا جائے تاکہ پاکستان کسی قابل ہی نہ رہے۔پاکستان نے پہلگام کو پوری دنیا میں فالس فلیگ ٓپریشن ثابت کرکے۔پاکستان کو بطورامن پسند اور ہندوستان کو ایک جارح ملک کے طوپر دنیا سے منواکرہندوستان کا یہ وہم بھی دور کردیا۔یہ وہم تو اس قدر دورہوا ہے کہ اس وقت سوائے اسرائیل کے دنیا کا کوئی ملک ہندوستان کے ساتھ نہیں ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ امریکی صدر روز کسی نہ کسی بہانے سے پاکستان کی قیادت کی تعریف کردیتا ہے۔
پانچواں وہم:ہندوستان نے ایک یہ وہم بھی پال لیا تھا کہ وہ آئی ٹی انڈسٹری کا بادشاہ ہے۔اس کا وہم تھا کہ دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز بھارتی نژاد ہیں اس لیے دنیا میں اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔جنگ کیا ہوئی پاکستان نے ہندوستان کا یہ وہم بھی لگتے ہاتھ ہی دورکردیا۔ وہم بھی اس طرح دور کیا کہ ایک طرف پاکستان کی مسلح افواج ہندوستان پر آگ کی بارش کررہی تھیں تو دوسری طرف پاکستان کے آئی ٹی کے نوجوان سائبر وارئیرز کا روپ دھارکر ہندوستان کی مضبوط آئی ٹی انڈسٹری کی بنیادیں کھوکھلی کرچکے تھے۔پاکستان کے انہی آئی ٹی کے نوجوانوں نے ہندوستان کی پچیس سو سے زائد ویب سائٹس کو ہیک کرکے الگ ہی جنگی کام شرو ع کررکھا تھا۔ان میں سے ہندوستان کی متعدد سٹرٹیجک ویب سائٹس بھی شامل تھیں۔یہاں تک یہ نوجوان مہاراشٹرا اسٹیٹ پاور کمپنی کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میںلے چکے تھے۔آئی ٹی کا بادشاہ ہونے کا وہم پالنے والا ہندوستان اس سائبر حملے کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوگیا یوں ہم نے یہ وہم بھی دورکردیا۔یہ اللہ کریم کا ہی کرم ہے کہ ایک جنگ نے دشمن کے اتنے وہم ایک ساتھ دور کر دیئے۔

ٹیگز: