بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات وہی کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے جو سب سے کم دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے ایک ایسا ہی کردار ادا کیا ہے۔خاموش، محتاط مگر اثر انگیز۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جب دنیا کی نظریں کسی بڑے تصادم کے خدشے پر مرکوز تھیں، پاکستان نے پسِ پردہ سفارت کاری کے ذریعے ایک متوازن اور مفاہمتی راستہ اختیار کیا۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے، جنہوں نے عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی متحرک کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب محض رسمی نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح سفارتی ایجنڈا کارفرما تھا۔ سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں انہوں نے خطے کی بدلتی صورتحال، ایران کے ساتھ تناو¿ اور ممکنہ تصادم کے نتائج پر کھل کر بات کی۔ پاکستان کی یہی کوشش تھی کہ مسلم دنیا ایک اور اندرونی محاذ آرائی سے بچ سکے۔ اسی سلسلے میں محمد بن سلمان کے ساتھ ہونے والے روابط کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں علاقائی استحکام اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا گیا۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ پاکستان نے اپنے تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی پیدا کی۔ عین اس وقت جب جنگ پھیل رہی تھی پاکستان نے اپنے برادر ملکوں سعودی عرب اور ایران کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا۔دونوں کو سمجھایا کہ یہ اسرائیل کی لڑائی ہے جو ان کے گھر تک آپہنچی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آئے، جو نہ صرف داخلی سطح پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ علاقائی سفارت کاری میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ پاکستان، ترکیہ،مصر اور دیگر ممالک کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں رہے، تاکہ کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔سعودی قیادت نے پاکستان کے موقف کو سمجھا اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔یہ ایک نئے علاقائی اتحاد کی بنیاد ہے جو پاکستان کی پر خلوص کوششوں سے رکھ دی گئی ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا گیا۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے رپورٹروں کی ایک ٹیم نے مشترکہ طور پر ایک سٹوری پر کام کیا۔ لندن، نیو یارک، تل ابیب سمیت کئی اہم شہروں میں بیٹھے ان رپورٹروں نے جس چیز کی مشترکہ طور پر تحسین کی وہ پاکستان کا متحرک و فعال کردار ہے۔یہ تمام رپورٹر تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی جنگ کو روکنے کے لئے سفارتی و عسکری سطح پر رابطے بہت موثر ثابت ہوئے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے علاوہ بعض دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ پاکستان نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ اسی طرح امریکہ میں اہم حلقوں کے ساتھ رابطوں کے ساتھ خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا رابطہ ہوا، اس ٹیلی فونک رابطے میں ہی بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے اپنی شرائط بتائیں جبکہ پاکستان نے ایرانی شرائط صدر ٹرمپ کے سامنے رکھیں۔ امریکی انتظامیہ کے بعض افراد کا ذکر بھی سامنے آیا، جن سے ممکنہ شرائط اور جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہاں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے سیاسی سطح پر ان روابط کو آگے بڑھایا اور مختلف عالمی رہنماو¿ں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کے ذریعے پاکستان کے مو¿قف کو واضح کیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان تک پیغامات کی ترسیل اور امریکی شرائط کی وضاحت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے ان مذاکرات کے ایجنڈے کی تفصیلات،جیسے ایران کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے،جنگ کا تاوان، آبنائے ہرمز کی حیثیت، یا جوہری پروگرام کے حوالے سے شرائط زیرِ بحث لائی جا رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے حساس معاملات پر حتمی پیش رفت ہمیشہ طویل اور پیچیدہ عمل کے بعد ہی سامنے آتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے مطالبات اور ایران کا اپنے دفاعی و معاشی مفادات پر اصرار، اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔تاہم اس سارے منظرنامے میں پاکستان کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے خود کو ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر منوایا ہے۔ ایک ایسا ملک جو بیک وقت سعودی عرب، ایران اور امریکہ جیسے اہم فریقین کے ساتھ رابطہ رکھ سکتا ہے، یقیناً سفارتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کے مقابلے میں اپنی سفارتی پوزیشن کو زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی ہے۔ جہاں بھارت خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے، وہیں پاکستان نے ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کو اپنی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔لیکن اس تمام تر کامیابی کے باوجود اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ سفارت کاری وقتی بیانات سے نہیں بلکہ پائیدار نتائج سے جانی جاتی ہے۔ پاکستان کو اپنی داخلی سیاسی و معاشی صورتحال کو مستحکم کرنا ہوگا تاکہ اس کی عالمی سطح پر ساکھ مزید مضبوط ہو سکے۔ کیونکہ ایک مضبوط اندرونی ڈھانچہ ہی مو¿ثر خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔بھارت کے ساتھ معرکہ حق ، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد یہ پاکستان کی تیسری عالمی کامیابی ہے۔ اگر یہ سفارتی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ پوری مسلم دنیا میں ایک مثبت، متوازن اور مو¿ثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر حقیقت پسندانہ تجزیے کو اپنائیں۔