Wed, September 16, 2026

دہشتگردی کےخلاف فیصلہ کن جنگ: امن کی خاموش ضمانت

دہشتگردی کےخلاف فیصلہ کن جنگ: امن کی خاموش ضمانت


دہشت گردی کسی بھی ریاست کے لیے محض ایک سکیورٹی چیلنج نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشی، سماجی، تعلیمی اور قومی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرنے والا ایک ایسا ناسور ہے جو اگر بروقت نہ روکا جائے تو معاشرے کے امن و سکون کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے اسی خطرے کا سامنا کر رہا ہے مگر اس کے باوجود آج ملک کے بیشتر حصوں میں زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے، تعلیمی ادارے کھلے ہیں، بازار آباد ہیں، کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں اور عوام اپنے روزمرہ کے معمولات پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس نسبتاً پُرامن ماحول کے پس منظر میں افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل، بروقت اور موثر کارروائیاں ایک بنیادی حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشت 
گردوں کو اپنے مذموم عزائم کے لیے کھلی چھوٹ حاصل نہیں۔ خبر کے مطابق سکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا جبکہ بعض مقامات پر کارروائیوں کے دوران دہشت گردی کے منصوبے بھی ناکام بنائے گئے۔ یہ کارروائیاں محض چند مسلح افراد کے خلاف آپریشن نہیں بلکہ اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں، محفوظ ٹھکانوں اور تخریبی منصوبوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے باوجود عام پاکستانی زندگی نسبتاً معمول کے مطابق کیسے جاری رکھے ہوئے ہے؟ اس کا جواب صرف سکیورٹی چوکیوں، گشت یا بڑے آپریشنز میں نہیں بلکہ ان ہزاروں خاموش کارروائیوں میں پوشیدہ ہے جو دہشت گردی کے منصوبے کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا دیتی ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کا بروقت حصول، مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی، دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت کا سراغ، ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی اور پھر فوری کارروائ،یہ سب ایک مربوط قومی سکیورٹی نظام کا حصہ ہیں۔دہشت گردی کی جنگ میں سب سے بڑی کامیابی صرف یہ نہیں کہ دہشت گرد حملہ کرنے کے بعد پکڑا جائے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اسے حملہ کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سکیورٹی فورسز کی پیشگی اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ اگر کسی دہشت گرد گروہ کا منصوبہ شہر، بازار، تعلیمی ادارے، عبادت گاہ یا کسی حساس تنصیب تک پہنچنے سے پہلے ناکام بنا دیا جائے تو بظاہر عوام کو شاید اس کارروائی کی شدت کا اندازہ بھی نہ ہو، مگر حقیقت میں یہی خاموش کامیابیاں ہزاروں شہریوں کی جانیں اور ملکی امن محفوظ کرتی ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ افواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صرف سرحدی علاقوں میں نہیں بلکہ ملک کے داخلی امن کے تحفظ کے لیے بھی مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔ ان جوانوں کے لیے ہر آپریشن ایک حقیقی خطرہ ہوتا ہے، جبکہ عام شہری کے لیے اسی آپریشن کی کامیابی ایک محفوظ صبح، پُرسکون بازار، کھلا تعلیمی ادارہ اور معمول کی زندگی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یوں سکیورٹی فورسز کی قربانی اور عوام کا معمولِ زندگی دراصل ایک ہی قومی جدوجہد کے دو پہلو ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بے شمار قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے۔ اس لیے آج ملک میں امن کے کسی بھی درجے کو محض معمول کی بات سمجھنا درست نہیں۔ ایک بچے کا بلاخوف اسکول جانا، ایک تاجر کا دکان کھولنا، ایک طالب علم کا یونیورسٹی پہنچنا، ایک خاندان کا سفر کرنا اور شہریوں کا رات کو اطمینان سے اپنے گھروں کو لوٹنا یہ سب اس سکیورٹی ماحول کا حصہ ہے جسے ہماری افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی مسلسل محنت سے برقرار رکھتے ہیں۔
تاہم دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ صرف بندوق کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، علما، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے نظریاتی بیانیے کو مسترد کرنا، نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنا، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینا اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا بھی اسی جنگ کا حصہ ہے۔ دشمن کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ خوف عوام کے دلوں میں گھر کر لے؛ ہماری قومی ذمہ داری یہ ہے کہ خوف کے بجائے اعتماد، انتشار کے بجائے اتحاد اور نفرت کے بجائے قومی شعور کو فروغ دیں۔
افواجِ پاکستان دہشت گردی کے اس ناسور کے خلاف ہمہ تن مصروفِ عمل ہیں۔ ان کی بروقت کارروائیاں اس بات کی ضمانت بن رہی ہیں کہ دہشت گرد عناصر پاکستان کے عوام کی روزمرہ زندگی کو یرغمال نہ بنا سکیں۔ یہ جنگ آسان نہیں، مگر ایک منظم ریاست، بہادر افواج، باخبر اداروں اور متحد قوم کے سامنے دہشت گردی کا مستقبل تاریک ہے۔آج پاکستان کا عام شہری اگر اپنے کاروبار، تعلیم، ملازمت اور گھریلو زندگی میں مصروف ہے تو اس معمول کے پیچھے ان محافظوں کی غیر معمولی محنت موجود ہے جو خاموشی سے سرحدوں سے لے کر شہروں اور دور افتادہ علاقوں تک اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ یہی خاموش پہرہ دراصل پاکستان کے امن کی سب سے بڑی آواز ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی مگر ہر بروقت کارروائی، ہر ناکام بنایا گیا منصوبہ اور ہر محفوظ شہری ہمیں اس منزل کے قریب لے جا رہا ہے جہاں دہشت گردی کے بجائے امن پاکستان کی مستقل شناخت بنے گا۔ قوم کو اپنے محافظوں پر اعتماد، شہداءکی قربانیوں کا احترام اور ریاست کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنا ہوگا۔ امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، قربانی اور قومی عزم کا ثمر ہے۔

ٹیگز: