ہانگژو :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی خودانحصاری کا نیا وژن پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اب قرضوں کے سہارے کی نہیں، بلکہ جدید مہارت اور براہِ راست سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں معاشی انقلاب لانے کے لیے کراچی میں 6 ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ورلڈ کلاس اسپیشل اکنامک زون قائم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان چائنہ بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے چینی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ صدر شی جن پنگ نے چین کو دنیا کی عظیم معاشی اور عسکری طاقت بنا دیا ہے، اور پاکستان بھی بہت جلد اس خطے میں چین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ترقی کا ہم قدم بنے گا۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاک چین کمپنیوں کے مابین طے پانے والے مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) میں سے 30 فیصد اب تک باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جن کی مالیت اربوں ڈالر ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایات دیں کہ باقی ماندہ ایم او یوز کو بھی ہنگامی بنیادوں پر حتمی معاہدوں میں بدلا جائے۔
وزیراعظم نے عالمی برادری کو پاکستان کے پوشیدہ معدنی ذخائر کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں آنے کی کھلی دعوت دی۔ حکومت دیہی علاقوں کی تقدیر بدلنے کے لیے لاکھوں چھوٹے کاروبار پیدا کرنے اور زراعتی و مقامی مصنوعات کی 'ویلیو ایڈیشن' پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت ملکی صنعتی توسیع اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر ایک مضبوط ملک بنایا جا سکے۔