ہم بڑی جذباتی قوم ہیں اور نتائج اخذ کرنے میں بڑی جلدی کرتے ہیں ۔ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے ہماری بھی یہی خواہش تھی کہ ایران امریکہ مذاکرات کا جو دوسرا راﺅنڈ تھا وہ اپنے وقت پر شروع ہوتا اور کامیاب ہوتا بلکہ اس سے بھی پہلے دیگر پاکستانیوں سے بڑھ کر یہ تمنا تھی کہ پہلے ہی راﺅنڈ میں مستقل جنگ بندی ہو جاتی لیکن ظاہر ہے کہ یہ ہماری خواہشات تو ہیں لیکن زمینی حقائق بالکل بھی ضروری نہیں کہ ہماری خواہشات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں ۔ اب کیا ہو رہا ہے کہ اصل حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے اپنی ان خواہشات کو تجزیوں اور تبصروں کی شکل دے کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے لیکن اس میں بھی دو طبقات ہیں ایک وہ جو انتہائی خلوص نیت سے یہ بات کر رہا ہے اور دوسرا پاکستانی مودیوں کا وہ گروہ ہے کہ مذاکرات میں ایرانی وفد کی حال کی گھڑی تک عدم شمولیت کو لے کر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم چلا رہا ہے اور سادہ لوح پاکستانیوں کے سامنے معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر پورا یورپ ، برادر اسلامی ممالک ، روس اور چین سمیت پوری دنیا کا میڈیا پاکستان کی سیاسی اور خاص طور پر عسکری قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی امن بحالی اور جنگ بندی کے لئے کی جانی والی انتھک کوششوں اور کاوشوں کو داد تحسین پیش کر رہا ہے ۔ جہاں تک ایرانی قیادت کی بات ہے کہ ان کی جانب سے بھی پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کے متعلق ما سوائے خیر سگالی کے جذبات کے ابھی تک کوئی اور بات نہیں کہی گئی لیکن منفی پروپیگنڈا مہم چلانے والوں کی بد نیتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ عوام میں پاکستانی اور ایرانی قیادت کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے کےلئے ہر طرح کے جھوٹ اور مکر و فریب سے کام لے رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چند دن پہلے فیلڈ مارشل صاحب کے دورہ ایران کے دوران انہیں جو بے پناہ عزت و احترام دیا گیا ہے اور پھر ان کا بار بار اس بات کا اعادہ کرنا کہ ہمارے لئے پاکستان ہی واحد ثالث ہے تو اس کے بعد یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ وہاں سے کسی بھی قسم کی کوئی ایسی بات کہی جائے گی جو کسی بھی پیرائے یا مفہوم میں پاکستان یا اس کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف جاتی ہو ۔
جہاں تک ایران کی جانب سے ابھی تک مذاکرات میں شامل نہ ہونے کی بات ہے تو ہم ایران کی مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے جو بھی بات کر رہے ہیں یا جو بھی دلائل دے رہے ہیں وہ سب پاکستان کے نقطہ نظر سے ہیں لیکن ایران کا بھی اپنا ایک نقطہ نظر ہے کہ اس کے دو بحری جہاز امریکہ نے قبضہ میں لے رکھے ہیں اس کے پانیوں پر امریکہ نے بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے تو اس کے بعد ایرانی قیادت کو بھی اپنی عوام کے سامنے جانا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں کہ جب مذاکرات چل رہے ہوں اور دو امریکن بحری بیڑے یو ایس ایس جیرالڈ روڈلف فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن پہلے سے خلیج فارس میں موجود ہوں تو تیسرے بحری بیڑے یو ایس ایس جارج ہربرٹ واکر بش کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس کے علاوہ خلیج میں مزید فوجی بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات کہ امریکا سمیت پوری دنیا کا میڈیا صحیح یا غلط اس جنگ میں ایران کو فاتح قرار دے رہا ہے اور یہ بات خود ٹرمپ بھی ایک سے زائد بار کہہ چکا ہے ۔ اس کے علاوہ ایران اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن امریکہ کو اپنی سر زمین سے ہزاروں کلو میٹر دور آنا پڑتا ہے اور بغیر کسی جنگ کے صرف یہاں اپنی موجودگی پر اسے روزانہ کئی سو ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں ۔ اب تھوڑی سی تفصیل جو امریکی اسلحہ کے متعلق یورپین میڈیا نے دی ہے کہ اس چند روزہ جنگ میں 30%ٹوما ہاک کروز میزائل ، 50%تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور45%سٹرائیک میزائل ختم ہو چکے ہیں اور امریکہ نےF-35طیاروں کی سالانہ خریداری کو بڑھا کر تعداد 85 کر دی ہے ۔
سب سے اہم بات کہ امریکن قانون وار پاورز ریزولیشن کے تحت امریکی صدر کانگریس کی اجازت کے بغیر کوئی جنگ شروع تو کر سکتا ہے لیکن 60روز کے اندر کانگریس کی اجازت لینا ضروری ہے اور اب اس وقت کو ختم ہونے میں ایک ہفتہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ۔ امریکہ میں اس وقت یہ صورت حال ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کافی حد تک نیچے گر چکی ہے اورجنگ کی حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور جنگی اخراجات کی مد میں امریکن فوج نے 200ارب ڈالر بھی مانگ رکھے ہیں ۔ ایسی صورت حال میں کانگریس سے اجازت لینا کوئی اتنا آسان کام نہیں ہو گا ۔ ان تمام حقائق کا علم اگر ہم ایسے عامی کو ہو سکتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان اور ایران کی قیادت کو اس کا علم نہ ہو ۔ یقینا دونوں ممالک کی قیادت کو ان تمام حقائق کا ہم سے کہیں بہتر علم ہو گا اور اور بھی بہت سے حقائق جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں اور جن کا ذکر میڈیا میں نہیں کیا جا سکتا ان کا علم بھی ہو گا ۔ ان تمام زمینی حقائق کے تناظر میں کیا یہ ممکن نہیں کہ جو کچھ پیش منظر میں نظر آ رہا ہے پس منظر اس پر پاکستان اور ایران دونوں ممالک کی قیادت کا اتفاق رائے ہو تو تسلی رکھیں اور خدائے پاک کی ذات سے بہتری کی امید رکھیں ۔