Wed, September 16, 2026

افغان روس دفاعی معاہدہ اور اس کے ممکنہ اثرات 

افغان روس دفاعی معاہدہ اور اس کے ممکنہ اثرات 

 26مئی کو روس اور افغان طالبان حکومت کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدہ ( خاص کرفضائی نظام کی فراہمی ) کو پاکستان میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ خاص کر طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یقوب کے اس بیان کے بعد کہ ” ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں افغان سرزمین پر فضائی حملوں سے باز رکھا جائے“ ۔یہ بیان پاکستان کی قربانیوں کی توہین ہے جو وہ افغان بھائیوں کی عزت و آبرو ، ایمان و اموال بچانے کے لیے گذشتہ 45 سالوں سے بغیر کسی غرض و مطلب کے دے رہا ہے ۔حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پچھلے تین سالوں کے دوران افغانستان سے دھڑا دھڑ دہشت گرد آرہے ہیں اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ جس سے دونوں برادر ملکوں کے درمیان فاصلوں کی خلیج دن بہ دن گہری ہوتی جارہی ہے ۔حتیٰ کہ افغان و پاکستانی عوام جن کے دل ایک دوسرے کے لیے ہر لمحے دھڑکتے رہتے تھے ۔ ان میں بھی دوریاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ افغان طالبان حکومت کو جذبات کی بجائے ان زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان نے صرف اور صرف اپنے دفاع کے لیے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائیاں نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کی سلامتی کے لیے بھی ناگزیر تھیں ۔ اس معاہدہ سے سب سے زیادہ خوشی مسلمانوں کے سخت ترین دشمنوں بھارت و اسرائیل کو ہو رہی ہے ۔ حیرت انگیز طور پر امریکہ نے بھی اس معاہدہ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ۔ جس سے امریکہ کی چھپی ہوئی نیت کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے ۔
صاف نظر آرہا ہے کہ روسی، افغانستان میں ہونے والی اس شکست کو ابھی تک نہیں بھولے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے اور سوشلزم کے خاتمے کا سبب بنی تھی ۔ مشرق وسطیٰ کے گمبھیر مسائل میں الجھے ہوئے پاکستا ن کو دیکھ کر روس نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اس معاہدہ کے ذریعے اپنی شکست کا سبب بننے والے دونوں فریقوں یعنی پاک اسٹیبلشمنٹ اور افغان طالبان کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔ فضائی سازوسامان دے کر پاکستان میں دہشت گردی کو جاری رکھنے کا لائسنس بھی جاری کر دیا ۔
گذشتہ تین سال کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگوں اور حالیہ معاہدہ سے صاف محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کو اپنے ازلی دشمنوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا دوست نما دشمنوں سے ہے ۔ افغان طالبان قیادت کو بھارت اسرائیل و روس کے چھپے ہوئے عزائم کو سمجھنا ہو گا۔ مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں اس حساس ایشو پر سنجیدگی سے غوروخوض کرنا ہو گا کہ کہیں وہ شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے راستوں پر نہ چل نکلیں کہ دونوں برادر ملکوں کے پاس واپسی کے تمام راستے بند ہو جائیں ۔ ورنہ دونوں جانب مرنے والے کلمہ گو مسلمان ہی ہوں گے۔ یہ اسلام کی فتح نہیں اور نہ ہی اعلائے کلمتہ اللہ کی جنگ ہو گی، بلکہ تل ابیب ، دہلی اور واشنگٹن کی فتح ہو گی۔ درحقیقت دشمن و دوست نما دشمن بھی یہی چاہتے ہیں ۔
پہلے روس کے خلاف پھر صلیبی اتحادیوں کے خلاف افغان بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ سینکڑوں پاکستانی بیٹے خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے ۔ یہ شہادتیں ذاتی و دنیاوی مفاد کے لیے نہیں تھیں ۔ بلکہ کلمہ کی بنیاد پر اپنے مسلمان بھائیوں کی سرزمین اور ان کی آزادی کے لیے دی گئی تھیں ۔ آج بھی افغانستان کے طول وعرض میں مدفن سینکڑوں پاکستانی شہداءکی قبریں ضمیروں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں ۔ جن کی مائیں ، بہنیں اور سہاگنیں اپنے پیاروں کو یاد کر کے رات کی تارکیوں میں آنسو بہاتی ہیں ۔ جو قومیں اپنے شہداءکی قربانیوں کی پامالیوں کی مرتکب ہوتی ہے ۔ پھر اللہ بھی ان کے دل سخت کر دیتا ہے اور بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔ درحقیقت یہی اللہ کا عذاب ہے ۔ مانتا ہوں کھلے دل سے تسلیم ہوں کہ غلط فہمیوں کا امکان دونوں طرف سے ہو سکتا ہے ۔ اختلافات ہوتے رہتے ہیں، گھروں و خاندانوں میں ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی سوچ و فکر کو انا کا اسیر بنا کر اور اغیار کے قبضے میں دے کر اپنے ہی مسلمانوں کا ناحق خون بہایا جائے ۔ اس کا فائدہ نہ تو اسلام کو ہو گا نہ ہی امت مسلمہ کو ، البتہ نقصان و زوال کا سبب ضرور بنے گا۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ آپس میں دست وگریباں ہونے سے فائدہ تو تل ابیب ، دہلی جینوا، لندن، پیرس ، ماسکو و واشنگٹن کو ہی ہوگا ۔ اب بھی وقت ہے کچھ خاص نہیں بگڑا ، افغان طالبان اور پاکستان کے سٹیک ہولڈروں کو ٹھنڈے دل ودماغوں اور بصیرت سے غوروحوض کرنا ہو گا ۔ ایسے خفیہ ہاتھ کہیں نا کہیں ضرور ہیں جو بظاہر نظر نہیں آرہے۔ یہی وہ خفیہ ہاتھ ہیں جو ہر صورت میں دونوں برادر ملکوں کو لڑا کر خطے میں اپنے مزموم عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں ۔

ٹیگز: