پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کوئی اچانک واقعہ نہیں بلکہ برسوں سے افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ پاکستان کے خدشات محض الزامات نہیں بلکہ مستند انٹیلی جنس رپورٹس، اقوامِ متحدہ کی تحقیقات اور متعدد بین الاقوامی شواہد سے ثابت شدہ ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کی کارروائیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نقصان پہنچایا ہے۔ اصل مسئلہ کابل کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت پاکستان مخالف دہشت گردوں کو پناہ دی جا رہی ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن عملی طور پر یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت جنگ بندی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک افغان حکومت اپنے پراکسی گروہوں کو پاکستان کے خلاف حملوں سے باز نہیں رکھتی۔
2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد جب دنیا بھر نے اپنی سفارت خانے بند کیے، پاکستان نے نہ صرف اپنا سفارتی مشن کھلا رکھا بلکہ غیر ملکیوں کے انخلا میں بھی مدد فراہم کی۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ سمیت ہر فورم پر افغانستان کے لیے منجمد 9 ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے اور انسانی امداد کی فراہمی کی وکالت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے افغانستان۔ پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ اور ’’ارلی ہارویسٹ پروگرام‘‘ کے تحت افغان تاجروں کے لیے محصولات میں کمی جیسے عملی اقدامات بھی کیے تاکہ افغان معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ اس خیر سگالی کے باوجود طالبان حکومت نے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے دی۔ جون 2025 سے اب تک 4000 سے زائد شدت پسند افغانستان سے سرحد پار کر کے خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 48 فیصد اضافہ ہے۔ جولائی 2025 میں اقوامِ متحدہ کی 36 ویں مانیٹرنگ رپورٹ نے واضح کیا کہ افغانستان اب بھی القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق چھ افغان صوبوں میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ فعال ہیں اور طالبان حکومت کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی کو مالی و عسکری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کا سربراہ نور ولی محسود کابل میں طالبان حکومت کی حفاظت میں رہ رہا ہے اور اسے باقاعدہ مالی امداد دی جا رہی ہے تاکہ وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کر سکے۔ دوسری جانب نیٹو اور امریکی افواج کے چھوڑے گئے جدید اسلحے ایم 16، ایم 4 رائفلیں، نائٹ وژن آلات اور تھرمل آپٹکس اب انہی دہشت گرد گروہوں کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ حالیہ حملوں، خصوصاً بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس ٹریننگ سکول پر حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت اس امر کا ثبوت ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لیا، مگر اب اس صبر کی ایک حد ہے۔ پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ طالبان حکومت کی دوہری پالیسی ایک طرف خودمختاری کے دعوے اور دوسری طرف دہشت گردوں کو پناہ اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ہر بار جب پاکستان کسی دہشت گرد ٹھکانے کو نشانہ بناتا ہے تو کابل فوری طور پر ’’سولین ہلاکتوں‘‘ کا واویلا مچاتا ہے، مگر یہ بھول جاتا ہے کہ انہی ٹھکانوں سے دہشت گرد پاکستان میں خون بہا رہے ہیں۔
دنیا میں کوئی ملک افغانستان کے لیے پاکستان سے زیادہ قربانیاں نہیں دے سکا۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان نے 50 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کی تعلیم و صحت کی ذمہ داری اٹھائی اور اربوں روپے کی معاشی قربانیاں دیں۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ افغان شہری اپنے وطن واپس جائیں جہاں اب ان کی اپنی حکومت موجود ہے۔ پاکستان کے وسائل اور زمین 25 کروڑ پاکستانیوں کی امانت ہیں اور ان کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان آج بھی افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری اور عملی کارروائی کرے، پاکستان مخالف پراپیگنڈا ختم کرے اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنائے۔ افغانستان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ تعاون میں ہے، نہ کہ محاذ آرائی میں۔ پاکستان کی پالیسی دوٹوک ہے: امن اور مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن اگر دہشت گردی جاری رہی تو پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھرپور اور مناسب ردِعمل دے گا۔ دوحہ معاہدے کے بعد کا یہ دور وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے طے ہو گا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ کابل اپنے وعدے پورے کرے اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف خونریزی ہمیشہ کے لیے ختم کرے۔