پاکستان کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت سیاحتی مقام برگن اسٹاک (Bürgenstock) میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ تاریخی مذاکرات عالمی سفارت کاری میں ایک بہت بڑا بریک تھرو ہیں۔ دہائیوں پر محیط تلخی، پابندیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی ماحول کے درمیان امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔بین الاقوامی سیاست میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب کوئی ملک اپنی جغرافیائی حیثیت، سفارتی بصیرت اور متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت دو مخالف قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے ان تکنیکی مذاکرات کا سہرا پاکستان کی خاموش اور پرعزم سفارت کاری کے سر جاتا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شریک تھے‘ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف پر مشتمل تھا جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جیسے اہم رہنما کر رہے تھے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ اعتراف کہ ”اگر پاکستانی قیادت اور بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں شامل نہ ہوتیں تو شاید آج یہ مذاکرات ممکن نہ ہو پاتے“، عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی وزن کا واضح ثبوت ہے۔ دنیا بھر کے رہنما پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہ رہے ہیں۔ پاکستان کےلئے یہ پیش رفت ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے جس نے ثابت کیا ہے کہ جب بات سٹریٹجک بصیرت اور غیر جانبدارانہ سفارت کاری کی ہو، تو اسلام آباد کا کردار ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات یا کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی بلکہ پورے خطے کےلئے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی، عدم اعتماد اور سیاسی محاذ آرائی کا شکار رہے ہیں۔ 1979ءکے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل تناو¿ کا شکار رہے۔ اقتصادی پابندیاں، جوہری پروگرام پر اختلافات، مشرق وسطیٰ میں پراکسی تنازعات اور باہمی الزامات نے اس خلیج کو مزید گہرا کیا۔ کئی مواقع پر صورتحال جنگ کے دہانے تک جا پہنچی جس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا نے بھی ان کے نتائج محسوس کیے۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے اپنی متوازن خارجہ پالیسی کی بدولت دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ پاکستان ایک طرف امریکہ کے ساتھ طویل المدتی تعلقات رکھتا ہے تو دوسری جانب ایران اس کا قریبی ہمسایہ اور اہم علاقائی شراکت دار ہے۔ یہی منفرد حیثیت پاکستان کو ایک قابلِ قبول ثالث بناتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہمیشہ یہ رہا ہے کہ تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مختلف بین الاقوامی معاملات میں مصالحتی کردار ادا کیا ہے، تاہم ایران اور امریکہ جیسے دو بڑے اور متضاد فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کی کوشش ایک غیرمعمولی سفارتی چیلنج تھی۔ اس چیلنج کو قبول کرنا اور اس میں کامیابی حاصل کرنا پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ اس سفارتی کامیابی سے پاکستان کا عالمی تشخص مزید بہتر ہوا ہے جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہونے سے مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات روشن ہوں گے۔ خلیجی خطہ عالمی توانائی کی فراہمی کا مرکز ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی جنگ یا تصادم پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی راہداری بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس تناظر میں پاک ایران تعلقات کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت اور سرحدی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ایران پر عائد پابندیوں اور علاقائی کشیدگی نے ان امکانات کو محدود کر رکھا تھا۔ اگر سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں حالات بہتر ہوتے ہیں تو پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی تعاون میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کی نوعیت انتہائی پیچیدہ ہے۔ چند ملاقاتیں یا ایک معاہدہ تمام مسائل کا فوری حل نہیں بن سکتے۔ جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، پابندیاں اور سلامتی کے معاملات جیسے موضوعات طویل المدتی مذاکرات کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی ثالثی کو ایک آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے‘ پاکستان کےلئے یہ موقع اپنی سفارتی کامیابی کو مزید مو¿ثر انداز میں استعمال کرنے کا بھی ہے۔ عالمی سطح پر امن کے فروغ میں فعال کردار ادا کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کےلئے ایک نئی جہت ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا آج ایسے ممالک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو تنازعات کو بڑھانے کے بجائے ان کے حل میں کردار ادا کریں۔ اس تمام عمل میں پاکستانی قیادت کی سیاسی بصیرت بھی قابلِ ذکر ہے۔
آج عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے دور میں درمیانے درجے کی طاقت رکھنے والے ممالک کےلئے سفارتکاری ہی سب سے مو¿ثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے وہ عالمی معاملات میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی کوششوں میں مو¿ثر کردار ادا کیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف علاقائی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات یا معاہدے کی پیش رفت امن، مکالمے اور سفارت کاری کی فتح ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جنگیں مسائل کو پیچیدہ بناتی ہیں جبکہ مذاکرات ان کے حل کی راہیں کھولتے ہیں۔ اگر یہ سفارتی عمل کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو اس کے ثمرات صرف ایران، امریکہ یا پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ امن، استحکام اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔