Wed, September 16, 2026

دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر!

دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر!

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بارہویں روز میں داخل اور مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ گیارہ روزہ جنگ میں دونوں اطراف سے فریقین ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ انسانیت اس وقت تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے اور ایک چنگاڑی دنیا کو راکھ بنا سکتی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے ایران پر ہزاروں ٹن گولہ بارود برسانے اور تہران سمیت متعدد شہروں کو نشانہ بنانے سے انسانی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔یہ جنگ اب صرف تین ممالک تک محدود رہتی نظر نہیں آرہی بلکہ خلیجی ریاستیں بھی اس کی لپیٹ میں آ رہی ہیں ۔ وہ خدشات جو دہائیوں سے زبان زدِ عام تھے، مارچ 2026ء کے آغاز پر حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں نے خطے میں ایک نئی اور ہولناک جنگ کے شعلے بھڑکا دیئے ۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ’’عالمی جنگل راج‘‘ کی وہ توثیق تھی جہاں طاقت ہی حق تسلیم کی جا رہی ہے۔ حالیہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی اہم تنصیبات، بشمول تیل کے مراکز اور فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا۔ جواب میں ایران نے بھی اپنی میزائل قوت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی علاقوں اور خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کیے ۔
اگر حالیہ کشیدگی ایک ہمہ گیر جنگ میں بدلتی ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا ایک تہائی گزرتا ہے اور یہ عالمی معیشت کے حوالے سے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ طول پکڑنے کی صورت میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں جس سے عالمی مہنگائی کا طوفان آئے گا۔کہا جا رہا ہے یہ جنگ دنیا کو دو بلاکس میں تقسیم کر دے گی۔ ایک طرف امریکہ اور یورپ ہوں گے جبکہ دوسری طرف روس اور چین (جو ایران کے قریبی معاشی اور عسکری شراکت دار ہیں) خاموش یا بالواسطہ حمایت کر سکتے ہیں۔لبنان، غزہ اور ممکنہ طور پر پورے خطے میں ہجرت اور جانی نقصان کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگا جسے سنبھالنا عالمی برادری کے بس میں نہیں ہوگا۔ فی الوقت کوئی بھی فریق مکمل جنگ نہیں چاہتا کیونکہ اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ تاہم، ایک چھوٹی سی غلط فہمی یا کسی ایک بڑے حملے کا ردِعمل پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن ان کی کامیابی کے امکانات محدود نظر آتے ہیں کیونکہ فریقین کے مطالبات متضاد ہیں۔ 
 ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں 1979 ء کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات تھے، لیکن انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔امریکہ اور ایران کے تعلقات بھی 1979ء کے سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد سے بحال نہ ہو سکے۔امریکہ اس مثلث کا سب سے طاقتور فریق ہے۔ واشنگٹن کی پالیسی ہمیشہ سے اسرائیل کے دفاع کی غیر مشروط حمایت رہی ہے اور ویسے بھی اسرائیل اس جنگ کو اپنی بقا کی جنگ تصور کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان یہ مثلث ایک بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے جس کی چنگاری غزہ اور لبنان سے نکل رہی ہے۔ دنیا کو اس وقت سنجیدہ سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ اس ممکنہ ’’تیسری عالمی جنگ‘‘کے سائے کو روکا جا سکے۔ اگر طاقت کا توازن بگڑا تو اس کی لپیٹ میں صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں بلکہ پوری انسانیت آئے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال انتہائی نازک ہے، کیونکہ ہمیں نہ صرف معاشی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ تزویراتی طور پر بھی مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیل کی قلت کے پیش نظر پاکستان کی وفاقی حکومت اور دو صوبوں نے تعلیمی ادارے بند کرنے سمیت اخراجات کم کرنے کے مقصد سے نئے اقدامات متعارف کرائے۔ ایران میں جنگ کی صورتحال اور اس کے تناظر میں تیل اور گیس کی عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ سرکاری و نجی اداروں میں ہفتے میں چار روز کام ہو گا جبکہ 50 فیصد سٹاف گھر سے آن لائن کام یعنی ورک فرام ہوم کرے گا۔
 مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کی قلعی کھول دی ہے۔ 1945 میں عالمی امن کے قیام کے لیے بننے والا یہ ادارہ اب عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور رہائشی علاقوں، ہسپتالوں اور سکولوں پر حملوں نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ ایک ایٹمی قوت اور پڑوسی ملک ہونے کے ناتے پاکستان کو چاہیے کہ وہ دیگر بااثر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اس جنگ کو رکوانے کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت بڑی متوازن ہے اور اسے معاملہ کو حل کرنے کیلئے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرنا چاہئے۔

ٹیگز: