Wed, September 16, 2026

کربلا.... وادی تسلیم و رضا

کربلا.... وادی تسلیم و رضا

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ فقر کے بہتر درجے ہیں، اور یہ سارے درجے کربلا کے میدان میں طے ہوئے۔ آپؒ فرمایا کرتے: ضرب یداللّہی بھی اس کے پاس ہے جس کے پاس سجدہِ شبیریؓ ہے۔ کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویرؒ فرماتے ہیں: رضا مقامات کی انتہا ہے۔ رضا کے بعد کوئی مقام نہیں۔
 وادی¿ کرب و بلا .... دراصل وادی¿ تسلیم و رضا ہے۔ کربلا محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک قصہِ پارینہ نہیں۔ یہ ہمہ حال قائم رہنے والی ایک تجلّی ہے .... جس کی ضَو سے انسانی اَذہان و قلوب منوّر ہوتے رہیں گے۔ یہ ایک ایسی قوسِ قزح ہے کہ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے یہ انسان کے افقِ شعور پر جھلملاتی رہے گی۔ اہلِ کربلا کا کردارِ وفا و رضا تو اپنی جگہ ایک قابلِ تقلید حقیقت ہے، اِس کا ذکر بھی ایک ایسی سعادت ہے جو فرائض و واجب اور نوافل و مستحب کی بحث سے آزاد ہے۔ ذکرِ امام عالی مقامؓ کی سعادت کو ثواب کے کسی پیمانے میں نہیں تولا اور ماپا جا سکتا۔ یہ وہ ذکر ہے جو صرف اپنوں کو دیا جاتا ہے۔ اِس راستے کے غیر اِس ذکرِ خیر سے محروم رہتے ہیں۔ دراصل ذکر اپنے ذاکر کو مذکور کے شعور کی طرف لے جانے کی ایک تدبیر ہے۔ اگر تقدیر میں وہ منزل ِ شعور میسر نہ ہو تو یہ ذکر بھی نماز کی طرح بوجھل محسوس ہونے لگتا۔
نام ِ حُسینؓ کس قدر حَسین ہے .... اِس نامِ حَسیں کی قدر اِنہی قلوب کا نصیبہ ہے جو اپنے رب کی رضا جوئی کے کسی سفر میں ہیں۔ حسینی قافلے میں شامل ہونے کی شرط فقط انسان ہونا ہے .... شیعہ سنی کی تقسیم تو بعد کی بات ہے .... حسینؓ سرمایہ انسانیت ہے .... حسینیت ادیانِ عالم کا جوہر ہے۔
آدم تا ایں دم اولادِ آدم دو فکری قبیلوں میں تقسیم ہے .... ایک فکری قبیلہ ہابیل کا ہے، اور دوسرا قابیل کا۔ ہابیل مقتول ہے، لیکن مقبول ِ بارگاہِ حق ہے .... قابیل قاتل و قابض ہے، لیکن راندہِ درگاہِ حق ہے۔ ہابیل رحمانی فکر پر کاربند ہے، قابیل شیطانی فکر پر عمل پیرا ہے۔ ہابیل کا منشور انسانیت ہے، قابیل حیوانیت کو رَوا جانتا ہے۔ ہابیل کے فکری قبیلے میں شامل اَولادِ آدم احسان، اِحساس، ایثار کے 
منشور پر چل رہے ہیں۔ قابیل کے فکر پر چلنے والے قبضہ، دولت، دھونس اور ہر حال میں حکومت قائم کرنے کے پروٹوکول پر ہیں۔ یہ دونوں فکری گروہ ہر جگہ خلط ملط ہیں، یہ ہر قوم، مذہب اور خاندان میں موجود ہیں۔ ظاہری لیبل کچھ بھی ہو، جب عمل کا دَوراہا آتا ہے، تو یہ اپنے کردار سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ ہابیل اور قابیل کے فکری قبیلوں کی حتمی اور فیصلہ کن جنگ کربلا کے میدان میں جا ٹھہرتی ہے۔ یہاں ایسا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ حشر تلک یہ فکری قبیلے الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ حسینی فکر و عمل پر چلنے والا راہی رحمانی فکر کی سند پائے گا اور یزیدی لشکر میں رہ جانے والا شیطانی فکر کا وکیل قرار پائے گا۔ انسانی تاریخ میں حق و باطل کے دوراہے آتے رہیں ہیں ، لیکن یہ سب دوراہے بالآخر جس شاہراہ پر منتج ہوتے ہیں اُس شاہراہِ فرقان کا نام کربلا ہے۔ کربلا اسلام کی وہ خیرات ہے جس سے دیگر اہلِ مذہب بھی سیراب ہو رہے ہیں۔ یہ صرف اسلام ہی کا نہیں، کُل انسانیت کا اثاثہ ہے۔ صبحِ حشر تک پیغامِ کربلا بتدریج اور بدستور نشر ہوتا رہے گا۔ خانوادہ¿ رسول نے جس وادی کو خنجرِ تسلیم سے لہو رنگ کیا تھا، انسانی شعور آج تک اُس وادی سے فکر و عمل کے موتی چُن رہی ہے۔
جس فکر کا قبلہ سوئے مصطفیﷺ و مرتضیٰ ؓ نہیں، اس کے لیے کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی، اس کے لیے شاید دو خاندانوں کی دیرینہ چپقلش کا منطقی نتیجہ تھی، اس کے لیے شاید اہلِ کوفہ کی بے وفائی بنیادی وجہ تھی .... ان کے نزدیک شاید امام کی سیاسی امور سے عدم آگہی کربلا کا باعث تھی .... الغرض قبلہِ دین سے منحرف رُخ ہوں تو جتنے منہ اتنی زبانیں! لیکن اہلِ حق یک زبان ہیں کہ اگر امام کربلا نہ پہنچتے تو ہم تک دینِ مصطفی نہ پہنچتا۔ اہلِ شعور کہتے ہیں کہ دیگر مذاہب اس لیے تحریف کا شکار ہو گئے تھے کہ ان کی تاریخ میں کوئی کربلا نہ تھی۔ کربلا کا کرشمہ یہ ہے کہ کھوٹا اور کھرا ہمیشہ کے لیے الگ ہو گیا۔ جب تک باطل کی صفوں میں ایک بھی حُر موجود ہو، کربلا برپا نہیں ہوتی۔ صف بندی سے پہلے حُر کا انتظار کیا جاتا ہے، حجت تمام کی جاتی ہے .... اور پھر عذاب کا کوڑا لہرا دیا جاتا ہے۔ یزیدی فکر کے لیے تاقیامت عذاب رقم کر دیا گیا .... یزیدی فکر دولت اور اقتدار کے باوجود دولتِ تسکین نہیں پائے گا۔ انہیں شہرت تو مل سکتی ہے، عزت نہیں۔ انہیں مسند تو مل سکتی ہے، سند نہیں .... وہ حکومت پا لیں گے، حکمت سے دور رہیں گے۔ اجسام پر تصرف حاصل کر سکیں گے، قلوب و اذہان ان کی دسترس سے باہر رہیں گے۔ تاریخ میں اُنہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، اُن کے پاس اپنے ہونے کی کوئی دلیل باقی نہ رہے گی۔ اخلاقی دلیل سے محروم ہو جانے والا اپنی پناہ دولت اور اقتدار میں ڈھونڈتا ہے .... اور اس کی یہ پناہ گاہ ایک وقتِ معین پر اُس کے سر پر آن گرتی ہے۔ ان کے لیے تریاق ہی زہر بن جاتا ہے۔ خوراک موت جاتی ہے۔ اقدار سے محرومی بالآخر اقتدار سے محرومی بن جاتی ہے۔ انجامِ کار اخلاقی اور روحانی اقدار ہی جڑ پکڑتی ہیں۔ ساری اخلاقی اور روحانی اقدار کلمہ طیبّہ کا ثمرہ ہیں۔ کلمة طیبہ ہی وہ شجرہِ طیبّہ ہے جس کی جڑیں زمین پر مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ہوا و ہوس کا شکار شجرہ¿ خبیثہ کی جڑ بُودی ہوتی ہے، کہیں جگہ نہیں پکڑتی۔ مفادات کا اشتراک آخر کتنی دیر تک مشترک رہ سکتا ہے۔ جب تک کوئی تعلق برائے حق نہ ہو، قائم نہیں رہ سکتا .... کیونکہ حق ہی کو قیام و دوام ہے۔
حق کا قیام بربنائے اخلاق و دلیل ہے، بربنائے طاقت و منصب نہیں۔ حق کی دلیل بننے کے لیے لازم تھا یہ امام عالی مقام راہِ مظلومِ سے گذریں .... برابر کی لڑائی نہ لڑیں۔ کربلا امام عالی مقامؓ کا اختیاری فیصلہ تھا۔ یہ اضطرار اور مجبوری کا راستہ نہ تھا! راہِ رضا میں تسلیم اختیاری ہوتی ہے۔ اضطراری اور مجبوری کے فیصلے شہادت نہیں بنتے۔ یہ شہادتِ عظمیٰ ہے .... شہادتِ کبریٰ ہے .... اللہ کی عظمت اور کبریائی کی شہادت ہے۔ اُس ذات کی کبریائی اور عظمت جس شان کی، اس کے شایانِ شان ہی اُس کی شہادت دینے والی ذات ہونی چاہیے تھی۔ اللہ علی العظیم نے قرآن کریم میں ذبحِ عظیم کی آیہ ِ مبارکہ میں اسی قربانی کا ذکر کیا ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی دعوت و تعلیم دین اسلام میں ہے .... لازم ٹھہرا کہ دین ِ اسلام کی حفاظت کی جائے .... اس لیے کربلا کی عدالت قائم کر دی گئی ہے۔ اس عدالت کا فیصلہ اب فیصلے کے دن تک سند ٹھہرا۔ حق سربلند ہوا .... اور باطل سرنگوں۔ اہلِ حق خون دے کر سرخرو ہوئے .... اور اہلِ باطل سیاہ رُو .... ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!!

ٹیگز: