چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں اخبا رکے مطالعہ میںمصروف تھے، ماحول انتہائی سنجیدہ تھا اور اتنا سناٹا تھا کہ چاچا خلیفہ نے آتے ہی ڈائیلاگ دہرایا،” یہ اتنا سناٹا کیوں ہے بھئی۔۔۔“ یہ سننے کی دیر تھی کہ چپ سائیں سمیت سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔ چپ سائیں زیر لب مسکرائے اور کہا کہ خلیفہ بھائی کیا ہوا ہے؟،۔۔ آج آپ نے ادھر کا رخ کیسے کرلیا۔۔؟ اس پر چاچا خلیفہ جو ماضی میں پہلوانی کرتے تھے کہنے لگا۔۔۔ سائیں جی آج میںاپنے ایک سوال کا جواب لینے آیا ہوں ، میں بہت دنوں سے بین الاقوامی تناظر میں حالات کا جائزہ لے رہا ہوںاور یہ سوچ رہا ہوںکہ کیا طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن کبھی دیرپا ہوتا ہے۔؟اب آپ ہی میری یہ گتھی سلجھائیں۔۔
اس پر چپ سائیںنے کہاکہ چوپا ل کے بھائیو! بھئی خلیفہ نے بہت اہم سوال اٹھا دیا ہے یہ سوال آج کی بین الاقوامی اور ملکی سیاست کے تناظر میں بہت اہم ہے۔ خلیفہ بھائی میں ابھی اخبار میں بھی یہی پڑھ رہا تھا کہ امریکہ بہادر دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ اس وقت بین الاقوامی تناظر میں امن کے علمبردار بن کر ابھر رہے ہیں۔بھائیو! یہ بھی قابل ذکر ہے کہ عالمی برادری کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا امن کبھی دیرپا نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جبر، پابندیاں وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہیں، مگر یہ دلوں میں موجود زخموں کو بھر نہیں سکتیں۔ جب امن کا دارومدار صرف خوف اور دبا¶ پر ہو، تو یہ محض ایک ظاہری سکون کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو کسی بھی لمحے ٹوٹنے کا خطرہ رکھتا ہے۔دوستو!حقیقی امن کے لیے مکالمہ، مفاہمت اور انصاف ناگزیر ہیں۔ کوئی بھی معاہدہ یا سمجھوتہ تب تک پائیدار نہیں رہ سکتا جب تک فریقین کے درمیان اعتماد اور احترام قائم نہ ہو۔چپ سائیں نے کہاکہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کئی جنگوں کے بعد طے پانے والے معاہدے جو طاقت یا دبا¶ کی بنیاد پر ہوئے، اکثر کم مدت میں ناکام ہوئے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ دلوں میں
نفرت، خوف اور تلخ یادیں باقی رہ گئیں۔
چوپال کے دوستو !یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا دنیا واقعی امن چاہتی ہے، یا صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امن کا نعرہ بلند کرتی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔ کئی بار ممالک اپنے قومی مفادات، سیاسی اثرورسوخ اور اقتصادی فوائد کی خاطر”امن “کی آڑ میں کارروائیاں کرتے ہیں، جبکہ ان کے حقیقی اقدامات امن کے اصل اصولوں کے خلاف ہوتے ہیں۔آج کا دور ایسے چیلنجز سے بھرا ہوا ہے جہاں عالمی طاقتیں اور مقامی مفادات اکثر تصادم کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے باوجود امید کی کرن یہ ہے کہ اگر مکالمے کو ترجیح دی جائے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور مفاہمت کی راہیں تلاش کی جائیں، تو امن کو صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بنایا جا سکتا ہے۔
آخرکار، دنیا کے لیے یہ سوچنا وقت کی ضرورت ہے کہ امن صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور طاقت کے زور پر اسے قائم کرنے کی کوشش محض وقتی حل فراہم کرتی ہے۔ دیرپا امن وہی ہے جو دلوں سے دلوں تک پہنچے، اور جہاں ہر فریق کو انصاف، تحفظ اور احترام حاصل ہو۔
عالمی برادری کو ایک بار پھر یہ سوال درپیش ہے کہ کیا دنیا واقعی امن چاہتی ہے، یا صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے“امن”کے نعرے بلند کرتی ہے۔ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو طاقت کے زور پر قائم امن ہمیشہ وقتی رہا ہے۔ جبر، پابندیاں اور دھمکیاں اگرچہ وقتی سکون پیدا کر سکتی ہیں، لیکن یہ دلوں میں موجود زخموں اور تلخ یادوں کو مٹانے میں ناکام رہتی ہیں۔
چپ سائیں تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے اور پھر گویا ہوئے کہ تاریخی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ وہ معاہدے یا امن کوششیں جو طاقت کے دبا¶ میں کی گئیں، اکثر ناکام ہوئیں، پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد کے امن معاہدے، یا مختلف خطوں میں عارضی جنگ بندی کی کوششیں اس کی گواہ ہیں۔ ان میں وقتی خاموشی ضرور پیدا ہوئی، مگر دیرپا اعتماد قائم نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی امن کے لیے مکالمہ، مفاہمت اور انصاف ضروری ہیں۔
خلیفہ بھائی ، نتھو، پھتو اور چوپال کے دوستو !موجودہ عالمی منظرنامہ اس تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا عالمی سطح پر امن کے حقیقی اصولوں پر عمل ہو رہا ہے یا یہ صرف ایک تشہیری نعرہ ہے۔ دیرپا امن کے لیے صرف معاہدے کافی نہیں۔ اسے دلوں میں جگہ دینی ہوگی، اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اور انصاف کی بنیاد پر ہر فریق کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر کوئی بھی طاقت یا دبا¶ کا نتیجہ صرف وقتی سکون فراہم کرے گا، نہ کہ پائیدار امن۔
عالمی سیاست میں حالیہ بحران اور تنا¶ واضح کرتے ہیں کہ اگر ممالک مفاہمت اور مکالمے کی راہ اختیار کریں تو نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہے بلکہ خطوں میں ترقی اور استحکام بھی آئے گا۔ اسی وجہ سے باربار زور دیاجارہا ہے کہ امن صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے جسے طاقت کے زور سے قائم نہیں رکھا جا سکتا۔آخرکار، عالمی برادری کے لیے یہ سوچنا وقت کی ضرورت ہے کہ امن صرف قوانین یا پابندیوں کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ انسانی جذبات، انصاف اور اعتماد کا نتیجہ ہونا چاہیے۔
حالیہ عالمی تنازعات، اقتصادی پابندیاں اور عسکری دبا¶ اس تضاد کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ حقیقی امن کے لیے تین ستون ناگزیر ہیں: مکالمہ، مفاہمت اور انصاف۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کے جذبات، خوف اور مطالبات کو نہیں سمجھتے، کوئی بھی معاہدہ یا سمجھوتہ پائیدار نہیں رہ سکتا۔
دنیا واقعی امن چاہتی ہے یا صرف اپنے مفادات کے لیے امن کا نعرہ بلند کر رہی ہے؟ یہ سوال آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامہ یہ بھی بتاتا ہے کہ طاقت کے زور پر قائم امن نہ صرف غیر مستحکم ہے بلکہ انسانی جانوں، وسائل اور خطوں کی ترقی کے لیے خطرہ بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، مکالمہ اور مفاہمت پر مبنی اقدامات نہ صرف تنازعات کم کر سکتے ہیں بلکہ دیرپا اقتصادی، سماجی اور سیاسی استحکام بھی فراہم کرتے ہیں۔
صاحبو!حقیقی امن وہی ہے جو مکالمے، مفاہمت اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہو، امن دلوں سے شروع ہوتا ہے، طاقت سے نہیں، تو ہم ایک ایسا مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں جہاں محض خواب ہی نہیں بلکہ حقیقت ہو۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔