Wed, September 16, 2026

پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی کے انسداد کے لیے سخت قانون متعارف کرا دیا

پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی کے انسداد کے لیے سخت قانون متعارف کرا دیا

لاہور : صوبہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے سماجی جرائم پر قابو پانے کے لیے حکومت پنجاب نے "پنجاب کنٹرول آف غنڈا ایکٹ 2025" کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس قانون کا مقصد معاشرتی امن و سکون کو یقینی بنانا اور قانون شکن عناصر کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق، نئے قانون کے تحت ایسے افراد کو واضح قانونی حیثیت میں "غنڈا" قرار دیا جا سکے گا، جو مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔

اس قانون کے مطابق، ضلع سطح کی انٹیلیجنس کمیٹی کسی بھی فرد کو "غنڈا" قرار دینے کی مجاز ہو گی، بشرطیکہ اس کے خلاف پولیس، انتظامیہ یا حساس اداروں کی رپورٹ یا کسی فرد کی جانب سے تحریری شکایت موجود ہو۔

قانون کے دائرہ کار میں آنے والے جرائم درج ذیل ہیں:منشیات کی خرید و فروخت،جوئے کا کاروبار،بھتہ وصولی،آن لائن ہراسانی یا سائبر کرائم،جعلی سرکاری عہدوں کا استعمال،سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش،جعلی کاغذات کا استعمال
ایسے افراد کیخلاف متعدد پابندیاں عائد کی جا سکیں گی، جن میں: بینک اکاؤنٹس کا منجمد کیا جانا،اسلحہ لائسنس کی منسوخی،شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بندش،نو فلائی لسٹ میں شامل کرنا شامل ہے۔
قانون کے مطابق، پہلی بار جرم ثابت ہونے پر تین سے پانچ سال قید اور پندرہ لاکھ روپے تک جرمانہ جبکہ دوبارہ جرم کرنے پر سات سال قید اور بیس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون بلاشبہ جرائم کے خلاف ایک مؤثر اقدام ہو سکتا ہے، تاہم اس کے مؤثر اور منصفانہ اطلاق کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ کسی بے گناہ فرد کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

ٹیگز: