Wed, September 16, 2026

پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر

پہلگام واقعہ کا الزام پاکستان پر

 بھارت ماضی کی طرح ایک بار پھر جھوٹے اور من گھڑت واقعات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سفارتی دوروں پر فالس فلیگ آپریشنز بھارت کا وطیرہ ہے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ امریکی نائب صدر کے دورہ بھارت کے موقع پر بھی اسی نوعیت کا ڈرامہ رچایا گیا تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا سکے۔ مقبوضہ کشمیرکا واقعہ فالس فلیگ ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرتا چلا آ رہا ہے، یہی اس کا ٹریک ریکارڈ ہے، بھارت نے کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کیا اور انہیں قتل کیا۔ پہلگام واقعے کے چند ہی لمحوں بعد، ایک را کی پشت پناہی سے چلنے والا اکاؤنٹ "بابا بنارس" فوری طور پر پاکستان اور لشکرِ طیبہ سے منسلک TRF پر انگلی اٹھاتا ہے، حالانکہ نہ TRF نے ذمہ داری قبول کی، اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پاکستان سے روابط کی تصدیق کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جس پی ٹی سی ایل کوڈ (949) کا ذکر کیا گیا، وہ بھی پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے باوجود، بھارتی میڈیا وہی بیانیہ دہراتا ہے اور چند لمحوں میں بھارت، جو خود کشمیریوں اور سکھوں پر بدترین مظالم ڈھا رہا ہے، دہشتگردی کا "شکار" بن کر پیش آتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ بھارت کی سوچی سمجھی سازش ہے۔بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے ڈرامے رچاتا ہے۔سفارتی دوروں پرفالس فلیگ آپریشنزبھارت کا وطیرہ ہے۔ امریکی نائب صدرکے دورے کے موقع پر بھارت نے ڈرامہ رچایا۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایک ہسپتال کی فہرست کے حوالہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 26 ہے جو تمام مرد تھے جب کہ پولیس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں مزید 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ہوا جو مسلمان اکثریتی علاقے میں واقع ہے، پہلگام میں موسم گرما کے دوران ہزاروں سیاح وادی کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ 22 اپریل کو پہلگام میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 24 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والوں کا تعلق بھارت کے مختلف شہروں سے تھا، ایک غیر ملکی سیاح نیپالی تھا۔ بھارتی بیانیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگرد ایل او سی عبور کر کے 70 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پہلگام جیسے انتہائی محفوظ اور گنجان آباد علاقے (جسے "منی سوئٹزرلینڈ" کہا جاتا ہے) تک پہنچے اور صرف ان افراد کو نشانہ بنایا جنہیں وہ کشمیری جدوجہد کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے — یعنی غیر ملکی اور ہندو سیاح۔ اس حملے میں شہید ہونے والے مسلمان کو بھارتی میڈیا نے یکسر نظرانداز کیا۔ واقعہ 20 منٹ سے زائد جاری رہا، مگر سکیورٹی فورسز کا کوئی مؤثر ردعمل نہ آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
 بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وڈرا نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی صاحبزادی پریانکا گاندھی کے شوہر رابرٹ وڈرا کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی کا نتیجہ ہے۔ رابرٹ وڈرا کے مطابق ملک میں ہندوتوا کا پرچار کیا جاتا ہے، اقلیتوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت اقلیتوں کی عبادات پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، مساجد کو مندروں میں بدلنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں۔گرجا گھروں کو آگ لگائی جاتی ہے ، مسلمان اور دیگر اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں، عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے، پہلگام کا واقعہ ہندوتوا کی سوچ کا ردعمل ہوسکتا ہے۔
 بھارت نے اپنی مرضی سے انتخاب جیتنا چاہا مگر کشمیر کے عوام نے اْسے ناکام بنادیا، کشمیر میں مسلسل مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ پہلگام میں جو واقعہ پیش آیا وہ مودی حکومت نے جان بوجھ کر منصوبہ بندی سے کیا ہے تاکہ اس کو بنیاد بناکر کشمیر میں آپریشن بڑھایا جائے اور عوام کو گھروں سے بے گھر کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد سری نگر کے رہائشی بھارتی فوج پر برس پڑے اور پہلگام حملے کو حکومت، انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے آزادانہ و تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کر ڈالا۔بھارت کی 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں حملہ کیسے ہوا؟ سکیورٹی کہاں تھی؟ امیت شاہ مسلمانوں کے خلاف بیانات کے علاوہ کچھ نہیں کرتے، یہ حملہ پرامن کشمیریوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، یہ حملہ چھتی سنگھ پورہ جیسے فالس فلیگ آپریشن کی یاد دلاتا ہے۔ لال گیٹ گرنیڈ حملے کی رپورٹ کہاں ہے؟ کس نے کیا تھا؟ لال گیٹ کا رہائشی ہوں، 1990ء سے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، 1990ء میں بھی کشمیریوں نے کسی سیاح کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ بھارتی ریاست اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعے کا الزام پاکستان پر ڈالے یا اپنی سکیورٹی کی ناکامی کو تسلیم کرے، جب کہ گزشتہ 30 برسوں سے مقبوضہ وادی میں 8 لاکھ سے زائد فوج تعینات ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت نے حالات معمول پر آنے اور سیاحت کے فروغ کا دعویٰ کیا، مگر دہشتگردی کا واقعہ وادی کے قلب میں انہی دعوؤں کو چیلنج کر گیا۔

ٹیگز: