Wed, September 16, 2026

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

 وزیر اعظم محترم میاں شہبازشریف نے بدھ کو مختلف فوجی چھاﺅنیوں کے دور کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہندوستان سے 71کی جنگ کا بدلہ لے لیا ہے ۔ ہم میاں صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور میاں صاحب کو یاد دلاتے ہیں کہ 1971میں ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جو سازش کی تھی اور جس جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہوا تھا اس جنگ میں انڈین آرمی کی کمان جنرل مانک شا کر رہے تھے اور ہندوستان نے انھیں اس کارنامہ پر فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا تھا تو آج پاکستان کو اپنے سے دس گنا بڑے ازلی دشمن کے خلاف جو ایک عظیم الشان فتح نصیب ہوئی اور جتنے کم وقت میں ہوئی اس کی مثال کم از کم حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی اور اگر کسی کو کوئی شبہ ہے تو وہ روس اور یوکرین کی جنگ سے اندازہ لگا لے کہ کہاں روس اور کہاں یوکرین لیکن یوکرین صلح پر بھی آمادہ نہیں ہو رہا جبکہ فقط پانچ گھنٹوں میں ہندوستان نے اس طرح گھٹنے ٹیک کر ٹرمپ سے جنگ بندی کی اپیلیں شروع کر دیں کہ اب ہندوستان میں مودی کو نریندر مودی نہیں بلکہ سرینڈر مودی کہا جاتا ہے ۔ آج کی تحریر میں پاک بھارت کشیدگی یا آنے والوں دنوں میں کیا ہونے جا رہا ہے اس پر بات نہیں ہو گی بلکہ اس فتح مبین کے جو ہیروز ہیں ان کے حق کی بات ہو گی اور جو دنیا بھر میں حق دیا جاتا ہے اور اس کا بھی ذکر ہو گا ۔ سب سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر جو اس وقت پاکستان کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت بن چکے ہیں اور ان کی قیادت میں عسکری قیادت میںہندوستان جو پاکستان سے دس گنا بڑا دشمن ہے کو جس طرح انتہائی مختصر وقت میں جو عظیم الشان فتح ملی اس پر حکومت کو انھیں فیلڈ مارشل کا اعزاز دینا چاہئے ۔ دوسرا اس فتح میں پاکستان کی فضائیہ نے بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے جس میں ہندوستان کی 26ایئر بیس کو ٹارگٹ کیا گیا جن میں اڑی ، پٹھان کوٹ ، ادھم پور ، آدم پور ، سورت گڑھ ، اونتی پورہ اور راجوری ۔ اس کے علاوہ بیاس اور اونتی پورہ میں براہموس میزائلوں کے اڈوں کو تباہ کیا گیا اور سب سے اہم آدم پور ایئر بیس پر S-400سسٹم کو تباہ کیا گیا جس کے بعد ہندوستان دفاعی لحاظ سے اندھا اور بہرہ ہو گیا ۔ لہٰذا پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کو ”مارشل آف دی ایئر فورس “ کے اعزاز سے نوازا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو بھی ” ایڈمرل آف دی فلیِٹ “ کا اعزاز دیا جائے کیونکہ پوری دنیا کے میڈیا پر بریکنگ نیوز کی شکل میں یہ خبر پھیلی کہ ہندوستان کا بحری جہاز پاکستان کی سمندری حدود سے تین سے چار سو ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر کراچی پورٹ کو ہٹ کرنے کے لئے کھڑا ہے لیکن جیسے ہی پاکستان نیوی کے شیر حرکت میں آئے تو اسے اس سے آگے آنے یا غلط قدم اٹھانے کی جرا¿ت نہیں ہوئی ۔
 ہم نے کوئی انوکھا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے انڈیا نے جنرل مانک شاءکو اور برطانیہ نے برنارڈ منٹگمری کو ، جرمنی نے ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور ہیں انھیں، امریکہ نے ڈگلس میک آرتھر کو اور کئی دیگر کو یہ اعزاز ملا ہے ۔ یہ فتح فقط ایک فتح نہیں ہے بلکہ فتوحات کا ایک مجموع ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ جب مودی نے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کیا تھا اور پلوامہ کا واقعہ ہوا تھا تو ہمارے ساتھ دنیا کا کوئی ایک ملک بھی کھڑا ہونے کو تیار نہیں تھا لیکن اس بار دنیا کس طرح پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے کہ ہندوستان نے ترکی اور آزربائیجان کا سیاحتی بائیکاٹ کر دیا ہے اور جو نقد نتیجہ نکلا ہے وہ تو یہ ہے کہ اس خطے سے ہندوستان کی جو جعلی اور خود ساختہ چودھراہٹ تھی اس خاتمہ بالخیر ہو گیا ہے ۔ پاکستان نے تو ہندوستان کی اس نام نہاد چودھراہٹ کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا لیکن اب حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد بنگلا دیش بھی اس سے انکاری ہو گیا ہے جبکہ سری لنکا پہلے ہی اس حوالے سے پاکستان کا ہمنوا ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا ہے اور کسی للو پنجو نے نہیں بلکہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور کے صدر نے اس کے حل میں کردار ادا کرنے کی بات کی ہے ۔
یہ کس حد تک اہم ہے اس کا اندازہ انڈین میڈیا کے ٹرمپ پر جو تبرے بھیجے جا رہے ہیں ان سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ پوری دنیا پر پاکستان کی افواج اور خاص طور پر پاکستان کی ایئر فورس اور سائبر کے حوالے سے دھاک بیٹھ چکی ہے کہ ہندوستان کی 70% بجلی بند ہو گئی تھی اور دنیا نے اب افواج پاکستان کو دنیا کی بہترین افواج میں شامل کر لیا ہے ۔ اسرائیلی ڈرون کی ٹیکنالوجی ۔ ساﺅتھ ایشیا میں اب پاکستان کی مرضی کے بغیر اس خطے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو گا ۔ جس مہارت سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے اس پر پوری دنیا حیران ہے ۔ پاکستان کی جنگی ٹیکنالوجی دنیا کے بہت سے ممالک بھی خریدنے کو تیار ہوں گے ۔پھر مودی ایسے شخص کہ جب سے یہ اقتدارمیں آیا ہے اس خطے کا امن خطرے میں ہے اس کی سیاست کو جو زبردست جھٹکا لگا ہے اس سے اس موزی سے جان چھوٹنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ فتح کے بعد جس طرح قوم افواج پاکستان اور خاص طور پر جنرل عاصم منیر کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کا اظہار کر رہی ہے تو اس سے پاکستانی سیاست میں بھی استحکام آئے گا ۔

ٹیگز: