Wed, September 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید: ایران اور امریکہ کے درمیان فیصلہ کن مذاکرات کے لیے ایرانی قیادت اسلام آباد میں

 مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید: ایران اور امریکہ کے درمیان فیصلہ کن مذاکرات کے لیے ایرانی قیادت اسلام آباد میں


اسلام آباد : پاکستان کا دارالحکومت ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے۔ ایران کا ایک بااختیار وفد، جس میں ملک کی سیاسی، عسکری اور معاشی قیادت کے اہم ستون شامل ہیں، امریکی حکام کے ساتھ جنگ بندی پر مش مشاورت کے لیے اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں آنے والے اس وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، مرکزی بینک کے گورنر اور دفاعی کونسل کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ پاکستان پہنچنے پر وفد کا استقبال آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اعلیٰ حکومتی وزراء نے کیا، جو اس دورے کی سیکیورٹی اور تزویراتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ یہ وفد مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے، تاہم ایرانی اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق، جب تک درج ذیل دو نکات پر پیش رفت نہیں ہوتی، معاہدہ مشکل دکھائی دیتا ہے، مالیاتی مطالبات: ایران کے بین الاقوامی بینکوں میں منجمد اربوں ڈالر کے اثاثوں کی فوری واپسی۔
علاقائی امن: لبنان میں فوجی کارروائیوں کا مکمل اور فوری خاتمہ۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، تہران سے دو خصوصی طیاروں کی اسلام آباد آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مضبوط 'برج' کا کردار ادا کر رہا ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے ذریعے مانیٹر کیے جانے والے اس دورے پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ ان مذاکرات کے نتائج عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: