وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں اہم ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے درآمدی گاڑیوں پر عائد کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اس فیصلے کو آٹو سیکٹر میں ایک اہم پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا، صارفین کو ریلیف فراہم کرنا اور گاڑیوں کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ترمیم شدہ فنانس بل کے مطابق مختلف انجن کیٹیگریز میں کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں میں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے۔ 800CC تک کی گاڑیوں پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد، 801 سے 1000CC پر 55 فیصد سے کم ہو کر 35 فیصد جبکہ 1001 سے 1500CC تک کی گاڑیوں پر 60 فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 1501 سے 1800CC تک گاڑیوں پر ڈیوٹی 75 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد اور 1801CC سے زائد گاڑیوں پر 100 فیصد سے کم ہو کر 50 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے سے درمیانے درجے کی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹ میں بہتر مقابلے کی فضا پیدا ہونے کی توقع ہے۔ تاہم 2000CC سے زائد انجن والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ برقرار رکھا گیا ہے، جس کے تحت 2000 سے 3000CC تک گاڑیوں پر 86 فیصد اور 3000CC سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد رہے گی، جس کے باعث لگژری گاڑیوں پر اس ریلیف کا محدود اثر متوقع ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس پالیسی تبدیلی کے بعد آٹو سیکٹر میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف بڑی آٹو کمپنیوں نے اپنی قیمتوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں پیجو (Peugeot) نے اپنے بعض ماڈلز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، جسے ایک مثبت مارکیٹ سگنل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تسلسل میں ٹویوٹا نے بھی اپنی مقبول ماڈل یارس (Yaris) کی ٹاپ ویرینٹ کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان میں مزید تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی مانگ اور صارفین کے رجحانات حالیہ عرصے میں آٹو مارکیٹ میں یہ رجحان واضح طور پر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ صارفین بڑی تعداد میں 4 سے 5 سال پرانی گاڑیوں کی خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسی گاڑیاں نسبتاً بہتر کنڈیشن میں اور مناسب قیمت کے دائرے میں دستیاب ہوتی ہیں، جس سے عام خریدار کے لیے گاڑی خریدنا آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم استعمال شدہ گاڑیوں میں ایک بڑا مسئلہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ ان کی اوڈومیٹر ریڈنگ کم کر کے، کاسمیٹکس اور ظاہری چمک دمک کے ساتھ انہیں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رینٹ پر چلنے والی گاڑیوں کے میٹر میں رد و بدل کر کے کم ریڈنگ ظاہر کی جاتی ہے تاکہ انہیں زیادہ قیمت پر بیچا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق ایسی خریداری خریدار کے لیے بعد میں شدید مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑی خریدتے وقت احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایسی گاڑی کسی معتبر کار ڈیلر، مستند کمپنی یا گارنٹی فراہم کرنے والے ادارے کے ذریعے خریدی جائے تاکہ بعد میں غیر ضروری مسائل سے بچا جا سکے۔ بصورت دیگر اکثر خریدار کو بار بار مکینک کے چکر لگانا پڑتے ہیں اور مرمت کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ بظاہر اچھی حالت میں موجود پرانی گاڑیوں کی مکمل انسپیکشن کسی ماہر مکینک یا مستند ورکشاپ سے کرانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ بغیر چیکنگ کے خریداری مستقبل میں مالی نقصان اور مسلسل خرابیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اکثر لوگ نئی گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں، ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ نئی گاڑی پانچ سے چھ سال تک بغیر کسی بڑی پریشانی کے چلتی ہے، اس کے بعد وہ اسے فروخت کر کے نئی گاڑی لے لیتے ہیں، جو کسی حد تک درست حکمت عملی ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اچھی برآمد شدہ یا معیاری استعمال شدہ گاڑیاں بعض اوقات دس سے پندرہ سال تک بھی بغیر بڑی خرابی کے بہترین کارکردگی دیتی ہیں۔ اگر خریدار صحیح معلومات، مکمل معائنہ اور معتبر سورس کے ذریعے گاڑی خریدیں تو وہ نسبتاً کم بجٹ میں بہتر گاڑی حاصل کر سکتے ہیں اور طویل مدت تک بہتر استعمال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آٹو مارکیٹ میں صرف نئی گاڑیوں کی قیمتیں ہی نہیں بلکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مانگ اور ان کی قیمتوں پر بھی اہم اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جو مجموعی طور پر مارکیٹ کے ڈھانچے کو تبدیل کر رہا ہے۔