یہ بات بہت پرانی نہیں ہے۔ شائد صرف ایک نسل پہلے کا ذکر ہے جب گھر کا ایک خاص تصور ہوتا تھا۔ گھر کے تصور کی بنیادی خصوصیات میں تحفظ، اپنائیت، محبت، آپس کی عزت اور آزادی وغیرہ شامل تھے۔ ان سب اجزائے ترکیبی کے باعث گھر سکون اور سیلف رسپیکٹ کی علامت تھا۔ ان جذبات کے بغےر اگر کچھ لوگ اےک چھت تلے رہ بھی رہے ہوتے تو وہ گھر کے حقےقی تصور سے دور ہوتے تھے۔ اس لیے اسے گھر کی بجائے مکان کہا گیا۔ مکان کو گھر بنانے کی خواہش لے کر ہندوستان کے مسلمانوں نے ایک کونے مےں زمےن حاصل کی اور اس کٹی پھٹی جگہ پر لٹے پٹے انسانوں نے مل کر اپنے گھر پاکستان کی تعمےر کا ارادہ کےا۔ 1947ءسے لے کر 2026ءکے آغاز تک تقریباً 78برسوں سے زائد عرصے مےں انفرادی اور اجتماعی طور پر پاکستانےوں پر اپنے گھر مےں کےا کےا بےتی اس کا مطالعہ کرےں تو تارےخ کے صفحات آنسوﺅں میں بھےگے نظر آتے ہےں۔ سب سے پہلے ےہاں کی خارجہ پالےسی آسےب زدہ ہوگئی۔ اسی کے نتےجے مےں گھر کے اُس وقت کے سربراہ وزےراعظم لےاقت علی خان کو گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد اس گھر کے ڈرائنگ روم مےں اپنے ہی گھر والوں کے خلاف جوڑتوڑ اور محلاتی سازشوں کا آغاز ہوگےا۔ جب کسی نے اس گھر مےں عزت مانگی ےا اپنی مرضی سے رہنے کی خودمختاری چاہی تو اسے غدار کہا گےا۔ ےوں سب سے پہلے بنگالی اس گھر مےں اجنبی ہوگئے۔ گھر کے اندر اجنبےت کا سلسلہ پھر بھی رکا نہےں ےوں ہی چلتا رہا۔ 1973ءمےں آئےن پر سب نے دستخط کردئےے مگر آپس مےں اتفاق سے نہ رہ سکے۔ اےک ہی مذہب کے کئی خانے بنا دئےے گئے۔ بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمےان اےک دوسرے کا حق مارنے کی شکایتیں پیدا ہوئیں۔ ےہ سب کچھ اےک ہی گھر کے اندر ہوتا رہا۔ صدی بدلی تو نفرت اور دشمنی کے رویئے بھی بدل گئے۔ دوسرے کو گولی سے مارنے کی بجائے بم سے مارا جانے لگا۔ دےن کے نام پر اپنوں کے پرخچے اڑائے جانے لگے۔ سےاست مےں مخالفےن کو ووٹ کی بجائے خودکش حملے کے ذرےعے ختم کےا جانے لگا۔ نوبت ےہاں تک پہنچ گئی کہ اس پاک گھر پاکستان مےں بسنے والے اےک دوسرے کو کسی حد تک قبول کررہے ہےں اور نہ ہی اےک دوسرے کے ہاتھوں ان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہے۔ اس بڑے گھر کی تہذےبی توڑپھوڑ کے بعد اگر ہم انفرادی گھروں کا جائزہ لےں تو وہاں بھی پہلے والی خےر نہےں ملتی۔ مثلاً بچے کسی بھی گھر کا سب سے معصوم اور خوبصورت حصہ ہوتے ہےں۔ ان کے چہروں سے بے فکری اور مستقبل کی امےد کا نور جھلکتا ہے لےکن اب معاشرتی تناﺅ، گھرےلو لڑائی جھگڑوں اور ماں باپ کی خواہش پر مقابلے کی دوڑ کی بھےنٹ چڑھے ہوئے یہ بچے پھول کلےوں کی طرح کھلے ہوئے نہےں ہوتے۔ آپ بےشتر بچوں کو غور سے دےکھئے۔ ان کے چہرے پچاس سال قبل کے بچوں کی طرح دھلی ہوئی صبح کی مانند شفاف نہےں ہوں گے بلکہ معصومےت، بے فکری اور مسکراہٹ کی بجائے ان ننھے فرشتوں کی شکلوں پر سنجےدگی، فکر اور غصہ نظر آئے گا۔ مےاں بےوی کو لیجئے۔ پہلے دونوں مےں احترام کا رشتہ ہوتا تھا پھر اسے محبت کا نام دےا گےا۔ آہستہ آہستہ دونوں کے بےنک اکاﺅنٹ تو الگ ہوئے ہی ذاتی معاملات بھی علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ اب دونوں کی اپنی اپنی پرائیویسی ہے۔ آگے چلئے۔ خاتون گھر کا مرکزی کردار ہوتی تھی۔ پہلے اس کا دھےماپن، صبروشکر کی عادت اور نرم مزاجی گھرکو جنت بنائے رکھتی تھی۔ ےہی خاتون غصے کے جذبے سے ناواقف تھی لیکن ےہ سب کچھ اب اکثر اوقات گھر کی بجائے گھر سے باہر نظر آتا ہے۔ دوسروں سے ملتے ہوئے، تقرےبات مےں شامل ہوتے ہوئے ےا کام کی جگہ پر اپنے کولےگز سے مےل ملاقات کرتے ہوئے عموماً بےشتر خواتےن بہت خوش مزاج نظر آتی ہےں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھےلی ہوتی ہے۔ نرم گفتاری اور دھےمے پن کا شاندار مظاہرہ کےا جارہا ہوتا ہے لےکن جونہی ےہی خواتےن اپنے گھروں مےں داخل ہوتی ہےں تو ان پر جھنجلاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ نرمی اور دھےمے پن کی جگہ غصہ لے لےتا ہے۔ گھر سے باہر اپنے آپ کو بالکل فٹ ظاہر کرنے والی خواتےن جب تک گھر مےں رہتی ہےں تھکی تھکی رہتی ہےں۔ اسی طرح پہلے مرد گھر کے تحفظ، معاشی ضرورےات اور مضبوطی کی علامت ہوتے تھے۔ اس کی بردباری اور زےرکفالت کنبے سے شفقت، اس کے احترام کا باعث ہوتی تھی۔ انہی کے سبب وہ گھر کا سربراہ کہلاتا تھا مگر اب اکثر مرد اپنے گھر مےں موجود لوگوں کو اپنی رعاےا تصور کرتے ہےں۔ گھر مےں دھاڑتے اور غصے سے آگ بگولہ رہنا اکثر مردوں کی مردانگی ہے جبکہ گھر مےں ےہی ناقابل تسخےر مرد باہر کی دنےا مےں بے حد ملنسار، صاحب متانت اور ٹھنڈے مزاج کے ہوتے ہےں۔ اپنے گھر کی خواتےن اور بچوں کے سامنے آگ اگلتے ہوئے ےہ توپ خانے جب باہر کسی صنف نازک سے ملتے ہےں تو گل وگلزار ہوتے ہےں۔ مونچھوں کے نےچے ہنستے دانت دےکھ کر کوئی نہےں کہہ سکتا کہ یہ صاحب گھر کی دہلیز میں داخل ہوتے ہی سڑیل پن کا عالمی اےوارڈ حاصل کرسکتے ہےں۔ گھر کے بےشتر سربراہ جو گھر سے باہر بے حد مہذب اور انسانی حقوق کے علمبردار ہوتے ہےں گھر مےں بھٹہّ مالکان کی طرح رہتے ہےں۔ تہذےبی تبدےلےاں ہمےشہ سے ہوتی آئی ہےں اور ےہ ضروری بھی تھےں۔ تب ہی اےک جدےد اور مہذب معاشرے کا قےام ممکن ہوسکا ورنہ حضرت انسان اب بھی پرانے انسانوں کی طرح پتوں سے جسم ڈھانپتا، درختوں اور غاروں مےں رہتا لےکن ہمارے ہاں تہذیبی تبدیلی کے نام پر کچھ اور ہی ہوا ہے جس کی وجہ سے باہمی اعتماد، رحم دلی اور امن جاتا رہا ہے۔ آج بچوں کے پاس شعور، علم اور جدےد ٹےکنالوجی موجود ہے مگر ان کے چہروں پر تازگی کی بجائے صدےوں کی مسافت کے اثرات نماےاں ہےں۔ آج مےاں بےوی دو پہئے تو ضرور ہےں مگر اےک ہی گاڑی کے نہےں بلکہ ساتھ ساتھ کھڑی دو علےحدہ علےحدہ گاڑےوں کے ہےں۔ آج خاتون پہلے سے زےادہ بااختےار، آزاد، باشعور، تعلےم یافتہ اور صحت مند ہے مگر گھر کی جنت کی صحت خراب ہوچکی ہے۔ آج مرد اپنے ہی گھر میں اےک حملہ آور فاتح کی طرح رہتا ہے۔ ان سب حالات کو دےکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ہم سب گھروں کی بجائے مکانوں میں رہتے ہیں۔ ہم نے 2026ءکے لیے بہت سی دعائیں مانگی ہوں گی لیکن نئے سال کے لیے یہ دعا کیسی ہے؟
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اُس کو گھر کردے