Wed, September 16, 2026

اُف یہ غلامی

اُف یہ غلامی

ایک عرصے تک محکوم رہنے والی قومو  ں میں ، دیگر بہت سی قباحتوں کے ساتھ، ایک خاص قسم کا” محکومیت بھرا“ مزاج تشکیل پایا جاتا ہے۔ اس مزاج کے حامل لوگ ذہنی طورجن سے مرعوب یا مغلوب ہوتے ہیں، اِن کی اس حد تک تابع فرمانی کرتے ہیں کہ اُن کے عیب بھی ان کو نظر نہیں آتے جبکہ جواُن کے محکوم یا مخالف ہوتے ہیں ،ان سے اس حد تک خائف ہوتے ہیں کہ اُن کے ہنر بھی انہیں دکھائی نہیں دیتے۔۔۔۔!ایسے محکومانہ مزاج میں پلتے پلتے ان میںپست درجے کا ایک اور مزاج تشکیل پایا ہے جسے ’ ’ تماش بین مزاج“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس مزاج میں دوسروں کی کمزوریوں سے کھیلنا، اُن کی خامیوں کو اچھالنا، اپنے اندر حسد اور بغض رکھنا جبکہ بظاہر دوسروں کی تعریف کرنا اور اپنی ذراسی خوشی و مسرت کے لیے دوسرے کے جذبات و احساسات کو بے رحمی سے اپنے قدموں تلے روند دینا شامل ہے۔۔!دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر یاتکلیف میں مبتلا کرکے اُن کو ایک خاص قسم کی اندرونی مسرت حاصل ہوتی ہے۔۔۔! 
 اس قسم کے مزاج کاایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ مزاج اپنا ایک حلقہ اثر بنا کر کسی اور کی کسی چھوٹی موٹی بات کو پکڑ کر، خود کو ایک دائرے میں قید کر لیتا ہے اور دوسروں پر سنگ باری شروع کردیتا ہے۔۔۔ اس سے آپس میں معاشرتی تعلقات تو متاثر ہوتے ہی ہیں، ساتھ ہی ساتھ بھائی چارے ، یگانگت اور اپنائیت کی فضا بھی زہر آلود ہوجاتی ہے اور بالکل غیر محسوس انداز میں معاشرہ غیر صحت مند رجحانات کی طرف مڑ جاتا ہے۔مثبت چیزوں کی نسبت ایک دوسرے پر شک، تنقید اور ”میں بالکل درست “ جبکہ ” دوسرا یکسر غلط“،جیسے رویے جنم لیتے ہیں جو صحت مند معاشرتی روایات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے تعصبات سر اُٹھا کر ایک دوسرے کو کانٹوں کی طرح چبھنا شروع ہو جاتے ہیں اور محض چھوٹی چھوٹی باتوں اور انا پسندی کے جھوٹے حصار سے بڑے بڑے کاموں میں رکاوٹ آجاتی ہے۔۔۔! 
”تماش بینی “ کی زد میں اپناآپ تو آتا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس بہاﺅ میں اور بھی بہت کچھ بہہ جاتا ہے ۔زندگی میں ایسے لوگ، اپنی حرکتوں کی وجہ سے ، اکثر ایسے مواقع سے محروم رہتے ہیں جو اُن کی صلاحیتوں کے مطابق ہوں اورخوش قسمتی سے اگران کو ایسے مواقع مل بھی جائیں تو یہ اپنے اندر پائے جانے والے ایک خاص ”احساس تفاخر نما احساس کمتری“ کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اُٹھاپاتے اور محروم کے محروم ہی رہتے ہیں۔
دوسری طرف ،آزادی کی خصلت انسان کو وسیع ظرف عطا کرتی ہے جبکہ غلامی کی خوانسان کو پست گفتار اور پست کردار بنا دیتی ہے۔ شعور کی ایک سطح وہ ہے جہاں انسان بدکلامی کا جواب بدکلامی سے دیتا ہے اور اینٹ کے جواب میںپتھر مارتا ہے۔ دوسری سطح وہ ہے جہاں بدکلامی کے جواب میںخاموشی اختیار کی جاتی ہے اور بدکلامی کرنے والے کو اس کے حال پر چھوڑ چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ تیسری سطح پر انسان نہ صرف اپنے جذبات پر قابو پالیتا ہے بلکہ بد اخلاقی کا جواب بہترین اخلاق سے دیتا ہے۔اور اسی منزل کی مسافت میں سفر کرتے کرتے ایک وقت آتا ہے کہ برداشت اور حسن ِاخلاق کا یہ مظاہرہ بدترین دشمن کو بھی بہترین دوست بنا دیتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو برصغیر کا خطہ ”چندر گپت موریہ “ کے دور سے لے آج تک ، ہزاروں سالوں کے بعد بھی ، برابری کی سطح پر عدل ، انصاف ، تعلیم اور معاشرتی طرز حیات میں ” برابری اور مساوات “ سے محروم رہا ہے ۔ یہاں حسب نسب ، ذات پات ، اونچ نیچ ، شودر، ویش، کھشتری ،برہمن، کمزور کو دبانا اور طاقتور کی غلامی کرناجیسے تعصبات شروع دن سے ہی انسانیت کے گلے کا طوق رہے ہیں۔وقت آنے پر’ ’بہترین غلام “اور ”برترین حاکم “یہاں کا صدیوں پرانا وتیرہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ مفاد پرستی اور گروہی تعصبات کے ساتھ ساتھ اپنی غلامانہ خو کی وجہ سے ایسی کئی علتوں کا شکار ہورہے ہیں جو نہنگ انسانیت بنی بیٹھی ہیں۔اس لیے اپنی اپنی سطح پر سب کو اپنا اپناجائزہ لینے اور اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور زندگی گزارنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پست مزاجی سے نکل کر بلند نگاہی، بلند کرداری، احساس، ہمدردی اور غم گساری کی خوش رنگ وادی میں داخل ہوکر زندگی کا حقیقی معنوں میں لطف اُٹھا سکیںورنہ تو یہی صورت حال رہے گی:
سنیا سی کروڑ دا
ویکھیا تے لکھ دا
راہ پےاتے سودا
واہ پیا تے ککھ دا

ٹیگز: