Wed, September 16, 2026

بنی ا سرائیل کا حق وراثت اور قرآن کا فرمان

بنی ا سرائیل کا حق وراثت اور قرآن کا فرمان

امریکہ کے ایک قدامت پسند تبصرہ نگار ٹکر کارلسن نے اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک حکابی سے انٹرویو کرتے ہوئے ایک سوال کیا کہ بائبل کے مطابق ابراہام کے وارثان کو وہ زمین ملے گی جو سارے مشرق وسطیٰ پر مشتمل ہے۔ کیا اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے۔ امریکی سفیر نے کہا اگر وہ یہ ساری زمین لے لیں تو یہ درست ہو گا۔ ’’امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنی زمین میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا لیکن جو زمین اس کے پاس ہے اس کی حفاظت کرنا اسرائیل کا حق ہے‘‘۔
حکابی عقیدے کے اعتبار سے ایونجلسٹ کرسچین ہیں جو اسرائیل اور مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کو بسائے جانے کی مہم کے سخت حامی ہیں۔ وہ دو ریاستی نظریے کو نہیں مانتے اور وہ فلسطینیوں کو ابراہام کے عرب وارثان میں شمار نہیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بائیل کے مطابق نیل سے فرات تک کی سرزمین اللہ نے ابراہام کے وارثان یعنی بنی اسرائیل کو عطا کی تھی تو اسرائیل اس کا حقیقی وارث ہے اور اس پر قبضہ کرنا اس کا حق ہے۔ گویا اس تشریح کے مطابق جارڈن، شام، لبنان اور عراق و سعودی عرب کا بڑا حصہ ہے، اسی پرزمین پر مشتمل ہے جس پر اسرائیل کا حق تسلیم کیا جانا ہے۔
ویسے گریٹر اسرائیل اب کوئی خواب نہیں، کوئی کتابی بات نہیں ہے۔ صہیونی تحریک نے بکھرے یہودیوں کے لئے ایک وطن کا نظریہ پیش کیا تھا جو 1918ء میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، اسی تحریک نے عظیم اسرائیل کے قیام کی بات کی تھی۔ یہودیوں کے مسیح موعود کی واپسی، تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر اور عالمی حکومت کا خواب حقیقت کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔ 1948ء میں اپنے قیام کے ساتھ ہی عظیم اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ جنگ کپوا 1967ء میں اسرائیلی فورسز نے ’’نیل تا فرات‘‘ کے نظریے کے مطابق عربوں کے علاقوں پر قبضہ کیا اور توسیع کا منصوبہ ابھی تک جاری ہے۔ غزہ میں نسل کشی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اسرائیلی قیادت نے بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ فلسطینی غزہ سے نکل جائیں اور کہیں جا کر بس جائیں۔ اسرائیل، گریٹر اسرائیل کے نظریے کے تحت غزہ پر اپنا کنٹرول اور پھر اسے ریاست اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ گریٹر اسرائیل کا قیام کوئی یہودی سازش نہیں ہے بلکہ ایک اعلان شدہ منصوبہ ہے، جاری شدہ نقشے کے مطابق اسرائیلی قیادت اس میں رنگ بھرتی چلی جا رہی ہے۔ اقوام مغرب کے کیتھولک عیسائی اور دیگر فرقے بشمول ایونجلیکل اسرائیلیوں کی عظمت کے بھی قائل ہیں اور بنی اسرائیل کے احیاء پر بھی ایمان رکھتے ہیں جس کے مطابق امریکی و دیگر مغربی ممالک کے کیتھولک و ایونجلسٹس اسرائیل کے حامی ہیں۔ یہ حمایت صرف سیاسی اور سماجی و معاشی حقائق کے باعث نہیں ہے بلکہ اس کی مذہبی بنیادیں ہیں جو عرب و مسلمان سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ حکابی کے انٹرویو کے اس حصے پر تنقید اس بات کی غماز ہے کہ مسلمان بس تنقید ہی کر سکتے ہیں، وہ بھی واجبی سی۔ اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی اور عرب علاقوں پر کوئی حق نہیں ہے، اس طرح مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کاوشیں متاثر ہوں گی، وغیرہ وغیرہ۔ سب روایتی باتیں ہیں۔1948ء میں اسرائیل کے قیام اور 1967ء کی جنگ کپوا میں عرب علاقوں پر قبضے اور اس کے بعد عرب اسرائیل لڑائیوں کے بعد، اسرائیلی مظالم کے خلاف اس طرح کے روایتی بیانات دیئے جاتے رہے ہیں۔ اسرائیل نے ایسے بیانات کی ذرا برابر بھی پروا نہیں کی۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے جاری کردہ بیان پر متحدہ عرب امارات کے علاوہ مصر، جارڈن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور ریاست فلسطین سمیت آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن، عرب لیگ اور گلف کوآپریشنل کونسل کے دستخط موجود ہیں۔ ویسے اس دستاویز پر عالم اسلام کے تمام ممالک بھی دستخط کر دیں تو اسرائیل اس کی پروا نہیں کرے گا کیونکہ انہوں نے اپنی الہامی کتاب سے عظیم اسرائیل کے قیام کا جواز نکال رکھا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ برگزیدہ قوم سمجھتے ہیں اور ارض فلسطین انہیں رب کائنات کی طرف سے عطا کی گئی تھی۔ یہ بات درست ہے اللہ نے ابراہیم ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی ذریت (اسحاق  ؑ اور اسماعیل ؑ) کو برکت دے گا، ان کی اولاد کو پھیلائے گا، زمین عطا کرے گا، بادشاہت دے گا۔ یہ وعدہ اطاعت خداوندی کے ساتھ مشروط تھا۔ دائود ؑ نے عہد باندھا، عبادتگاہ (ہیکل) کی تعمیر شروع کی جسے ان کے بیٹے سلیمان ؑ نے مکمل کیا۔ ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی اطاعت خداوندی کا مظہر تھا۔ اللہ نے ان پر نعمتوں کی بارش کی، انہیں سلطنت دی۔ جب انہوں نے انحراف کیا تو انہیں عظمت سے معزول کر دیا گیا پھر موسیٰؑ کے ذریعے انہوں نے اپنے رب سے دوبارہ عہد باندھا۔ اللہ نے انہیں پھر سلطنت دی۔ انہوں نے جب پھر عہد شکنی کی تو اللہ نے عیسیٰ ابن مریمؑ کے ذریعے انہیں عہد یاد دلانے کی کوشش کی، جب یہ 
باز نہ آئے اور انہوں نے اپنے آخری نبی عیسیٰ ابن مریمؑ کو ماننے سے ہی انکار کر دیا، انہیں اپنے تئیں صلیب دے ڈالی پھر اللہ نے ان پر ابدی عذاب مسلط کر دیا۔ ہیکل برباد کر دیا گیا، ان کی وحدت پارہ پارہ کر دی گئی اور یہ ہمیشہ کے لئے ذلت میں ڈال دیئے گئے۔ 70 عیسوی میں رومیوں نے دوسرا ہیکل مکمل طور پر تباہ کر ڈالا۔ اسرائیلیوں کو غلام بنا لیا اور وہ ارض فلسطین سے نکال دیئے گئے۔ دو ہزار سا ل تک وہ دنیا میں ذلیل و محکوم رہے پھر 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کے ذریعے وہ ایک قوم بنے، اب وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور نیل سے فرات تک کی زمین انہیں اللہ نے ابراہام کے ذریعے ودیعت کی ہوئی ہے۔ قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے، یہ جاننا ضروری ہے۔ اللہ رب العزت نے بنی اسماعیل سے محمد عربی ﷺ کے ذریعے ایک امت وسط قائم کی تھی۔ امت مسلمہ کو شہادت حق کا فریضہ سونپا گیا تھا پھر تحویل کعبہ کے ذریعے بنی اسرائیل کا حق وراثت یعنی پسندیدہ قوم کا رتبہ ختم کر دیا گیا تھا۔ زمین کی وراثت امت وسط یعنی محمد عربی ﷺ کے پیروکاروں کے سپرد کر دی گئی تھی۔ بائبل کا بیان کہ بنی اسرائیل اللہ کی پسندیدہ قوم تھے درست ہے۔ انہیں زمین کی وراثت ایک عہد نامے کے ذریعے عطا کی گئی تھی جسے انہوں نے پورا نہیں کیا تو اللہ نے ان پر ذلت طاری کر دی۔ وہ عظیم منصب سے معزول کئے جا چکے ہیں یہی اللہ کا فیصلہ ہے، یہی قرآن عربی میں لکھاہے۔

ٹیگز: