Wed, September 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ امن کی تلاش میں!

مشرقِ وسطیٰ امن کی تلاش میں!

مشرقِ وسطیٰ 12روز آگ اور شعلوں کی لپیٹ میں رہنے کے بعد اب بظاہر پرسکون نظر آ رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے بعدسیز فائر ہو چکا اور دونوں فریقین نے جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل خطہ ہے‘ اس خطہ میں اکثریت مسلم ممالک کی ہے ۔ یہاں ایران، عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، یمن، شام، اردن، لبنان، فلسطین، اومان ، کویت، قطر، بحرین، ترکیہ، قبرص اور اسرائیل موجود ہیں۔ آپ یہ پڑھ کر حیران ہو رہے ہوں گے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسرائیل کیسے وجود میں آ گیا ۔ تو کہانی کچھ یوں ہے کہ اسرائیل کی جدید ریاست کا قیام مئی 1948 ء میں ہولوکاسٹ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد عمل میں آیا تھا ۔ سلطنتِ عثمانیہ کو جب ایک سازش کے تحت کمزور اور پھر ختم کرکے پورے عالمِ اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تو اس خطہ میں یہود و نصاریٰ کا اثرورسوخ بڑھنے لگا۔ اسی کے نتیجہ میں 1917ء میں ایک معاہدہ بالفور ہوا جس کی صورت میں صہیونی مغربی اتحاد وجود میں آیا۔ 1918ء میں اس خطے کاتقریباً مکمل کنٹرول برطانیہ کے پاس چلا گیا اور 1922ء میں لیگ آف نیشنز نے بھی اس کنٹرول کو باقاعدہ تسلیم کرلیا ۔ اسی سال ایک انتہاپسندیہودی ہربرٹ سموئیل کو برطانیہ کی طرف سے یہاں پہلا مندوب تعینات کردیا گیا۔ 
برطانوی تسلط (1918ء تا 1948ء ) کے دوران یہودیوں کی بالجبر آباد کاری کا سلسلہ برطانیہ کے زیرِ سایہ شروع ہوچکا تھا جو1948ء تک چھ لاکھ چھیاسی ہزار تک پہنچ گیا۔ اس دوران برطانیہ نے اپنی غصب کردہ اراضی اور ثقافتِ اسلامیہ کی اراضی جو صدیوں سے اسلامی مقاصد کیلئے وقف تھی، جبراً یہودیوں کو دینا شروع کر دی۔ یوں برطانیہ کے زورِ بازو پر 292 اسرائیلی کالونیاں بن گئیں اور برطانیہ ہی کی شہ پر اسرائیل کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ستر ہزار عسکری جنگجوئوں کی فوج بھی تیار کی جاچکی تھی ۔ مسلمانوں کی تقریباً چار سو بستیوں کو مسمار اور تقریباً 25 ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کرکے یہودیوں کی ناجائز آباد کاری ہوئی۔ 14مئی 1948ء کی ایک اَلمناک شام کو یہودیوں نے باقاعدہ اسرائیل کا اعلان کردیاجسے امریکہ اور سوویت یونین نے فوری قبول بھی کر لیا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور ہوئی، اس طرح ناجائز ریاست اسرائیل کی بنیاد پڑی اور عرب آبادی کے سینہ پر اسرائیل کا خنجر پیوست کردیا گیا۔ دسمبر 1948 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں تسلیم کیا گیا کہ فلسطینی عوام ’جو اپنے گھروں کو واپس جانا اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں انہیں جلد از جلد ایسا کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ اسرائیل نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔ 1950 ء میں اردن نے مغربی کنارے کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا اور مصر کا غزہ پر قبضہ رہا۔ یہ انتظام 1967ء کی چھ روزہ جنگ تک جاری رہا جب اسرائیلی افواج نے ان علاقوں کو فتح کیا۔ اس سے پہلے پر تشدد واقعات وقفے وقفے سے جاری رہے۔ حالیہ تنازع سے پہلے تک تقریباً 60لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے محروم کرکے پناہ گزین اور مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیئے گئے۔ یہودیوں کا جو بنیادی نعرہ ہے کہ فلسطین ان کا وطن ہے، وہ بھی بے بنیاد ہے کیونکہ معاصر یہودیوں میں سے 90 فیصد سے زائد یہودیوں کا تاریخی اعتبار سے فلسطین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور معاصر یہودیوں کا تعلق (الخزر اور اشکنار) قبائل سے ہے، جوکہ تاتاری یعنی قدیم ترک قبائل ہیں اور اگر ان کو اپنے وطن واپس لوٹنے کا کوئی حق حاصل ہے بھی تو وہ روس کے جنوبی علاقوں میں ہے، نہ کہ فلسطین میں۔
مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی جب 17 ستمبر 1978ء کو اسرائیلی وزیر اعظم میناچم بیگن اور مصری صدر انور سادات نے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر دستخط کیے امریکی صدر جمی کارٹر بھی اس معاہدہ میں شریک تھے۔دو فریم ورک معاہدوں میں سے ایک نے دونوں ممالک کے مابین ہم آہنگ تعلقات کو فروغ دیا اور دستخط کنندگان کو نوبل امن انعام دلایا لیکن دوسرے کی، متنازع علاقوں پر فلسطین کے مستقبل سے متعلق، فلسطینی وفد کی شمولیت کے بغیر اتفاق رائے کیلئے اقوام متحدہ کی طرف سے مذمت کی گئی۔ اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر حملہ کیا جبکہ اس دہائی کے آخر میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضہ کیخلاف انتقاضہ کی تحریک شروع ہو گئی۔ تاہم، امن کی طرف مزید پیش قدمی اس وقت ہوئی جب فلسطین کی تحریک آزادی( پی ایل او) نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو قبول کیا۔ 1993ء میں اسرائیلی وزیر اعظم یتزاک رابن اور پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات نے اوسلو اول معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت فلسطینی عبوری خود مختاری، فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے قیام اور ان علاقوں سے اسرائیلی دفاعی افواج کے انخلا کا اہتمام کیا گیا جو اب بھی کافی حد تک مقبوضہ تصور کیے جاتے ہیں۔ دوسرا معاہدہ اوسلو دوم 1995ء میں ہوا جس کے تحت مغربی کنارے اور غزہ کے کچھ 
حصوں میں فلسطینیوں کو خود مختاری دی گئی لیکن اس میں ایک بار پھر ریاست کا درجہ نہیں دیا گیا۔ اسرائیل نے 2002 ء میں مغربی کنارے کے شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ، یہ غیر مستحکم کر دینے والا ایسا واقعہ تھا جس نے 2004 ء میں یاسر عرفات کی موت کے بعد حالات مزید بدتر کر دیئے، جو فلسطینی کاز کیلئے ایک بڑا دھچکا تھا۔اسرائیل نے 2006 ء میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور غزہ میں حماس پر بار بار حملے کیے۔ 2017 ء اور 2018 ء میں یوم نکبہ کے موقع پر مزید تشدد ہوا، مؤخر الذکر اتنا شدید تھا کہ اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کی تحقیقات کی جا سکیں۔اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رہا اور اب گزشتہ 14 ماہ سے زائد مسلسل فلسطینی علاقوں پر بمباری کر رہا ہے۔ اہل غزہ امت مسلمہ کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی ان کی مدد کو نہیں آ رہا۔ اسی دوران 13جون کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا جس کا ایران نے بھرپور جواب دیا۔ اس جنگ اور سیز فائر کا کیا نتیجہ نکلا اور فریقین نے کیا کھویا کیا پایا؟ اس کا اندازہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا لیکن مشرقِ وسطیٰ اب بھی امن کی تلاش میں ہے کیونکہ اہل غزہ کے مصائب کم نہیں ہو رہے دنیا کو اس طرف توجہ دینا ہو گی۔

ٹیگز: