Wed, September 16, 2026

پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ کے ممکنہ اثرات

پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ کے ممکنہ اثرات

اس وقت دنیا بھر میں جس تیزی سے سیاسی و دفاعی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس تناظر میں ہر ملک اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کر رہا ہے۔ ایک ملک کو اپنی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ اور داخلی امن برقرار رکھنے کیلئے کسی دوسرے ملک سے معاہدے کرنے کا پورا حق حاصل ہے، بین الاقوامی قوانین بھی اس کی مکمل اجازت دیتے ہیں۔ 17 ستمبر کو وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف جب ریاض جانے کے لیے جہاز میں سوار ہوئے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں جو دنیا کو چونکا دے گا اور خطہ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونیوالے اس باوقار معاہدہ کو ’’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدہ پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور میاں شہباز شریف نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ کیا جائے تو اسے دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اس ایک جملہ میں اتنی گہرائی اور گیرائی ہے کہ اسے نظر انداز کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئے نہیں ہیں، قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ تعلقات مستحکم ہو گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی۔ چاہے وہ مالی ضرورت ہو، تیل کی، دفاعی ضرورت ہو یا خارجہ امور، سعودی عرب ہر میدان میں پاکستان کا پارٹنر رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک عسکری تعاون کا کاغذی اعلان نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے بدلتے توازن اور عالمی سیاست کے نئے رجحانات کا اظہار ہے۔ قطر پر اسرائیل کے حملہ نے خلیجی خطہ کو ہلا کر رکھ دیا، دوحہ میں امریکی اڈے موجود تھے لیکن جب اسرائیل نے جارحانہ کارروائی کی تو امریکہ خاموش رہا۔ اس واقعہ نے عرب دنیا میں یہ تاثر گہرا کر دیا کہ واشنگٹن کی سلامتی کی ضمانت محض کاغذی لگتی ہے، اس پر عملی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جس نے سعودی قیادت کو بھی یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے نئے انتظامات کرے۔ ان کیلئے پاکستان سب سے فطری انتخاب تھا۔ ایک طرف وہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور دوسری طرف اس کی فوجی صلاحیت، جنگی تجربہ اور تاریخی روابط سعودی عرب کے لیے ہمیشہ کارآمد رہے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی فوج کی شاندار کامیابی پر بھی سعودی عرب کی نظر تھی جب شاہینوں نے چند لمحوں میں بھارت کے جدید ترین جنگی جہاز مار گرائے تھے۔ اسی لیے 17 ستمبر 2025ء کو دونوں ملکوں نے ایک دفاعی معاہدہ طے کیا جس میں کہا گیا کہ کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہو گا۔ بظاہر یہ شق ایک سادہ سا جملہ ہے مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے سعودی عرب نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اب اغیار کے بجائے مسلم دنیا کے اندر سے اپنی سکیورٹی کا شراکت دار تلاش کرے گا، اور پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف خطے کی نہیں بلکہ وسیع تر مسلم جغرافیہ کی سکیورٹی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کیلئے یہ منظرنامہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کی پہلی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی حمایت حاصل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ اب مکمل طور پر تنہا نہیں رہا۔ نئی دہلی کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اسلام آباد کو عالمی سطح پر الگ تھلگ رکھا جائے لیکن اب سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو گیا ہے تو بھارت کی حکمت عملی کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب خلیجی ممالک بھارت کے سب سے بڑے توانائی فراہم کنندہ اور لاکھوں بھارتی مزدوروں کے میزبان ہیں، کروڑوں کے زرمبادلہ کا وسیلہ ہیں بھارت سعودی عرب کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ بھارتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کا ایک اور اہم اثر سفارت کاری پر بھی ہے۔ بھارت نے پچھلے برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور سٹریٹجک تعلقات کو گہرا کیا لیکن اب ریاض نے اس کے سب سے بڑے حریف کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا ہے۔ نئی دہلی کی تشویش یہ ہے کہ کہیں خلیج میں اس کا سیاسی اثر و رسوخ کم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارتِ خارجہ نے فوری بیان دیا کہ اسے امید ہے سعودی عرب بھارت کی حساسیتوں کا خیال رکھے گا۔ یہ بیان سفارت کاری کی زبان میں ایک طرح کی بے بسی کا اظہار تھا۔ یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ دو اور خلیجی ممالک پاکستان سے ایسا ہی معاہدہ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ محض پاک سعودی تعلقات کی کہانی نہیں بلکہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس خطہ میں امریکہ کے زوال پذیر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔ اسرائیل کے قطر پر حملے اور امریکی خاموشی نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اسرائیلی مہم جوئی کو روکنے کی سیاسی قوت نہیں رکھتا۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سعودی عرب واقعی کسی پاک بھارت جنگ میں براہِ راست ملوث ہو گا؟ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا لیکن پھر بھی اس معاہدے نے پاکستان کو وہ سیاسی وزن دے دیا ہے جس سے بھارت کیلئے اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اب اگر برصغیر میں کشیدگی بڑھے تو نئی دہلی کو ہزار بار یہ سوچنا پڑے گا کہ کہیں یہ کشیدگی خلیج تک نہ پھیل جائے اور سعودی عرب سیاسی، معاشی و دفاعی سطح پر اسلام آباد کے حق میں کھڑا نہ ہو جائے۔ پاکستان اور سعودی عرب کایہ معاہدہ بیک وقت کئی پیغامات رکھتا ہے۔ مسلم دنیا کیلئے پیغام ہے کہ وہ اپنی سلامتی کیلئے اندرونی قوتوں پر بھروسہ کرے۔ امریکہ کیلئے سوچنے کا مقام ہے کہ اس کا پرانا اعتماد ختم تو نہیں ہو رہا جبکہ بھارت اپنے لیے یہ پیغام سمجھے کہ اب پاکستان اس کا صرف سرحدی حریف نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جسے ایک بڑے عرب ملک کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس معاہدہ نے خطے کے طاقت کے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس معاہدہ سے پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور نئے عالمی نظام میں پاکستان کا مقام انتہائی بلند اور پُروقار ہو گا۔

ٹیگز: