کراچی/اسلام آباد : عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا ہے، جہاں 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت معاشی اصلاحات پر پیشرفت کا کڑا معائنہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ پاکستان کی مالیاتی ساکھ اور قرض کی اگلی قسط کے حصول کے لیے انتہائی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
وفد نے اپنے دورے کا آغاز کراچی سے کیا، جہاں گورنر اسٹیٹ بینک اور بینکنگ حکام کے ساتھ طویل نشستیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کے اہم نکات درج ذیل رہے۔
سٹیٹ بینک نے مشن کو مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر اور بینکنگ سیکٹر کی استحکام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفد کو جولائی سے دسمبر 2025 تک کے معاشی اہداف اور مالیاتی پالیسی کے ثمرات سے متعلق مستند ڈیٹا فراہم کیا گیا۔
کراچی میں تکنیکی بریفنگ کے بعد آئی ایم ایف مشن اسلام آباد پہنچے گا، جہاں مذاکرات کا رخ وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کی جانب مڑ جائے گا۔ ایف بی آر حکام کے ساتھ ٹیکس نیٹ میں اضافے اور ریونیو اہداف پر بات چیت ہوگی۔
مشن توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کی صورتحال اور سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ لے گا۔ 11 مارچ تک جاری رہنے والے اس دورے میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آیا پاکستان نے آئی ایم ایف کے طے شدہ اہداف پر مکمل عملدرآمد کیا ہے یا نہیں۔
یہ تیسرا اقتصادی جائزہ ہے جس کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کی جائے گی۔ مشن کی حتمی رپورٹ ہی عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کو اگلی قسط کی منظوری کے لیے سفارشات فراہم کرے گی۔