اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کرسمس کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ خصوصی تقریب میں کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادری، خاص طور پر مسیحی کمیونٹی، کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ قدر ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اقلیتی شہریوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کرے گی اور کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ ناانصافی یا زیادتی نہیں ہونے دے گی۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ "آج ہم یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، جنہوں نے انسانیت کو ظلم سے نجات دلائی۔" انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے ایک رہنمائی کا ذریعہ ہیں، اور پاکستان میں مسیحی برادری کا تاریخی اور قیمتی کردار ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد سے ہر شعبے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔
شہباز شریف نے مسیحی برادری کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ "مسیحی برادری نے تعلیم، طب، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں گراں قدر خدمات فراہم کی ہیں۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج میں مسیحی افسران اور جوانوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے مسیحی بھائیوں کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہارون ولیم کا ذکر کیا، جو دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ہارون ولیم کے جنازے میں شرکت کی اور ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔"
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ "پاکستان میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے، چاہے وہ مسجد ہو، مندر ہو، گرجا گھر ہو یا گوردوارہ۔" انہوں نے یہ واضح کیا کہ اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت ہمیشہ کھڑی رہے گی اور کسی بھی فرد کو اقلیتی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آخر میں، وزیراعظم نے مسیحی برادری کے ساتھ کرسمس کا کیک کاٹا اور اس موقع پر شریک وفاقی وزراء، اراکین پارلیمنٹ اور غیر ملکی سفارتکاروں کے ساتھ خوشیاں منائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی یا ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی، اور ان کے حقوق کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔"