Wed, September 16, 2026

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی، معاشی استحکام کی راہ ہموار

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی، معاشی استحکام کی راہ ہموار

نیویارک : عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی امدادی رقم کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ملک کی معاشی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان نے حالیہ سیلاب کے باوجود اپنے مالیاتی پروگرام پر سختی سے عمل کیا اور اپنی معاشی سمت کو درست رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔

آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود معاشی اور توانائی کے شعبوں میں بروقت اصلاحات کیں جس کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری آئی اور مسابقت کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے آر ایس ایف (Resilience Sustainability Facility) پروگرام کے اہداف بھی پورے کیے۔

پاکستان نے ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 37 ماہ کا قرض پروگرام شروع کیا تھا، جس کے تحت معیشت میں اصلاحات کی گئیں، مالی استحکام حاصل ہوا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ ٹیکس آمدنی میں بھی بہتری آئی اور معیشت میں ٹیکسوں کا حصہ بڑھا۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر نیگل کلاک نے کہا کہ پاکستان نے سیلاب کے باوجود پرائمری بیلنس کا ہدف حاصل کیا اور اس نے ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے مسلسل پیشرفت کی۔ اس کے علاوہ، سخت مانیٹری پالیسی کے ذریعے پاکستان نے افراط زر کو کنٹرول کیا اور مہنگائی کی شرح میں کمی کی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار تیز کی جائے، خاص طور پر بجلی کی لاگت اور سرکلر ڈیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے۔ گیس کے شعبے میں بھی لاگت بڑھنے والے عوامل کو قابو میں لانا ضروری ہے۔

آئی ایم ایف نے مزید تجویز کیا کہ پاکستان اپنے اقتصادی استحکام کے لیے اسٹرکچرل اصلاحات میں تیزی لائے، نجکاری کے عمل کو مزید آگے بڑھائے اور معاشی ڈیٹا کے حصول کے طریقہ کار میں بہتری لائے۔

ٹیگز: