سیالکوٹ : چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترقی کے عمل میں یکسانیت نہیں ہے اور چھوٹے صوبوں کا قیام اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (ایپ سپ) کے تحت "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے موضوع پر خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمارے ملک میں صوبوں کی تعداد کم ہے، جس کی وجہ سے وسائل کی تقسیم میں عدم توازن ہے اور ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں فیڈریشن کا نظام ہے، جس میں چار صوبے ہیں۔ تاہم، ان میں سے پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے باقی تین صوبوں سے بہت بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا رقبہ سب سے زیادہ ہے، مگر وہاں کی آبادی کم ہے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے وہاں ترقی کے عمل میں مشکلات ہیں۔ ان کے مطابق، بلوچستان میں قدرتی وسائل کی کمی نہیں، لیکن ان وسائل کو وہاں کے عوام تک پہنچانا اور وہاں کے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 79 برسوں میں صرف پانچ بڑے شہر ترقی کر پائے ہیں۔ سندھ میں کراچی کے سوا دیگر شہروں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، پنجاب میں لاہور کو تمام ترقیاتی فنڈز دیے جاتے ہیں، خیبرپختونخوا میں پشاور کی ترقی کا زیادہ حصہ ہوتا ہے، اور بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کوئی خاص ترقی نہیں ہو پائی۔ ان کے مطابق، ملک بھر میں یکساں ترقی کی کمی ہے، اور اس کا حل یہ ہے کہ حکومت صوبوں میں ترقی کے فرق کو دور کرے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں کمزور ادارے کرپشن کا باعث بن رہے ہیں۔ جب ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، تو عوام کو انصاف نہیں مل سکے گا اور طاقتور افراد کے ظلم سے عام شہری محفوظ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کا مقصد عوام کو طاقتوروں کے ظلم سے بچانا ہے، لیکن اس کے لیے اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
میاں عامر محمود نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کا نظام بہت کمزور ہے، اور جمہوریت آنے کے بعد سب سے پہلے لوکل گورنمنٹ کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، لوکل گورنمنٹ کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے اور جب بھی مارشل لا آتا ہے، تو لوکل گورنمنٹ کو قائم کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود جمہوریت میں ان اداروں کو ختم کر دیا جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کے حل میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی آج 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے، مگر اس کے باوجود ہمارے پاس صرف 4 صوبے ہیں، جو کہ بہت کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے 31 صوبے، بھارت کے 39 صوبے اور امریکہ کی 50 ریاستیں ہیں، اور ان ممالک نے اپنے صوبوں کی تعداد بڑھا کر بہتر انتظامی نظام بنایا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان میں صوبوں کی تعداد میں اضافہ کر کے ہم وسائل کی مساوی تقسیم اور بہتر حکومتی نظام قائم کر سکتے ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 13 کروڑ ہو چکی ہے، جو دنیا کے کئی ممالک کی آبادی سے زیادہ ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ، خیبرپختونخوا کی 4 کروڑ اور بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے، لیکن ان صوبوں میں ترقی کے فرق کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو حکومتی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ تمام صوبوں میں یکساں ترقی ہو۔
میاں عامر محمود نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھائی جائے، اداروں کو مضبوط کیا جائے اور لوکل گورنمنٹ کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولتیں اور انصاف مل سکے۔ ان کے مطابق، پاکستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبوں کے درمیان وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور اداروں کی کمزوری ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔