مئی 2025 ء کی مختصر مگر نہایت شدید جنگ کے بعد، پاکستان نے چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عظیم ترین فوجی عہدے پر فائز کر دیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے اس تاریخی فیصلے نے ایک ایسے کمانڈر کو قومی سلامتی کا محافظ تسلیم کیا، جس کی قیادت نے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔یہ عہدہ اب تک صرف ایک بار پاکستان میں دیا گیا تھا — جنرل ایوب خان کو۔ اب جنرل سید عاصم منیر اس فہرست میں شامل ہو کر پاکستانی عسکری تاریخ کا درخشندہ ستارہ بن چکے ہیں۔
جنگ کی ابتدا: ایک پرانا بہانہ، ایک نیا محاذ:اپریل 2025ء میں سری نگر/پہلگام ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے میں 26 غیر ملکی سیاح مارے گئے۔ بھارت نے فوری طور پر بغیر کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر عائد کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے روایتی انداز میں شور و غل مچا کر الزام تراشی کی مہم شروع کی۔نریندر مودی حکومت نے اس سانحے کو ایک موقع جانا …نہ کہ سفارتی یا تحقیقاتی پہلو سے بلکہ جنگی تیاری کے طور پر۔ بھارتی نیوز چینلز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اور حکومتی بیانات نے فضا کو جنگی رنگ دے دیا۔پاکستان نے فوری طور پر الزام کی تردید کی اور بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا، مگر بھارتی پروپیگنڈہ مشینری اپنی رفتار پر رواں رہی اور پھر، 6 اور 7 مئی کی راتوں میں بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں پر بغیر کسی اعلان کے فضائی و میزائل حملے کر دیے ۔ایک غیر اعلانیہ جنگ کا آغاز۔
آپریشن بنیانْ المرصوص: پاکستانی ردِعمل کی حکمت اور ہیبت:جنرل عاصم منیر کی زیرِ قیادت پاکستان نے نہایت برق رفتاری سے آپریشن بنیانْ المرصوص کا آغاز کیا۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد صرف دفاع نہیں بلکہ دشمن کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا تھا۔چند گھنٹوں کے اندر اندر پاکستانی افواج نے:بھارت کا ایس-400 دفاعی نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا۔فضائی کارروائیوں میں تین رافیل، دو مگ-29، اور ایک میراج طیارہ مار گرایا گیا۔70 سے زائد ڈرون، جن میں اسرائیلی ’’ہیروپ‘‘اور ’’ہیرون‘‘ شامل تھے، زمین بوس کر دیئے گئے۔ براہموس میزائل (بھارت اور امریکہ کا مشترکہ منصوبہ) کو فضا میں ناکارہ بنا دیا گیا۔پاکستانی ساختہ ’’الفاتح II ‘‘میزائل اور چینی J-10C طیارے اس جنگ کے ستارے بن کر ابھرے، جنہوں نے بھارتی فضائی برتری کے تمام دعوے چکنا چور کر دیئے۔PL-15 میزائلز، JF-17 تھنڈر بلاک III اور J-10C کے ہم آہنگ استعمال نے ایک مربوط فضائی دفاع کا مظاہرہ کیا، جس کی مثال جنوبی ایشیاء میں اس سے قبل نہیں دیکھی گئی۔
پروپیگنڈا جنگ: میڈیا کا محاذ اور پاکستان کا مؤثر جواب،جنگ کے ساتھ ساتھ ایک اور محاذ بھی گرم تھا، اطلاعات و بیانیے کی جنگ۔بھارتی میڈیا نے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی جس میں پاکستان کو جارح اور بھارت کو مظلوم دکھانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ سوشل میڈیا پر #SurgicalStrike2، #PunishPakistan جیسے ہیش ٹیگز ٹاپ پر رہے۔ جعلی ویڈیوز، گمراہ کن تجزیے، اور جھوٹے دعوے عالمی سطح پر پھیلائے گئے۔
مگر پاکستان نے اس بار بھرپور تیاری کے ساتھ جواب دیا۔ آئی ایس پی آر، سائبر سکیورٹی اداروں، اور قومی انفلوئنسرز نے فوری، مدلل، اور شواہد پر مبنی بیانیہ پیش کیا۔ زمین سے براہِ راست ویڈیوز، مقامی صحافیوں کی رپورٹنگ، اور غیر جانبدار سیٹلائٹ تصاویر نے دنیا کو اصل کہانی دکھائی۔نتیجہ: بین الاقوامی میڈیا کا جھکاؤ بھارت کے جھوٹے دعوؤں سے ہٹ کر پاکستان کے موقف کی جانب بڑھا۔ الجزیرہ، چین کا CGTN اور روسی RT جیسے اداروں نے بھارت کے بیانیے پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔
ایک مختصر جنگ، مگر مکمل پیغام:یہ جنگ صرف 87 گھنٹے جاری رہی… لیکن اس کا اثر برسوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔10 مئی کو امریکی ثالثی کے تحت جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ دونوں ممالک نے بظاہر ضبط(باقی صفحہ 4بقیہ نمبر1)
کا مظاہرہ کیا، مگر جیت پاکستان کے نام لکھی جا چکی ہے ،بھارت کے چار بڑے دفاعی اتحادیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا: فرانس کے رافیل طیارے گرائے گئے،اسرائیلی ڈرون و میزائل ناکام،روسی S-400 ناکارہ،امریکی براہموس میزائل تباہ،جبکہ پاکستان نے اپنے مقامی ہتھیاروں اور چینی شراکت سے حاصل کردہ ٹیکنالوجی کا شاندار استعمال کیا۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر: عزم، حکمت، اور قیادت کا نشان:جنگ کے اختتام پر جنرل عاصم منیر ایک سپہ سالار کے ساتھ ساتھ قوم کے اتحاد اور فہم کا استعارہ بن چکے تھے۔ آپ کی زیرِ نگرانی ملٹی-تھیٹر، الیکٹرانک وارفیئر، اور جدید ترین ٹیکنیکل ہم آہنگی نے جنگ کو محض دفاعی نہیں بلکہ فیصلہ کن بنا دیا۔وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر آپ کو فیلڈ مارشل کے منصب پر فائز کر کے نہ صرف عسکری تاریخ میں آپ کا نام روشن کیا بلکہ قوم کی طرف سے ایک واضح پیغام بھی دیا۔’’یہ میرے لیے نہیں، پوری قوم کے لیے اعزاز ہے۔ یہ ان لاکھوں عاصموں کی قربانیوں کا صلہ ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے جان دی۔‘‘
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،شہداء کا لہو اور قوم کی فتح:اس جنگ میں 53 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں 13 فوجی اور 40 عام شہری شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے تمام شہدائ، غازیوں، اور سویلین خدمات انجام دینے والوں کو سرکاری اعزازات سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ایئر چیف مارشل زہیر احمد بابر سدھو کی خدمات میں بھی توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔
اختتامیہ: ایک نیا باب، ایک نئی حکمتِ عملی:فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تقرری ایک فردِ واحد کا اعزاز نہیں بلکہ پاکستانی ریاست کا بیانیہ ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ جدید دور کی جنگوں… بشمول سائبر، میڈیا، اور روایتی محاذ… پر بھی مکمل مہارت رکھتا ہے۔آپریشن بنیانْ المرصوص صرف ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ ایک عہد کا آغاز ہے … وہ عہد جس میں پاکستان سیاسی بلوغت، عسکری مہارت، اور قومی اتحاد کے ساتھ دنیا کے سامنے سربلند کھڑا ہے۔