پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حکومتیں بدلتی رہیں، اپوزیشن کے چہرے تبدیل ہوتے رہے اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والے بھی بدلتے رہے، مگر ایک چیز تقریباً مستقل رہی سیاسی محاذ آرائی کی معاشی قیمت دھرنا چند دن بعد ختم ہو سکتا ہے، کنٹینر سڑک سے ہٹ سکتا ہے اور بند بازار دوبارہ کھل سکتا ہے، لیکن اس دوران رکی ہوئی تجارت، ضائع ہونے والے پیداواری گھنٹے، اضافی سکیورٹی اخراجات اور متاثر ہونے والا سرمایہ کاروں کا اعتماد فوری واپس نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں دھرنوں اور لانگ مارچوں کی تاریخ کسی ایک جماعت کا مقدمہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلے کی کہانی ہے جس کا بل بالآخر معیشت ادا کرتی ہے۔
اس کی ایک بڑی مثال 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ یہ واقعہ نگران دورِ حکومت میں پیش آیا، مگر اس کے بعد احتجاج، تشدد اور کاروباری بندش نے معاشی سرگرمی کو شدید متاثر کیا۔ اس وقت مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 115 سے 120 ارب روپے لگایا گیا، جس میں لگ بھگ 64 ارب روپے پیداواری سرگرمیوں اور 35 ارب روپے محصولات کے نقصان سے منسوب کیے گئے۔ ریلوے سمیت سرکاری و نجی املاک اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو سیاسی محاذ آرائی ختم نہیں ہوئی۔ مارچ 2009 کی وکلا تحریک اور لانگ مارچ کے دوران راستے بند کرنے کے لیے ہزاروں تجارتی کنٹینرز روکے گئے۔ اس وقت کاروباری نمائندوں کے مطابق کنٹینر کا یومیہ چارج تقریباً سات ہزار روپے تھا اور صرف اس مد میں تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ روپے نقصان کا تخمینہ سامنے آیا۔ تجارتی سامان کی ترسیل رکنے اور سپلائی چین متاثر ہونے کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔
یہی منظر مسلم لیگ ن کے دور میں بھی نظر آیا۔ 2014 کے طویل اسلام آباد دھرنوں کے دوران سکیورٹی انتظامات پر تقریباً 69 کروڑ 56 لاکھ روپے خرچ ہونے کا آڈٹ ریکارڈ سامنے آیا، جس میں تقریباً 4 کروڑ 24 لاکھ روپے صرف کنٹینرز کے کرائے کی مد میں ادا کیے گئے۔ اسی عرصے میں تقریباً 2.4 ارب ڈالر کی متوقع بیرونی رقوم کی آمد میں تاخیر ہوئی جبکہ تقریباً 800 ملین ڈالر کی متوقع OGDCL حصص فروخت بھی مؤخر ہوئی۔
2017 کے فیض آباد دھرنے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان نقل و حرکت متاثر کی۔ بعد میں سامنے آنے والے اعداد میں اس واقعے سے منسلک دستاویزی نقصان تقریباً 23 کروڑ 18 لاکھ روپے جبکہ 2014 کے دھرنے سے متعلق اسی نوعیت کا نقصان تقریباً 75 کروڑ 60 لاکھ روپے بتایا گیا۔ 2012 سے 2018 کے درمیان مختلف دھرنوں اور امن و امان کی صورتحال سے منسلک قابلِ شناخت نقصان مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ ارب روپے بتایا گیا۔ تاہم ان اعداد کا بڑے معاشی تخمینوں سے براہِ راست موازنہ درست نہیں، کیونکہ سکیورٹی اخراجات، پیداوار کا نقصان اور مؤخر سرمایہ کاری الگ معاشی پیمانے ہیں۔
وقت کے ساتھ ’’کنٹینر سیاست‘‘ بھی مہنگی ہوتی گئی۔ نومبر 2024 میں اسلام آباد کے 24 مقامات بند کرنے کے لیے تقریباً 800 کنٹینرز استعمال ہوئے، جن کے کرائے کی لاگت تقریباً 7 کروڑ 28 لاکھ روپے بتائی گئی، جبکہ مجموعی سکیورٹی اور متعلقہ اخراجات 50 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے۔ اب ستمبر 2026 میں یہ پیمانہ مزید بڑھ چکا ہے۔ اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر 2,000 سے زائد کنٹینرز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد پولیس نے احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے طلب کیے ہیں۔ اس رقم میں کنٹینرز کا کرایہ، پولیس اہلکاروں کی خوراک و رہائش، نقل و حمل اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کا سامان شامل ہے۔ کنٹینر کی اصل قیمت صرف کرایہ نہیں اسے منتقل کرنے کے لیے ٹریلر، کرین، ایندھن اور افرادی قوت درکار ہوتی ہے، جبکہ تجارتی کنٹینر روکنے سے سپلائی چین متاثر ہونے کا بالواسطہ نقصان الگ ہے۔
معاشی تعطل کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ نومبر 2024 میں احتجاجی صورتحال سے ممکنہ معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً 190 ارب روپے یومیہ لگایا گیا تھا۔ اب ستمبر 2026 میں ہڑتالوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور سڑکوں کی بندش سے ممکنہ نقصان کا تازہ تخمینہ تقریباً 120 ارب روپے یومیہ ہے۔ خدمات کا شعبہ 86 ارب، صنعت 25 ارب اور زراعت تقریباً 9 ارب روپے یومیہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ تخمینہ سابقہ تعطل اور موجودہ معاشی صورتحال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
یہ اعداد حتمی آڈٹ شدہ نقصانات نہیں، مگر ایک مسلسل رجحان ضرور دکھاتے ہیں۔ مظاہرین شاہراہیں بند کریں تو تجارت متاثر ہوتی ہے، جبکہ حکومت احتجاج روکنے کے لیے موٹرویز، انٹرنیٹ یا اہم راستے بند کرے تو اس کی بھی معاشی قیمت ہوتی ہے۔ آج M-1، M-14 اور جی ٹی روڈ کے بعض حصوں کی بندش جیسے اقدامات بھی اسی معاشی بحث کا حصہ ہیں۔
مستقبل کا سب سے بڑا نقصان شاید وہ نہ ہو جو کنٹینرز کے بل یا سکیورٹی اخراجات کی شکل میں سرکاری فائل پر نظر آ جائے۔ اصل نقصان وہ سرمایہ کار بھی ہے جو پاکستان کے بجائے کسی دوسرے ملک کا انتخاب کرے، وہ برآمدی آرڈر جو کہیں اور چلا جائے اور وہ ملازمت جو پیدا ہی نہ ہو۔
احتجاج جمہوری حق ہے اور امن و امان قائم رکھنا ریاست کی ذمہ داری، مگر ایک مضبوط جمہوری نظام کی کامیابی اسی میں ہے کہ دونوں کام ملک کی معاشی شریانیں بند کیے بغیر کیے جائیں۔ حکومتیں بدلیں گی، اپوزیشن بھی بدلے گی اور سیاسی مطالبات بھی، مگر کنٹینر سڑک کے جس طرف بھی کھڑا ہو، اس کا کرایہ، بند راستے کا نقصان اور سیاسی تعطل کا آخری بل پاکستان ہی ادا کرتا ہے۔