Wed, September 16, 2026

بیٹیاں درندوں سے محفوظ نہیں ہیں

بیٹیاں درندوں سے محفوظ نہیں ہیں

کتنے نازوں سے پلتی ہیں یہ بیٹیاں… محبتوں کی پروان لئے ماں باپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہیں یہ بیٹیاں… بابل کے گھر گڈیوں سے کھیلتی چھوٹی عمر سے شادی بیاہ تک گھر کی رونق یہ بیٹیاں…؟ آخری عمر میں باپ کا سہارا بنتی یہ بیٹیاں… جب پیا گھر سدھار جاتی ہیں تو بابل کا ویڑہ خالی کر جاتی ہیں، یہ بیٹیاں… ثناء یوسف بھی ایک باپ کی لاڈلی بیٹی تھی۔ باپ اس کی ہر خوشی پوری کرنے کے لئے اس کی ایک آواز کا منتظر رہتا تھا… بیٹی بڑی ہوتی ہے تو سوشل میڈیا پر وہ ٹک ٹاکر کے طور پر زندگی کے مختلف ایشوز پر بات کرتی ہے۔ لباس سے کھانے کھانے کے ماحول تک کی ویڈیوز بناتی، ڈانس کرتی، مسکراتی دوستوں کو بتاتی تھی۔ اِدھر کبھی اُدھر دوڑتی نظر آتی۔ ثناء یوسف نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ معاشرے کے کسی درندے کے ہاتھوں قتل کر دی جائے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ثناء یوسف کے قتل کے پیچھے وہ کون سی ذہن سازی ہے جو وحشی بن کر اپنی ناکردہ خواہشات کی تکمیل کے لئے گھروں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ اسلام آباد میں درندہ نما انسان نے 17سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو اس کے گھر کے اندر گھس کر قتل کر دیا۔ سوشل میڈیا پر جب سے ٹک ٹاک کا سلسلہ نئی نسل کے اندر اترا اس قسم کے ایک نہیں کئی دردناک واقعات ہو چکے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں اندھے قانون کے سائے میں ایسے واقعات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل کتنی ثنائیں ایسے نامراد عاشقوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اگر ہمارا قانون آنکھیں کھول کر ایک دو کو سخت سزا کے عمل سے گزارا جا چکا ہوتا تو شاید ایک نہیں کئی ثناء یوسف بچ جاتیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس پورے گھنائونے سسٹم کے پیچھے قصور کس کا ہے۔ کیا ان والدین کا جو اپنی بیٹیوں کو کھلے عام ٹک ٹاکر بنا کر خوش ہوتے ہیں اور وہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم کس بے رحم معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ جن معاشروں میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے، جن معاشروں میں شرافتوں کی پاسداری نہیں ہوتی، جن معاشروں میں جگہ جگہ درندگی کی فیکٹریاں کھلی ہوں، جن معاشروں میں اپنی انا کی تسکین کے لئے لوگوں کے گھروں کی دیواریں پھلانگ کر نوجوان بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہوں وہاں پڑھے لکھے والدین کیوں اپنی بچیوں کو ٹک ٹاکر بنانے کی اجازت دیتے ہیں؟ گو ہر شہری کو تحفظ دینا ریاست کا کام ہے لیکن ہمارے ہاں عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کا کوئی محافظ نہیں۔ اب بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے فحاشی و عریانی کے ساتھ جرائم سکھانے میں بھی کسر نہیں چھوڑی اور اس نے حقیقی دنیا سے تصوراتی دنیا تک کے سفر میں نوجوان نسل کو گمراہ کردیا۔ آج کسی بھی ٹی وی کے ہر ڈرامے، ہر فلم، ہر اشتہار میں مرد و زن کی دوستی آئیڈیالائز کرنا، محرم و نامحرم کی تمیز ختم کردینا، معاشرتی حدود و قیود کو سرعام توڑتے دکھانا، میرے نزدیک معاشرے کا قرآن و سنت سے تعلق دور ہو جانا۔ اس کے علاوہ بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ خدا تعالیٰ کی عطاکردہ زندگی اس معاشرے میں بہت قیمتی ہے، بچیوں کو خود بہادر بننا اور والدین کو بچیوں کو بہادر بنانا ہوگا۔ اپنا ایمان، عزت و آبرو بچانا ہر بچی کو سیکھنا ہوگا اور ماؤں کو یہ چیز بچیوں کو سکھانی ہوگی کہ لڑکیاں کہیں بھی اکیلے مت جائیں اور اپنے ہر معاملے کو اپنے والدین کو بتائیں۔ اپنا فیملی کنکشن بحال رکھیں، باہر جانے کے بعد اپنے گھر والوں سے رابطہ رکھیں، کہیں بھی جائیں، اپنے گھر والوں کی اجازت سے اور ان کو بتاکر جائیں ۔ اپنی کسی فی میل ٹیچر سے اپنے مسئلے ضرور ڈسکس کریں، اس کے علاوہ کسی اچھی سمجھدار صالح لڑکی کو دوست ضرور بنائیں اور روزانہ سوتے وقت سارے دن کا جائزہ لیں جو غلط بات یا کام ہوا ہو اسے آئندہ نہ کرنے کا عہد کریں ۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی بچیوں کو موبائل ضرور دیں مگر ان کو ٹک ٹاک کی بیماری سے دور رکھیں۔ کہتے ہیں کہ ڈریں اس وقت سے کہ جب آپ اللہ کے بنائی حدود و قیود کو توڑیں گے تو سمجھیں کہ اللہ کی پکڑ آئے گی۔ کسی کی بیٹی، بہن، بیوی یا ماں اگر آپ کی گندی نظروں اور حرام کاریوں سے محفوظ نہیں تو دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت میں جہنم آپ کا ٹھکانہ ہوگی۔ آپ کی زندگی میں سکون ختم ہوجائے گا، اپنے ہی رشتوں سے آپ کو خوشی نہیں ملے گی۔ زندگی گزاریں گے بظاہر شاید اچھی ہی گزر جائے لیکن یاد رکھیں زندگی اجیرن ہوگی ۔ یہ قدرت کا اٹل نظام ہے۔ 
آج ماڈرن دور کے نام سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ آزادی کے نام پر کچھ زیادہ ہی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ بازاروں اور پارکوں میں کھلے عام لگے تماشے ہمارا مذہب ان کی اجازت نہیں دیتا اور پھر اس آزادی کا انجام ثناء یوسف کی شکل میں پوری قوم نے دیکھا اگر میں اپنے دین کی بات کروں تو پھر کسی بھی غیرمحرم سے تعلق قائم کرنا، اس کا پیچھا کرنا… رابطے کرنا… یا غیرمحرم کی جانب سے رابطے کو استعمال کرنا… حدود الٰہی توڑنا۔ اس کے لئے بھگتان بھگتنا ہی پڑے گا، لہٰذا رک جائیں، اپنی نظروں، اپنی چالوں، طریقوں، اپنے قدموں، اپنے ارادوں کو روک لیں۔ جگہ جگہ منہ ماری کرنے والے ’’ذواقین‘‘ کے لئے رب کی رحمت روٹھ جاتی ہے۔ سورہ یوسف پوری کی پوری ایک مرد کی حیا کا سبق سکھاتی ہے اس خوش فہمی سے نکل آئیں کہ دوسروں کی بیٹیوں، بہنوں، بیویوں اور ماؤں کو اپنے وقتی لطف اور ٹائم پاس کے لئے استعمال کریں گے اور قدرت آپ سے انتقام نہ لے گی۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ اس کا وبال آپ۔آپ کا خاندان۔آپ کی نسلیں اور پورا معاشرہ بھگتے گا لہٰذا کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے پہلے سوچیں اور رک جائیں اس سے قبل کہ سب کے سب اللہ کے غضب کی لپیٹ میں آجائیں۔ یہ میرے رب کا عذاب ہے کہ آپ اپنی خواہشات کی خاطر دوسرے کی زندگی سے کھیلیں۔ 
اور آخری بات…
ثناء یوسف بھی قوم کی بیٹی تھی اگر اس کے والدین باخبر ہوتے تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ ناصرف ان پر گہری نظر رکھیں اور ان کی گزرتی زندگی کے وقت کو اپنی نظروں میں رکھیں۔ اب نہ وقت اور زمانہ محفوظ ہے۔ 

ٹیگز: