Wed, September 16, 2026

جوان بیٹیاں کیوں مر جاتی ہیں؟

جوان بیٹیاں کیوں مر جاتی ہیں؟

زندگی میں کچھ صدمات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف دل بلکہ انسان کی پوری ہستی کو چیر دیتے ہیں۔ بیٹی کی موت انہی صدمات میں سب سے کٹھن اور اذیت ناک ہے، اور اگر وہ بیٹی جوان ہو، تو یہ دکھ ایک ایسا زخم بن جاتا ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔ بیٹی والدین کے لیے خواب اور امید کا پیکر ہوتی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں خوشی، اس کی آنکھوں میں مستقبل کی روشنی، اور اس کے قدموں میں گھر کا سکون ہوتا ہے۔ جوان بیٹی کے چہرے پر آنے والی بہاریں ماں باپ کو آنے والے کل کا سہارا دکھاتی ہیں۔ مگر جب اچانک یہ روشنی بجھ جائے، تو والدین کی دنیا اندھیرے میں ڈوب جاتی ہے۔ ماں کے لیے بیٹی صرف اولاد نہیں، بلکہ ایک سہیلی، راز دار اور زندگی کی تکمیل ہوتی ہے۔ بیٹی کے بغیر ماں کا کچن خالی ہو جاتا ہے، کمرے کی خوشبو مٹ جاتی ہے اور باتوں کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ماں اکثر چپ چاپ بیٹی کا سامان سنبھالتی رہتی ہے، اس کے کپڑوں کو سونگھتی ہے اور رات کو اس کی یاد میں تکیہ بھیگ جاتا ہے۔ باپ کے لیے بیٹی ایک نازک امانت ہوتی ہے۔ وہ اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے خوش دیکھ کر اپنی زندگی کا مقصد پورا سمجھتا ہے۔ مگر جوان بیٹی کے جنازے کو کندھا دینا باپ کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس لمحے باپ کو اپنی قوت، اپنی مردانگی اور اپنی برداشت سب ٹوٹتی محسوس ہوتی ہے۔ جوان بیٹی کے مرنے کے بعد گھر کی فضا بدل جاتی ہے۔ وہ ہنسی، وہ قہقہے، وہ شور سب ایک دم ختم ہو جاتے ہیں۔ کھانے کی میز پر ایک کرسی ہمیشہ خالی رہتی ہے، اور ہر تہوار، ہر خوشی ایک کمی کے احساس کے ساتھ آتی ہے۔ ماں باپ کی دعائیں بھی بدل جاتی ہیں؛ پہلے وہ بیٹی کی خوشیوں کے لیے دعا کرتے تھے، اب صرف اس کی مغفرت کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ ہر کمرہ، ہر چیز، ہر جگہ بیٹی کی یاد دلاتی ہے۔ اس کے سکول کے سرٹیفکیٹ، کپڑے، پسندیدہ کتابیں، حتیٰ کہ اس کی ہنسی کی آواز ماں باپ کے دل کو زخمی کر دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ یادیں کم نہیں ہوتیں بلکہ مزید گہری اور بھاری ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق بیگ رفاہ انٹرنیشنل فیصل آباد کیمپس کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ اردو نظم بھی کہتے ہیں۔ مزاح بھی تخلیق کرتے ہیں اور تحقیق کے شعبے میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پچھلے دنوں انکی بیٹی بلکہ (ہماری بیٹی) میمونہ فاروق جو کہ سیکنڈ ائیر کی طالبہ تھی اور ٹاپر بچی تھی اچانک اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ میمونہ فاروق کو چند دن بخار ہوا مگر انکی جان لے گیا۔ ڈاکٹر فاروق بیگ صاحب کے لیے یہ سانحہ کسی قیامت سے کم نہیں۔ مگر کیا کریں اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانا ہمارا فرض ہے اور فرض سے انکار ممکن نہیں۔ یہ وہ سانحہ ہے جو ہم سب کی روحوں کو فگار کر گیا۔ اسی طرح کا ایک اور سانحہ پروفیسر شائنہ منظور کے ساتھ ہوا۔ میڈم شائنہ منظور ڈسٹرکٹ پبلک سکول اینڈ کالج اوکاڑا میں کیمسٹر ی کی استاد ہیں۔ میڈم شائنہ کو اپنے مضمون پر مکمل عبور ہے۔ میڈم شائنہ کمیسٹری کے امتحانی پرچہ جات کی جانچ پڑتال کر رہی تھیں۔ انکی بیٹی آئمہ فاطمہ بھی سیکنڈ ائیر کی طالبہ تھیں۔ اکیڈمی پڑھنے کے بعد گھر پہنچی۔ رات طبیعت خراب ہوئی۔ ہسپتال لے جایا گیا۔ طبیعت بحال ہو گئی اور گھر واپس آ گئے۔ چند گھنٹوں بعد ہارٹ اٹیک آیا اور جان لیوا ثابت ہوا۔ میڈم شائنہ کے لیے یہ لمحہ قیامت سے کم نہ تھا۔ چند گھنٹے پہلے میم خوش و خرم گھر گئیں اور پل بھر میں دکھوں اور غموں کی بارش نے انہیں بھگو کر رکھ دیا۔ ایسے بے شمار سانحات نے ہمارے بہت سے پیاروں کی زندگیوں کو دکھوں کی دہلیز پر کھڑا کر دیا۔ انکی مسکراہٹوں کو چھین لیا۔ ہمارے معاشرے میں بھی لوگ اکثر ایسے وقت میں دلاسہ دینے کے بجائے غیر ضروری سوالات اور جملوں سے والدین کے زخم ہرے کر دیتے ہیں۔ ’’کیسے ہوا؟ کیا بیماری تھی؟‘‘ جیسے سوال والدین کو بار بار حادثہ یاد دلا دیتے ہیں۔ اسلام میں بیٹی کو رحمت کہا گیا ہے، اور صبر کرنے والے والدین کے لیے اللہ نے عظیم اجر کا وعدہ کیا ہے۔ مگر انسانی دل کا درد الفاظ سے کم نہیں ہوتا۔ والدین زندگی بھر بیٹی کی کمی محسوس کرتے ہیں، لیکن یہی ایمان کہ وہ جنت میں اپنے رب کے پاس ہے، ان کے دل کو کچھ سکون دیتا ہے۔
جوان بیٹی کی موت والدین کی زندگی کا وہ دھچکا ہے جو ان کی دنیا کو بدل دیتا ہے۔ یہ غم وقت کے ساتھ ہلکا نہیں ہوتا، بس انسان اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ بیٹیاں صرف گھروں کو نہیں سنبھالتی، بلکہ والدین کی دنیا کا رنگ، خوشبو اور روشنی بھی ہوتی ہیں۔ اور جب وہ دنیا سے چلی جاتی ہیں، تو یہ سب اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق کی نظم ملاحظہ ہو
’’میمونہ‘‘
زندگی میں کئی دن
اتنے طویل کیوں لگتے ہیں
جب دکھ کی چادر اوڑھی ہو
اور
صبر کا حکم آ جائے
تو دن طویل اور
شبیں بیدار کیوں ہو جاتی ہیں
جب محبت کی رفاقت
جدائی میں بدل جائے
جب چاہا جانے والا رخصت ہو جائے
جب آنسووں کی ندیاں خشک ہونے لگیں 
آزمائشوں کی گھڑیاں ختم ہونے لگیں
یوں لگتا ہو
جیسے
بہار اب کھلنے ہی والی ہے
تو پھر سے
جدائی کا حکم آ جائے

ٹیگز: