Wed, September 16, 2026

سوشل میڈیا اور رمضان

سوشل میڈیا اور رمضان

سوشل میڈیا ایک بے ہنگم بازار ہے۔ یہ ایسا گرینڈ بازار ہے جہاں ہر فکری قبیلہ اپنی دکان سجائے بیٹھا ہے۔ یہ بازار چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے اور گزرنے والے ہر راہرو کو دعوتِ نگاہ دے رہا ہے۔ ایک شور ہے جو شعور کی شمع گل کیے دیتا ہے۔ معاذ اللہ! ہم کوئی سائنس کے دشمن نہیں، سائنس جم جم سیکھیں، پل پل سکھائیں … بس اس احتیاط کے ساتھ کہ نوعِ انسانی کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔ سائنس کے میدان میں ہر نئی آنے والی ایجاد اس دعوے کے ساتھ آتی ہے کہ زندگی آسان کرنے کے لیے آئی ہے، لیکن دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ زندگی پہلے سے زیادہ دشوار ہوئی جاتی ہے۔ اب تک کے سفر کا خلاصہ یہی نکلا ہے کہ سادگی میں آسانی ہے، ترقی میں دشواری۔ آج کا انسان رفتار تیز کرنے کو ترقی سمجھتا ہے، حالانکہ تیز رفتاری افکار کی ہو یا اجسام کی، کسی حادثے پر منتج ہوتی ہے۔ یہ حادثہ فکری بھی ہو سکتا ہے اور زمانی مکانی بھی۔ وقت سے پہلے بیج پھاڑنے کی تمنا پھولوں سے خوشبو اور خوشبو سے رنگ چھین رہی ہے … ہر خوشبو کا ایک رنگ ہوتا ہے اور ہر رنگ اپنے اندر ایک خوشبو رکھتا ہے۔ قبل اَز وقت استاد بننے کی آرزو علم کا خون کر رہی ہے۔ ہر مدعی علم کے ہاتھ میں ایک مائیک ہے، اور یوں اس بازار میں اس قدر لاؤڈ سپیکر نصب ہو چکے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ نصیحتیں تھوک کے حساب سے بک رہی ہیں۔ ہر فن ٹکا ٹوکری ہوا پڑا ہے۔ فن کار خود کو بیچنے کے لیے بازار میں آن کھڑا ہے۔ شہرت کا وائرس وائرل ہونے کا منتظر ہے۔ سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ مونیٹائز ہونے سے شہرت نے دولت کے ساتھ ساز باز کر لی ہے۔ دولت، شہرت کما کر دیتی ہے اور شہرت، دولت لے کر آتی ہے۔ ہم ایک انفرمیشن فلڈ میں بہے چلے جا رہے ہیں۔ ہر طرف معلومات معلومات ہی معلومات بکھری ہوئی ہیں … لیکن بے سمت۔ معلومات اور علم کا ربط ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ معلومات میں دفن شعور علم و حکمت کے دفینوں سے دُور ہیں۔ علم و حکمت عنقا ہے۔ علم ایک سمت عطا کرتا ہے ، اور یہاں معلومات کے بہاؤ میں ہم سمتوں کا تعین کھو رہے ہیں۔ ہم اپنی تہذیب مسخ کرنے میں بہت جلدی میں ہیں۔ ہر کج روی راست روی کہلوانے پر مصر ہے۔ دولت اور شہرت دراصل طاقت کی نمائندے ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ طاقت کا برہنہ اظہار 
تہذیب کے لیے سمِّ قاتل ہوتا ہے۔ تہذیب اپنی طاقت کو نیام میں رکھنے کا نام ہے۔
سوشل میڈیا نے انسانی شعور میں ترقی کی بجائے تنزلی میں حصہ ڈالا ہے۔ اس سکرین نے ہمیں احساس سے بے حسی کے سفر پر روانہ کر رکھا ہے۔ بڑے سے بڑا حادثہ چند سیکنڈ میں سکرول ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ کوئی سانحہ ہمارے احساس کو جھنجھوڑ نہیں پاتا۔ غز ہ میں نسل کشی ہو، یا اپنے ہاں کسی مسجد میںخون ریزی، ہماری توجہ کو اپنی طرف مبذول کرنے میں ناکام ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہماری توجہ کا سرمایہ لوٹ لیا ہے۔ فیس بک ریل اور یوٹیوب شارٹ کی شکل میں چند سیکنڈ کے کلپ دیکھنے کی عادت نے ہماری توجہ کو کمزور کر دیا ہے۔ تفکر توجہ طلب کرتا ہے۔ تفکر قیام کا تقاضا کرتا ہے۔ بہاؤ میں قیام کہاں؟ توجہ ہی مرتکز نہ ہو، تو غورو فکر چہ معنی دارد؟ کتاب توجہ کو مرتکز کرتی ہے ، سکرین توجہ کو منتشر کر دیتی ہے۔ اب تو سائنسدان کہنے لگے ہیں کہ کتاب کے ورق پر نظر ڈالیں تو ہمارے دماغ کا وہ حصہ تحریک پکڑتا ہے جو اعلیٰ شعور Higher thinking faculties سے منسلک ہوتا ہے، جبکہ سکرین پر دیکھیں تو ہمارے دماغ کا وہ حصہ متحرک ہوتا ہے جس کا تعلق جبلتوں کے ساتھ ہے۔ حیوانی جبلتوں کی مسلسل تحریک ہمیں اعلیٰ انسانی خیالات سے دور کر رہی ہے۔ ہم ہر اس خیال سے باغی ہوئے جاتے ہیں جو ہماری جبلتوں کے اظہار پر لگام ڈالتا ہے۔ تعجب نہیں کہ آج ریڈیائی دنیا میں رہنے والا انسان مذہب، تصوف اور تہذیب و اخلاق کے بنیادی ضابطوں سے اعراض کر رہا ہے، وہ پہلے اعراض کرتا ہے اور پھر اعتراض۔ انسانی شعور کے اس سفرِ معکوس میں سوشل میڈیا برق رفتاری سے اپنا رول پلے کر رہا ہے۔ غیر متعلق لوگوں کو جوڑنے والا آلہ متعلق لوگوں کو ایک دوسرے دور کر رہا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے فیس بک فرینڈز نے ہم سے ہمارے گلی محلے کے دوست چھین لیے ہیں۔ باہم، ہم دم و دمساز ہونا ایک قصہ پارینہ ہوا جاتا ہے۔ ایک ہی بستر پر میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف پشت کر کے اپنے اپنے سوشل میڈیا پر چٹ چیٹ کر رہے ہیں۔ فرشتوں ایسے ننھے ننھے بچے اپنے ماں باپ کا منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ان کے ماں باپ موبائل کی طرف منہ کیے بیٹھے ہیں۔ موبائل نے ہمیں اموبائل immobile کر دیا ہے۔ سفر، سفرناموں کے وی لاگ تک محدود ہو گیا ہے۔ مرغان ِ چمن کے جلو میں صبح خیزی ان کتابوں میں رہ گئی ہے، جنہیں ہم پڑھتے ہی نہیں۔ بڑے بڑے مفکرین اور صوفیا کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی بجائے، ہم فقط ان کے شارٹ اقوال اور کلپس دیکھتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم چند اقوال کی مدد سے ایسی شخصیات کا فکری احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے حیطہِ علم سے باہر ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر راہبری کے نام پر راہزنی کی وارداتیں رمضان میں بھی اسی دھڑلے سے جاری رہتی ہیں۔ نیکی کے نام برائی کی دعوت دینے کی روش عام ہے۔ ایسی برائی سے نمٹنا دشوار ہوتا ہے جو نیکی کا نقاب لیے بیٹھی ہو۔ بہر طور روزہ جس پرہیز گاری کا تقاضا کرتا ہے، وہ سوشل میڈیا سے پرہیز کے بغیر ممکن نہیں۔ روزہ صرف صبح سے شام تک کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں، بلکہ پرہیزگاری کا نام ہے۔ روزہ نظر کا بھی ہوتا ہے، کان کا بھی، اور زبان کا بھی … یہاں نامحرم نظاروں سے اپنی آنکھوں کو بچانا ایسے ہی لازم ہے جیسے اپنی زبان کو ذائقے سے بچانا۔ چغلی اور غیبت سے اپنی زبان اور کان کو بچانا اسی روزے کا حصہ ہے جس روزے میں ہم سحری، افطاری اور تراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔ اعتکاف بھی ماہِ صیام کا حصہ ہے۔ ہمارے حواسِ خمسہ جب تک معتکف نہ ہو جائیں، خارج سے کٹ نہ جائیں، مساجد میں پردے تان کر بیٹھ رہنے سے اعتکاف مکمل نہیں ہوتا۔ یار لوگ حجرہِ اعتکاف میں بھی موبائل لے کر بیٹھتے ہیں، گویا باہر کی دنیا سے علیحدہ ہونے کے بجائے اسے مسجد میں ساتھ لے آتے ہیں۔
بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی … سوشل میڈیا نے ہمارے حواسِ خمسہ کو بے وضو کر دیا ہے۔ ابھی غلافِ کعبہ دکھایا جا رہا تھا اور ابھی بھڑکیلے کپڑوں کے ساتھ کوئی کیٹ واک شروع ہو جاتی ہے۔ اِدھر نعت کا مصرع سماعتوں میں رس گھول رہا ہے، اُدھر دھم سے کوئی اشتہار کود کر آ جاتا ہے۔ دراصل سوشل میڈیا میں ایلوگرتھم جن ذہنوں نے ترتیب دیا ہے، وہ پاک اور ناپاک کے درمیان فرق روا رکھنے کا شعور نہیں رکھتے۔
فکر اور نظر باہم مربوط ہوتے ہیں۔ نظر کی آوارہ گردی سے فکر انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ جہاں فکر اور نظر میں مطابق نہ ہو، وہاں گوشہ نشینی اختیار کرنا بہتر ہے، تاکہ اپنا رمضان بھی بچا سکیں اور اپنا وقت اور زندگی بھی … وقت ہی تو زندگی ہے۔ ورچوئل ورلڈ میں رہنے والے ورچوئل سکرین کا روزہ رکھ کر دیکھیں … حقیقی دنیا میں واپس آ جائیں گے۔ روزِ حقیقت روز عید ہے … شرط یہ ہے کہ روزہ مکمل کر لیا جائے!۔

ٹیگز: