Wed, September 16, 2026

نیب مقدمات میں اپیلوں کا فورم تبدیل، سپریم کورٹ کا 30 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری

نیب مقدمات میں اپیلوں کا فورم تبدیل، سپریم کورٹ کا 30 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں دوسری اپیلوں اور متعلقہ درخواستِ ضمانت کے دائرۂ اختیار سے متعلق اہم آئینی معاملے پر فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نیب مقدمات میں دوسری اپیل اور اسی مقدمے سے متعلق ضمنی کارروائیوں کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے پاس ہوگا۔

جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 24 جولائی 2026 کو 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم اور قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 32-A کے اضافے کے بعد نیب مقدمات کی دوسری اپیلوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت مقرر ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست کو مرکزی مقدمے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ اسی عدالتی کارروائی کا حصہ ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق ایک ہی مقدمے کی اپیل ایک عدالت اور ضمانت دوسری عدالت میں زیرِ سماعت رہنے سے قانونی پیچیدگیاں، متضاد فیصلوں اور دائرۂ اختیار کے تنازعات کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عدالتوں کا اختیار آئین اور قانون کے تحت متعین ہوتا ہے، کسی فریق کی رضامندی، سابقہ طریقہ کار یا اعتراض نہ اٹھانے سے دائرۂ اختیار قائم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نیب مقدمات میں قانونی چارہ جوئی کا حق برقرار ہے، تاہم نئے آئینی نظام کے تحت دوسری اپیلوں کے لیے متعلقہ فورم وفاقی آئینی عدالت ہوگا۔

ٹیگز: