Wed, September 16, 2026

جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک فیلڈ مارشل کا اثر و رسوخ: روایتی سفارت کاری کے بجائے 'ملٹری ڈپلومیسی' سے عالمی بحرانوں کا حل

جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ تک فیلڈ مارشل کا اثر و رسوخ: روایتی سفارت کاری کے بجائے 'ملٹری ڈپلومیسی' سے عالمی بحرانوں کا حل

واشنگٹن :امریکی جریدے 'دی نیشنل انٹرسٹ' نے اپنے خصوصی مضمون میں پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے غیر معمولی سفارتی کردار پر روشنی ڈالی ہے۔
 مضمون میں اعتراف کیا گیا ہے کہ جب روایتی سفارت کاری امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے میں ناکام ہو رہی تھی، تو فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستانی فوج نے اپنی ساکھ اور نظم و ضبط کو استعمال کرتے ہوئے دونوں طاقتوں کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کو ممکن بنایا۔
 فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیرِ نگرانی 12 اور 13 اپریل کو ہونے والے اسلام آباد مذاکرات نے عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا، جہاں واشنگٹن اور تہران کے حکام براہِ راست مکالمے پر آمادہ ہوئے۔فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کے سعودی عرب، چین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ دفاعی تعلقات نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا "سیکیورٹی ضامن" بنا دیا ہے جس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
 جریدے کے مطابق فیلڈ مارشل کی 'خاموش سفارت کاری' نے ثابت کیا کہ پاکستانی عسکری قیادت کے پاس وہ تزویراتی نیٹ ورک اور ڈسپلن موجود ہے جو دنیا کے مشکل ترین تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹیگز: