اب کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے ، تیسری عالمی جنگ کی بساط تو بچھ چکی ہے ۔ اب کوئی معجزہ ہی اسے روک سکتا ہے جو فی الحال رونما ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہا ۔گریٹر اسرائیل کے لیے کھیلی جانی والی گریٹ گیم کے خدو حال واضح ہوچکے ہیں ۔ امریکہ پھنس چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خود امریکہ کی تباہی کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔یہ جنگ مشرقی وسطیٰ کی تباہی سے شروع ہوکر واشنگٹن کی تباہی پر منتج ہوسکتی ہے ۔ ٹرمپ امریکہ کے گوربا چوف ثابت ہوسکتے ہیں ۔ فری میسن ـدُنیا میں صرف ایک طاقت چاہتے ہیں اور وہ ہے عظیم اسرائیل ریاست ۔ نیتن یاہو طاقت کا محور واشنگٹن سے تل ابیب منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ سکیورٹی اور دفاعی اُمور کے ماہر ہمارے ایک دوست بریگیڈئیر (ر)شفیع غازی کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکہ اور مغربی دُنیا کو باہم دست و گریبان کرکے اس مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا میدان جنگ بننے جارہا ہے جہاں بالآخر چین ،روس اور دُنیا کی دیگر طاقتوں کو بھی اس آگ میں کودنا پڑے گا۔ ایران کی تباہی درحقیقت مسلم امہ کی تباہی ہوگی ۔ یہ ہولناک جنگ سب کو اپنے لپیٹ میں لے سکتی۔ایسے میں ریاست ِپاکستان کو اپنا ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ پاکستان اپنے ہمسائے میں کسی بھی صورت میں تل ابیب کی موجودگی براہ راست یا بالواسطہ طور پر قبول نہیں کرے گا۔
دفاعی امور کے ایک اور ماہر میجر(ر) سردار ذوالفقار کا نقطہ نظر ہے کہ فروری 2026 کے ان ایام میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری کشمکش اب ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کی باریک ڈور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے اور ایک ہمہ گیر جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں رونما ہونے والے واقعات نے خطے میں تناؤ کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ عالمی منڈیوں سے لے کر عوامی حلقوں تک، ہر جگہ صرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا جنگ ناگزیر ہو چکی ہے؟۔
ویسے دیکھا جائے تو دْونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مشرق ِ وسطیٰ کو جہنم بنادیں گے ۔اب چاہے اس تازہ ترین بحران کی جڑیں 2025 کے اواخر اور 2026 کے آغاز میں ایران کے اندرونی حالات اور جوہری پروگرام سے جوڑی جائیں کہ اس کے پیچھے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں جو وہ امریکہ کی مدد سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی دوسری مدتِ صدارت میں ایران کے خلاف ’’انتہائی دباؤ‘‘ (Maximum Pressure) کی پالیسی کو مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں، ایران کو ایک ایسے جوہری معاہدے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جو تہران کے لیے فی الوقت ناقابلِ قبول دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ صورتحال کی سب سے تشویشناک کڑی خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں امریکی عسکری طاقت کا غیر معمولی اجتماع ہے۔ صدر ٹرمپ نے جنوری 2026 کے آخر میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ ایک ''عظیم الشان بحری بیڑا'' (Armada) ایران کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ اس وقت خطے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز، درجنوں جنگی طیارے اور جدید میزائل ڈیفنس سسٹم موجود ہیں۔ یہ 2003 کے عراق حملے کے بعد خطے میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت قرار دی جا رہی ہے۔دوسری جانب، ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔ ایرانی حکام نے ''خرمشہر-4'' جیسے بیلسٹک میزائلوں کو خفیہ مقامات پر نصب کر دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو وہ نہ صرف امریکی اڈوں بلکہ پورے خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کو نشانہ بنائیں گے۔فوجی تیاریوں کے متوازی، عمان اور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے تہران کو 10 سے 15 دن کی مہلت دی ہے کہ وہ ان کے مطالبات تسلیم کر لے، ورنہ ''برے نتائج'' بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
واشنگٹن ایران سے یورینیم کی افزودگی پر مکمل اور مستقل پابندی،بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی اورخطے میں مسلح گروہوں (Axis of Resistance) کی حمایت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے ''حوصلہ افزا اشاروں'' کی بات تو کی ہے، لیکن تہران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر سر تسلیم خم (Capitulate) نہیں کرے گا۔
امریکہ کی ممکنہ کارروائیوں میں ایران کی جوہری تنصیبات (جیسے نطنز اور اصفہان) پر سرجیکل سٹرائیکس ،ٹارگٹڈ کلنگ (Decapitation) جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جائے اورفل سکیل جنگ ہے۔ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی اور امریکی اڈوں یا آبنائے ہرمز کو نشانہ بنایا، تو یہ تنازع ایک طویل اور تباہ کن علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
چین اور روس نے امریکہ کو طاقت کے یکطرفہ استعمال سے خبردار کیا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں غنڈہ گردی کے خلاف ہے، جبکہ روس نے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ خطے کے ممالک، خاص طور پر قطر اور عمان، ثالثی کے ذریعے آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس آگ کی تپش سے کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔
فروری 2026 کے اختتام تک صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ ایک طرف جنیوا میں میز پر بیٹھے سفارت کار ہیں اور دوسری طرف سمندروں میں لہریں بناتے امریکی جنگی جہاز،اگر جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہ ہوا تو دنیا ایک ایسے تصادم کا سامنا کرسکتی ہے جس کا نقشہ تاحال کسی کے پاس نہیں۔ صدر ٹرمپ کا ''ڈیل یا جنگ'' کا الٹی میٹم ایران کو دیوار سے لگا چکا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کو دیوار سے لگایا جائے تو وہ غیر متوقع ردِعمل دیتی ہے۔سفارت کاری کی باریک ڈور کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے اور ایک ہمہ گیر جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔