چوپال میں بیٹھا ہر شخص ایک دوسرے کی اشک شوئی اور دلجوئی کررہا تھا لیکن چاچا رفیق کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ ایک دو بار نتھو اور پھتو نے چاچا رفیق کو بلانے کی کوشش کی لیکن چاچا جی کسی سے بات نہیں کررہے تھے اور چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے۔ اسی اثنا میں چپ سائیں کی لاٹھی ٹیکنے کی آواز سنائی دی۔چپ سائیں نے دھیمے لہجے میں سب کو سلام کیااور چارپائی پر بیٹھ گئے۔چوپال میں سب لوگ احتراماً خاموش ہوگئے اور ہر طرف سکوت طاری ہوگیا۔
چپ سائیں سانس بحال کرنے کے بعد گویا ہوئے۔۔۔ کیا حال ہے بھئی دوستو!۔۔۔ سب کیسے ہو؟۔۔۔ نتھو اور پھتو فوراً بولے سائیں جی باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن آج چاچا رفیق کسی گہری سوچ میں گم ہیں اور کسی سے کوئی بات ہی نہیں کررہے۔۔۔ چپ سائیں نے فوراً چاچا رفیق کی طرف دیکھ کر کہا بھئی رفیق خیر تو ہے؟۔مزاج بخیر۔۔۔چاچا رفیق نے ٹھنڈی آہ بھری ، سائیں جی کی طرف دیکھا اور بولے۔۔صدقے جائو ں بیٹیوں کے۔۔۔۔! جو بیٹوں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ چاچا رفیق کا یہ کہنا تھا کہ سائیں جی بات سمجھ گئے لیکن پھر بھی چاچا رفیق کے زبانی سننا چاہتے تھے۔ خیر تھوڑی دیر بعد چاچا رفیق بولے۔۔ سائیں جی آپ جانتے ہیں کہ میری پوتی رجو(فرضی نام) نے خیر سے دس جماعتیں پاس کرلی ہیں، سائیں جی نے اثبات میں سرہلایا۔چاچا رفیق پھر چپ کر گئے۔۔۔سب ان کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ وہ لب کشائی کریں اور اگلی بات کریں۔ چاچا رفیق نے کہاکہ سائیں جی رجو کی ایک سہیلی شانو(فرضی نام )نے دسویں جماعت میں پورے 78 فی صد نمبر حاصل کیے تھے۔ ا سکی گھر کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔ اس کا والد ایک ریڑھی بان ہے لیکن بچوں کی جیسے تیسے کرکے اچھی تربیت کررہا ہے۔ شانو نے دس جماتیں کرکے انتہائی کم معاوضے پر محلے کے ایک سکول میں ہیلپنگ ٹیچر کی ملازمت کرلی۔بچی انتہائی لائق اور سمجھدار تھی اسی وجہ سے بھرتی ہوگئی۔۔ تین چار ماہ تک تو سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر اچانک۔۔۔ اس کی سکول کی نوکری چلی گئی۔۔۔۔ اس وجہ سے تواس پر قیامت صغریٰ ہی برپا ہوگئی۔۔۔ تھوڑا بہت معاوضہ جو اسے ملتا تھا اس وجہ سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔۔ وہ بھی بند۔۔۔۔ اس بچی نے اس بات کا دل پر بہت اثر لیااور گم سم ہوگئی۔۔حق ہو۔۔۔۔ بس میں اسی بات کو لے کر شدید پریشان ہوں اور میرا دھیان بار بار اس بچی کی طرف جارہا ہے۔
چپ سائیں نے ساری بات سنی اورکہا رفیق بھائی۔۔۔چھوٹی عمر میں بیٹی کا ٹیچر بن کر گھر کی کفالت کرنا ایک بہت ہی حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ بھائی دوستو! ۔۔۔ چپ سائیں نے با آواز بلند کہا ۔۔۔کئی مرتبہ بیٹیاں کم عمری میں اپنے خاندان کی مدد کے لیے کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، خصوصاً اگر خاندان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنی تعلیم اور ذاتی زندگی کو نظرانداز کرکے گھر کی کفالت کرنے کی ذمہ داری اٹھا لیتی ہیں۔صاحبو! معلمہ یا استانی کا پیشہ قابل عزت ہے لیکن کمبخت عمر آڑے آجاتی ہے۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ کم عمر اساتذہ سے اکثر زیادہ کام کی توقع کی جاتی ہے۔ انہیں یہ سب کرنے کے باوجود ان کی توقع کے مطابق معاوضہ تو نہیں ملتا لیکن اتنا مل جاتا ہے کہ ان کی کچھ چھوٹی موٹی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں ۔
دوستو! یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ کم عمر لڑکیاں جو ٹیچر بنتی ہیں، انہیں بعض اوقات اپنے پیشے کی اہمیت اور وقار کا کم خیال رکھا جاتا ہے، اور ان کی محنت کا مناسب اعتراف نہیں کیا جاتا۔معاشرہ اکثر کسی بھی کم عمر لڑکی کو ایک استاد کے طور پر کام کرنے کو غیر روایتی یا غیر معمولی سمجھتا ہے۔ ’’ آپ ناتجربہ کار ہیں‘‘۔۔۔ ایسے جملے اس عمر میں سننے کو مل اکثر دل اور جگر کو چیر کر رکھ دیتے ہیں اور کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔
صاحبو !ایسی صورتحال میں اجتماعی سوچ کو بدل کر حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تاکہ بچی کے دل میں ہمیشہ معاشرتی کرداروں کا احترام رہے ۔بیٹی یا بیٹا بن کر خدمت کرنا ایک بہت حساس اور ثقافتی حوالے سے گہرا موضوع ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے والدین کا خیال رکھیں، خصوصاً جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بیٹیاں والدین کی خدمت میں ایک خاص محبت اور قربانی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جب بیٹیاں چھوٹی عمر میں ہی والدین کا ہاتھ بٹاتی ہیں، تو یہ ایک ذمہ داری بن جاتی ہے۔ کچھ خاندانوں میں بیٹیوں کو گھریلو کاموں، جیسے کھانا پکانا، صفائی، اور دیگر امور میں ہاتھ بٹانے کی توقع کی جاتی ہے، خاص طور پر اگر والدین کو مالی یا جسمانی مشکلات کا سامنا ہو۔ بعض معاشروں میں یہ مانا جاتا ہے کہ بیٹیاں اپنے والدین کا خیال رکھیں گی، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں۔ بیٹیوں کے لیے یہ ایک طرح کا فرض بن جاتا ہے جسے وہ اپنی زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔
بقول شاعر
کام کے بوجھ میں بچپن گم ہو جاتا ہے
بیٹی کا دل پھر بھی چمکتا ہے
محنت کا رنگ جب تک نہیں ملتا
تب تک بیٹیوں کا دکھ بڑھتا ہے
صاحبو!ان اشعار کی روشنی میں اگر بات کی جائے تو یہ تلخ حقیقت کی عکاسی ہے کہ جب بچہ، خاص طور پر بیٹی، کام کے بوجھ میں جھک جاتا ہے تو اس کا بچپن دھیرے دھیرے ختم ہوتا جاتا ہے۔ بچپن ایک وقت ہوتا ہے جب بچے کو کھیلنے، سیکھنے، اور لطف اٹھانے کا پورا حق ہوتا ہے، لیکن جب بیٹیاں چھوٹی عمر میں کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، تو ان کا بچپن اس بوجھ تلے دب کر غائب ہو جاتا ہے۔ وہ ذمہ داریوں اور کاموں میں اتناڈوبا ہوا محسوس کرتی ہیں کہ ان کے پاس بچپن کے وہ لمحات نہیں رہ پاتے جن سے وہ خوشی محسوس کر سکیں۔اگرچہ بیٹیاں محنت اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب چکی ہوتی ہیں، لیکن ان کے دل کی چمک اور حوصلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ان کے دل میں محبت، امید، اور عزم کی چمک ہمیشہ برقرار رہتی ہے، جو انہیں مشکلات اور دکھوں کے باوجود آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔۔۔۔اللہ کریم ہمیں آسانیاں پیدا کرنے اور بانٹنے کی توفیق دے ۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا !۔۔۔