Wed, September 16, 2026

ڈالر کی غلامی…؟

ڈالر کی غلامی…؟

یہ پی ٹی آئی کی سیاسی بدقسمتی اورعمران خان صاحب کے لیے کوئی برا شگُن ہی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ سات آٹھ ماہ سے  ہمارے خطے اور عالمی حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں کہ ڈومیسٹک سیاست ختم ہے اور پاکستان کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ خطہ ہو یا عالمی دنیا سب کچھ پاکستان کے حق میں جارہا ہے ماضی قریب سے دیکھیں تو یہ سب پہلی بار ہورہا ہے کہ دنیا ہر معالمے اور مسئلے پر پاکستان سے نہ صرف صلاح مشورہ کررہی ہے بلکہ اپنے ساتھ لے کر چل رہی ہے۔اس کی ایک وجہ تو ظاہر ہے پاکستا ن کی ریاست ہے اس کا وجود اور اللہ کا کرم ،جبکہ دوسری بڑی وجہ اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت ہے۔ قیادت کے مسئلے پر کچھ دوست اختلافی نوٹ لکھ سکتے ہیں لیکن میں اس کو ایک حقیقت مانتا ہوں کہ ریاست انسانوں سے وجود میں آتی ہے اور قیادت بھی انسان ہی کرتے ہیں۔
پاکستان اسی خطے میں معرکہ حق میں فتح سے پہلے بھی تھا لیکن دنیا اس خطے کو ہندوستان کی نظر سے دیکھ رہی تھی ۔ ہم شاکی تھے کہ ہمیں وہ مقام کیوں نہیں دیا جاتا جو بھارت کو عالمی سطح پر حاصل ہے تو اب یہی شکوہ بھارت سے سننے کو ملتا ہے۔آج میں اصل وجہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔یہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے فوری بعد کے ایام ہیں ۔یہ وہ دن تھے جب ہندوستان باولے جانور کی طرح پاکستان کے پیچھے تھا۔ پاکستان کی قیادت ہندوستان کی طرف سے آنے والے جارحانہ سگنلز کو ڈی کوڈ کررہی تھی ۔ہندوستان کے جنگی عزائم جب عالمی دنیا تک پہنچے تو کچھ مشترکہ اور کچھ ہندوستان کے دوست سرگرم ہوگئے ۔انہوں نے دونوں جانب رابطے کرکے خطے کو جنگ سے باز رکھنے کے لیے کاوشیں شروع کردیں۔رابطہ کرنے والوں میں امریکا ،قطر،سعودی عرب اور ایران شامل تھے۔امریکا کے علاوہ باقی تمام مشترکہ اور غیر مشترکہ دوست ہندوستان کے جارحانہ رویے کو دیکھ کر پیچھے  ہٹتے چلے گئے ۔ یہ دوست جب پاکستان سے بات کرتے تو یہاں پاکستان کی قیادت کی طرف سے کہا جاتا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی پہلگام میں پاکستان کا ہاتھ ہے اگر ہندوستان چاہتا ہے تو اس معاملے کی شفاف تحقیقات جہاں سے چاہے کرا سکتا ہے۔ یہ پیغام لے کر جب دوست ہندوستان کی طرف جا تے تو وہاں سے غرور، گھمنڈ اور جارحانہ رویے سے ان کا سامنا ہوتا۔
آخری کوششیں امریکا کی طرف سے کی گئیں اور بہت بڑے پیمانے پر کی گئیں ۔ امریکی صدر اور نائب صدر براہ راست اس جنگ کو ٹالنے کے لیے میدان میں اتر چکے تھے لیکن ہندوستانی رویے اور پاکستان کے ساتھ جنگ لگانے کے پاگل پن نے امریکہ جیسی قوت کو بھی ہندوستان سے مایوس کردیا۔ ممکن ہے ہندوستان سے دوری میں دیگر عوامل بھی شامل ہوں کیونکہ آخر میں بحرحال قومی مفاد ہی بچتے ہیں ۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پہلگام کے بعد دونوں اطراف رابطہ کرنے والوں نے مئی کے پہلے ہفتے پاکستان کی قیادت اور ہندوستان کی قیادت کے رویوں، امن کی خواہش،دنیا کے ساتھ چلنے اور تعاون کرنے کا جو واضح فرق دیکھا وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کو زمین سے آسمان تک لے گیا۔دوسری طرف جنگی جنون نے ہندوستان کو زمین سے بھی نیچے سفارتی پستی کی گہری کھائی میں دھکیل دیا یہاں سے وہ آج بھی نکلنے میں ناکام ہیں۔پاکستان کو اللہ نے عزت دی اور معرکہ حق کے بعد آج تک ہونے والی تبدیلیوں میں پاکستان کا کردار بہت بڑا ہی نہیں بلکہ مرکزی ہوگیا۔
پاکستان کو عالمی سطح پر سنٹر سٹیج ملا تو ہماری اندرونی سیاست پر اس کا گہرااثر دیکھنے میں آیا ۔ وہ سیاسی مسائل جو عام حالات میں پاکستان کو گھیرے رکھتے ہیں وہ پیچھے بلکہ بہت پیچھے چلے گئے، پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب بھی پیچھے جانے والے عناصر میں شامل ہوگئے ۔اس وقت وہ مکمل نظر انداز ہورہے ہیں اور توجہ کے طالب ِ شدید ہیں ۔اسی لیے گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل پی ٹی آئی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر ذاتی حملے اور کیچڑ اچھال رہی ہے۔لیکن توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے کیونکہ پی ٹی آئی ریاست کی تمام حدیں عبور کرچکی ہے جو اس کے لیے کچھ بھی اچھا نہیں لاسکتی۔میں کالم لکھ رہاتھا تو ڈی این ڈی کے ایڈیٹر ان چیف آغا اقرار ہارون نے اپنا ایک آرٹیکل بھیج دیا ۔میں تاریخی حقائق اپنے قارئین کے ساتھ بانٹنے کے لیے مجبور ہوررہا ہوں کیونکہ بات پاکستان کی ہے اور جھوٹے پروپیگنڈے کے سامنے سچ رکھنے کی ہے، یہ وہ جھوٹ ہے جو ہماری مسلح افواج کے خلاف بولاجاتا ہے کہ ہم ڈالروں کی خاطر جنگ لڑتے ہیں۔
’’ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی جانب سے دو دہائیوں سے ایک منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ''پاکستان اور پاک فوج ڈالر لے کر امریکہ کی جنگ لڑتی ہے''، ''جرنیل ڈالر بھر بھر کر کھاتے ہیں''، ''پاکستان امریکہ کا غلام ہے''۔ یہ الزام بار بار دہرایا گیا جبکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، جب امریکی حکومت کے اپنے سرکاری اعداد و شمار کھول کر دیکھیں تو پوری تصویر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس اور USAID کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1946 سے 2024 تک امریکہ کی طرف سے دی جانے والی کل معاشی اور فوجی امداد کے ٹاپ 10 وصول کنندہ ممالک یہ ہیں۔
1 اسرائیل – تقریباً 310 ارب ڈالر ۔2 مصر – تقریباً 170 ارب ڈالر 3 افغانستان – تقریباً 160 ارب ڈالر (2001–2021 تک)4 جنوبی ویتنام 5 جنوبی کوریا 6عراق 7یوکرین (حالیہ برسوں میں)  8اردن 9 ترکی 10 ویتنام (موجودہ)پاکستان اس ٹاپ 10 لسٹ میں بھی شامل نہیں ہے۔
یہاں تک کہ اگر ہم صرف 2001 کے بعد کی ''وار آن ٹیرر'' والی امداد دیکھیں تو بھی افغانستان سب سے آگے ہے۔ صرف 2002 سے 2021 تک افغانستان کو 145–160 ارب ڈالر دیے گئے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو Coalition Support Fund (CSF) کے تحت تقریباً 14.6 ارب ڈالر اور دیگر امداد ملا کر کل 33 ارب ڈالر کے قریب امداد ملی، جو افغانستان کے مقابلے میں چوتھے حصے سے بھی کم ہے۔ پھر بھی افغانستان اور ہمارے اندر کے چند ''دانشور'' یہ الزام لگاتے ہیں کہ ''پاکستان نے ڈالر کھا کر افغانستان کو تباہ کیا''۔ عجیب بات ہے کہ جو ملک  160 ارب ڈالر لے کر بھی اپنا ملک نہ بچا سکا، وہ آج پاکستان پر کیچڑ اچھال رہا ہے، جبکہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر 80 ہزار سے زائد شہریوں اور 9 ہزار سے زیادہ فوجیوں کی قربانی دی۔  130 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا  اپنی سرحد پر 35 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پالے، جن کی میزبانی پر عالمی برادری نے کبھی پورا خرچ نہیں دیا۔‘‘
یہ وہ قربانی ہے جو کسی ''ڈالر کی غلامی'' میں نہیں دی جاسکتی۔ یہ قربانی اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے دی جاتی ہے۔اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ قربانیاں دینے سے گریز نہیں کرتی۔

ٹیگز: