Wed, September 16, 2026

توشہ خانہ اور ہمارے سیاستدان

توشہ خانہ اور ہمارے سیاستدان

چند سال قبل پاکستانی عوام توشہ خانہ نامی بلا کے نام سے شاذ و نادر ہی واقف تھی۔ 2022 میں عمران خان پر توشہ خانہ کیس بننے کے بعد تقریباً اب ہر پاکستانی توشہ خانہ سے متعلق کچھ نہ کچھ جانکاری ضرور رکھتا ہے۔ دس سال قبل شعبہ صحافت میں قدم رکھنے سے پہلے میں خود نہیں جانتی تھی کہ توشہ خانہ نام کی کوئی چیز بھی ہوتی ہے اور اس کے کچھ اصول اور قوائد و ضوابط بھی ہیں۔ پاکستان کے مایہ ناز تحقیقاتی صحافی اور نیو نیوز کے پروگرام مدمقابل کے اینکر رؤف کلاسرا نے توشہ خانہ کی لوٹ مار کی کہانی کو سب سے پہلے عوام کے سامنے رکھا۔ حکمرانوں کی جانب سے کوڑیوں کے بھاؤ تحائف لینے کی ایسی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں کہ یقین نہیں آتا تھا۔ ہیرے جواہرات کو تو چھوڑیں ان سیاست دانوں نے تو انڈر وئیر تک نہیں بخشا۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو توشہ خانہ کی تاریخ مغلیہ سلطنت کے دور اقتدار سے جا ملتی ہے۔ برصغیر میں مغلیہ دور میں توشہ خانہ متعارف ہوا۔ مغل بادشاہوں، شہزادے، شہزادیوں کو مختلف ریاستوں اور ممالک سے ملنے والے تحائف کو ذخیرہ کرنے اور محفوظ رکھنے کیلئے توشہ خانہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ توشہ خانہ دراصل فارسی زبان کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ٹریژر ہاؤس یا خزانہ خانہ ہے۔ دنیا بھر میں سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور اچھے تعلقات کی نشانی کے طور پر سربراہ ریاست یا کسی ملک کے وفد کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ یہ تحائف چونکہ ذاتی حیثیت میں نہیں دئیے جاتے اس لیے ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ان تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کرایا جاتا ہے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد ہندوستان میں سرکاری ملازمین کو ملنے والے سرکاری تحائف سے متعلق قوانین برطانیہ سے وراثت میں ملے۔ بھارت نے برطانوی سامراج کے توشہ خانہ کے قاعدے اور ضوابط کو اپنایا۔ بھارتی قوانین کے مطابق سرکاری ملازمین کو تحفے حاصل کرنے کے 30 دن کے اندر اندر تحفے کا ذریعہ، تاریخ اور مارکیٹ کی تخمینہ شدہ قیمت اپنے محکمہ یا وزارت کے سیکرٹری کو بتانا پڑتی ہے۔ سرکاری ملازم 5 ہزار روپے سے کم کے تحائف اپنے پاس بغیر کسی ادائیگی کے رکھ سکتا ہے۔ جبکہ گروپ اے کے افسران کیلئے یہ حد 7 ہزار روپے ہے۔ تحفے کی قیمت کا اندازہ تین رکنی بورڈ کرتا ہے جس میں فارن پوسٹ آفس کا کسٹم اپریزر شامل ہوتا ہے۔ تمام تحائف جنہیں خریدا نہیں جاتا وہ توشہ خانہ میں جمع کیے جاتے ہیں جو ریاست کی ملکیت بن جاتے ہیں۔ عام طور پر ہیرے، زمرد، چاندی اور سونے کے زیورات کے سیٹ، قیمتی گھڑیاں، مونٹ بلانک قلم، خنجر، گلدان، قالین، پینٹنگز اور قدیم سکوں سمیت اس طرح کی دیگر اشیا کو ڈسپلے کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہیرے، جواہرات، قیمتی گاڑیاں و گھڑیاں دیکھ کر افسروں اور حکمرانوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی توشہ خانہ رولز 1974 کے نام سے قانون متعارف کرایا گیا۔ اس قانون کے تحت سرکاری ملازمین پانچ ہزار ٹکہ مالیت تک تحفہ رکھ سکتا ہے جبکہ وزیر 30 ہزار اور وزیراعظم 50 ہزار ٹکہ تک کی مالیت کے تحائف رکھ سکتے ہیں۔ نوادرات اور مارکیٹ ویلیو کے حامل تحائف کو نہیں رکھا جا سکتا۔ قیمتی تحفے کے حصول کیلئے تحفہ کی اصلی قیمت یا توشہ خانہ ویلیوایشن کمیٹی کی جانب سے طے کردہ قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی توشہ خانہ کا باقاعدہ آغاز مشرقی پاکستان کے جدا ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا۔ 1974 میں سرکاری تحائف کی دیکھ بھال کے قوانین بنے۔ توشہ خانہ کا انتظامی کنٹرول ایگزیکٹو ایجنسی کابینہ ڈویژن کو سونپا گیا۔ ابتدائی طور پر توشہ خانہ کے معاملات کو سول سرونٹ رولز 1964 کے تحت دیکھا جاتا تھا۔ توشہ خانہ مینٹینس اینڈ ایڈمنسٹریشن رولز 1974کے تحت ایسے تمام تحفے جو تاریخی اہمیت یا منفرد نوعیت کے ہوں، ہر حال میں سرکاری توشہ خانہ میں جمع ہونے چاہیے۔ 1974 سے توشہ خانہ کے ا ن تحائف کو صرف 15% ادئیگی کے بعد حاصل کیا جا سکتا تھا جنہیں مختلف ادوار میں تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔ 2001 کے قوانین کے تحت جن تحائف کی قیمت کا تخمینہ 10 ہزار روپے تک لگایا جاتا ہے ایسے تحائف کو بغیر ادائیگی کے رکھ لیا جاتا تھا۔ تاہم اب یہ حد 30 ہزار تک کر دی گئی ہے۔
2011 میں سرکاری تحائف کی ملکیت کیلئے مقرر کردہ رقم 15 سے 20 فیصد کر دی گئی۔ جسے 2018 میں عمران خان کی حکومت نے توشہ خانہ رولز میں ترامیم کرتے ہوئے 50% کر دیا۔ تاہم اب تحائف کو مقرر کردہ قیمت کی 100 فیصد ادائیگی کر کے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دنیا بھر میں تحائف سے متعلق ایسا شرمسار کر دینے والا رویہ کسی حکمران کا نہیں رہا جو ہمارے حکمرانوں کا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ نواز شریف، صدر زرداری، بینظیر، شوکت عزیز اور عمران خان سمیت تقریباً تمام وزرا اعظم توشہ خانہ کی لوٹ مار میں حصہ دار رہے ہیں۔ یہاں تک کہ سات دہائیوں قبل 1956 میں اس وقت کے وزیر اعظم حسین شہید سہروردی وفد کے ہمراہ دورہ چین پر گئے۔ وہاں چین کی جانب سے تحائف پیش کیے گئے۔ بیوروکریسی کی چالاکی دیکھیں کہ انہوں نے واپسی پر ہانگ کانگ رک کر اصلی قیمتی تحائف کی جگہ نقلی تحائف خرید کر توشہ خانہ میں جمع کرائے۔ ذرا سوچیں ان بیچارے سرکاری بابووں کو تحائف کی نقلی کاپی تلاش کرنے میں کتنی محنت کرنا پڑی ہو گی۔ کاش کہ اتنی محنت اپنے ملک کی ترقی کیلئے کر لیتے تو ہمارے یہ حالات نہ ہوتے۔ جس ملک کے چلانے والوں کا یہ حال ہو وہاں بہتری کی امید کیونکر کی جا سکتی ہے۔ ہماری اقدار 70 سال پہلے بھی ویسی ہی تھیں جیسی آج ہیں۔

ٹیگز: