Wed, September 16, 2026

ہم ہیں ریگِ ساحل پے آبلہ پا کھڑے ہوئے 

ہم ہیں ریگِ ساحل پے آبلہ پا کھڑے ہوئے 

 گزشتہ ساٹھ ستر برس سے ایک سیاسی اور معاشی آنکھ مچولی کھیلی جا رہی ہے اور عوام کو کبھی کوئی خواب اور کبھی کوئی خواب دکھایا جا رہا ہے مگر اب تک ایسا کوئی خواب نہیں پورا ہوا جو ہماری اجتماعی زندگی کو خوابناک بنا دے ؟۔
جو بھی نیا حکمران آتا ہے پچھلے کو کوستا ہے اس پر لعن طعن کرتا ہے اس کی چھوٹی سے چھوٹی خامی کو منظر عام پر لاتا ہے جس کے لئے اربوں روپے خرچ کر ڈالتا ہے خود کیا کرنا ہے اس کا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ جو بھی کرنا ہے وہ تو آئی ایم ایف نے کرنا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ اس کے حکم پر ہی ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں میں کتنے فیصد اضافہ کرنا ہے اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کیا جاتا۔ ٹرینوں کے کرایوں تک میں وہ مداخلت کرتا ہے نئے ٹیکس کتنے فیصد لگانے ہیں پہلے والوں میں کتنے فیصد مزید اضافہ کرنا ہے وہی بتاتا ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ہماری معیشت مکمل طور سے اس پر انحصار کرتی ہے اسی لئے عوام کی حالت اکثر خراب رہتی ہے کبھی کبھی تو بے حد خراب ہو جاتی ہے اور پھر وہ دہائی دینا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکمران خود موجیں کر رہے ہیں انہیں فقط تسلی دے رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخِ جدوجہد پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ برس ہا برس لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل میں لگ گئے۔ روس چین پورا یورپ پلک جھپکتے میں سر سبز و شاداب نہیں ہوا لہذا اگر عوام اپنی زندگیوں میں کوئی تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں تو انہیں سفر حیات کے نشیب و فراز سے گزرنا ہوگا مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ حکمران عوام کے ساتھ ناروا سلوک جاری رکھیں وہ جب ووٹ لیتے ہیں اور گلی گلی جا کر ان سے بغل گیر ہوتے ہیں ان سے وعدے کرتے ہیں اور دعوے بھی کرتے ہیں تو پھر وہ کیوں ان کے معاشی حالات ٹھیک نہیں کرتے یہ درست ہے کہ آئی ایم ایف معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ جب ان کے اپنے ڈھیروں اخراجات ہوتے ہیں اور وہ اپنی بھاری مراعات حاصل کرتے تو آئی ایم ایف کہاں کھویا ہوتا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اور یہ سب ملے ہوئے ہیں ۔
 اب جب محکوم و مظلوم انسانوں کو ان کے بارے میں فہم و ادراک ہو چکا ہے اور ان کے خلاف ایک مزاحمت سر اٹھا رہی ہے تو انہوں نے ایک انجانے خوف کو ان پر مسلط کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے مگر اس میں وہ ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے اندر سے ان کے پیدا کردہ خوف کا پردہ چاک ہونے لگا ہے لہذا یہ رائج نظام ٹوٹ کر بکھرے گا کہ جس نے انسانی زندگی کو دردناک اور اذیت ناک بنا دیا ہے۔ 
 یہ بھی درست ہے کہ ایسی بہت سی سہولتیں موجودہ سیٹ اپ میں عوام کو دی جا رہی ہیں جو کبھی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں مگر دوسری طرف روزگار کے مواقع سکڑنے لگے ہیں اچھے بھلے محکموں اور اداروں کو اونے پونے داموں نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے سکولز کالجز اور یونیورسٹیز کو بتدریج پرائیویٹ کیا جا رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے صنعتی یونٹس کے مالکان ملک چھوڑ رہے ہیں توانائی کے بحران سے چلتے کارخانے اور ملیں رکنے لگے ہیں۔ 
بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ملک کا نظام موجودہ اہل سیاست سے چل نہیں پا رہا یا پھر وہ دانستہ اسے چلانا نہیں چاہتے کیونکہ اگر یہ مخلص ہوں تو بہت سے ایسے راستے ہیں جن پر چل کر خوشحالی اور خود کفالت کی حدود میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر معیشت کو آزادانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تو کیا ہم بہتری کی جانب نہیں جا سکتے ‘ بالکل جا سکتے ہیں مگر ان کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے کہ امریکا سے مہنگا تیل خریدنا وارے میں ہے اورسستا تیل مہنگا نظر آتا ہے۔ اب ہی یہ عقل کے ناخن لے لیں کہ اب امریکا سپر پاور نہیں رہا چین سپر پاور ہے اس کے ساتھ روس بھی ہے لہذا امریکا سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ 

ٹیگز: