Wed, September 16, 2026

بڑے بڑے صوبوں کے ہوتے ہوئے ملک کی ترقی ممکن نہیں ، چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

 بڑے بڑے صوبوں کے ہوتے ہوئے ملک کی ترقی ممکن نہیں ، چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

اسلام آباد: پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام بہت بوسیدہ ہو چکا ہے، جس میں کام کرنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے صوبوں کے ہوتے ہوئے نظام بہتر نہیں ہو سکتا، اس لیے ہر ڈویژن کو نیا صوبہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومتی کارکردگی بہتر ہو اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایپ سپ کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جا رہے، جبکہ 70 فیصد بچے ساتویں کلاس میں پہنچ کر بھی دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک فیصد بچے یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں اور 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاع میں کامیابی حاصل کی ہے مگر پبلک ویلفیئر کے شعبے میں شدید ناکامی ہوئی ہے۔ گورننس کی خرابی ملکی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ ادارے کمزور اور ترقیاتی کام سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔

میاں عامر محمود نے لاہور کے ناظم کے طور پر اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار سکول ایسی جگہ بنائے گئے جہاں آبادی ہی نہیں تھی، جبکہ حکومت ہر بچے پر ماہانہ 4400 روپے خرچ کر رہی ہے جو کسی اچھے پرائیویٹ سکول کی فیس سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی عمارتیں اچھی ہیں لیکن تعلیمی معیار انتہائی خراب ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے صوبے اتنے وسیع ہو گئے ہیں کہ حکومتی خدمات فراہم کرنا مشکل ہو چکا ہے، اس لیے ہر ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے تاکہ ہر جگہ حکومتی سہولیات پہنچائی جا سکیں اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 75 لاکھ ہو چکی ہے جو دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتی ہے، جبکہ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی آبادی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

میاں عامر نے نوجوانوں کو ملک کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بااختیار بنانا ہوگا کیونکہ صرف ایک فیصد نوجوان یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں جو قوم کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملک کی قدر کرنی چاہیے اور انہیں سوشل میڈیا پر مل کر تبدیلی کی تحریک چلانی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں میں نئے صوبے بنانے کی تحریک بہت مقبول ہے اور بغیر اس تحریک کے ووٹ لینا مشکل ہو جائے گا۔

میاں عامر محمود نے آخر میں کہا کہ ملک کی ترقی اور بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ پاکستان کے مستقبل کے چیلنجز آج کی سوچ اور اقدام سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: