کیلیفورنیا: حالیہ سائنسی تحقیق میں ایک حیرت انگیز پہلو سامنے آیا ہے کہ درخت صرف ساکت مخلوق نہیں بلکہ وہ ایک منظم نظام کے تحت آپس میں رابطہ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کا سہارا بھی بنتے ہیں۔
ماہرینِ نباتات کا کہنا ہے کہ زمین کے نیچے درختوں کی جڑیں اور فنگس مل کر ایک پیچیدہ جال بناتے ہیں، جسے “ووڈ وائیڈ ویب” کہا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے درخت نہ صرف خوراک اور پانی کا تبادلہ کرتے ہیں بلکہ ضروری پیغامات بھی ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اگر کسی درخت کو بیماری یا کیڑوں کا سامنا ہو تو وہ اردگرد کے درختوں کو کیمیائی اشاروں کے ذریعے خبردار کر دیتا ہے، جس سے دوسرے درخت بروقت اپنی حفاظت کے لیے اقدامات کر لیتے ہیں، جیسے ایسے مرکبات پیدا کرنا جو نقصان دہ کیڑوں کو دور رکھیں۔
مزید برآں، پرانے اور طاقتور درخت ننھے پودوں کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین اس عمل کو “مدر ٹری” کا تصور قرار دیتے ہیں، جس میں ایک بڑا درخت پورے جنگل کے نظام کو سہارا دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام اس قدر مربوط ہے کہ اگر جنگل کا کوئی حصہ متاثر ہو جائے تو دوسرے درخت اپنی توانائی وہاں منتقل کر کے توازن بحال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ جنگلات کا تحفظ انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ایک درخت کی تباہی پورے ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف مستقبل میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوگا اور انسانوں کو قدرت کے اس پوشیدہ نظام کو سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔