Wed, September 16, 2026

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخ اسلام کے اوراق میں کئی روشن باب ہیں، لیکن سب سے روشن اور لازوال باب کربلا کا ہے، جہاں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ نے حق و باطل کی اس جنگ میں اپنے خون سے اسلام کو نئی زندگی بخشی۔ یہ مصرعہ ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘ صرف ایک فقرہ نہیں بلکہ اسلام کی حقیقی روح کی نمائندگی ہے۔ رسولِ اکرمﷺ کی وفات کے بعد خلافت کا نظام رائج ہوا، جو خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی اصولوں پر قائم رہا۔ تاہم، اموی دور حکومت میں خلافت موروثی بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ یزید بن معاویہ کی خلافت، جس کی بنیاد فسطائیت، ظلم، عیاشی اور دین دشمن پالیسیوں پر رکھی گئی، اسلام کے چہرے پر بدنما داغ بن چکی تھی۔ حضرت امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے دراصل اس نظام ظلم و جبر کو چیلنج کیا جو اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف تھا۔ ان کے نزدیک خلافت ایک مقدس امانت تھی، جس کا حق دار وہی ہو سکتا تھا جو سنتِ نبویؐ اور عدل و انصاف کا علمبردار ہو۔ حضرت امام حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار، دراصل حقیقی اسلام کی بقا کی جنگ کا آغاز تھا۔ جب یزید نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو حضرت امام حسینؓ سے بیعت لینے کا حکم دیا اور امام عالی مقامؓ نے انکار کر دیا، تو وہ مکہ معظمہ چلے گئے۔ ادھر کوفہ کے لوگوں نے یزید کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور حضرت امام حسینؓ کو خط پر خط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے وفاداری کا یقین دلایا اور لکھا ’’ہمارا کوئی امام نہیں، آپ آئیں اور ہماری قیادت کریں‘‘۔ ان خطوط کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ حضرت امام حسینؓ نے کوفہ کی صورتحال جاننے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو بھیجا۔ کوفہ پہنچ کر حضرت مسلمؓ کو ابتدائی طور پر عوامی حمایت ملی، مگر جلد ہی جب یزید نے عبیداللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنایا، تو صورتحال بدل گئی۔ دھمکی، قید اور قتل و غارت کے ذریعے حضرت امام حسینؓ کے حامیوں کو خاموش اور حضرت مسلمؓ کو شہید کر دیا گیا۔ حضرت امام حسینؓ جب کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو انہیں راستے میں ہی حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر ملی۔ اگرچہ امام چاہتے تو واپس مکہ لوٹ جاتے، مگر وہ جانتے تھے کہ ان کا مشن صرف حکومت کا تختہ الٹنا نہیں، بلکہ اسلام کی بقا اور فاسد نظام کا خاتمہ ہے۔ اسی لیے وہ بلا ججھک آگے بڑھتے گئے۔ حضرت امام حسینؓ جب کربلا کے میدان میں پہنچے، تو انہیں پانی تک سے محروم کر دیا گیا۔ یہ حکم یزید نے دیا اور ابن زیاد نے اس پہ عمل درآمد کرایا۔ لشکر یزید کی قیادت عمر بن سعد کو سونپی گئی، مگر اصل ظلم و ستم کی حد اس وقت عبور ہوئی جب شمر بن ذی الجوشن جیسے درندے کو امام حسینؓ اور ان کے اہل بیت پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ وہی شمر تھا جو کبھی حضرت علیؓ کی فوج میں شامل رہا، لیکن بعد میں حب دنیا اور لالچ میں آ کر یزیدی صف میں شامل ہو گیا۔ کربلا کے میدان میں، یکے بعد دیگرے امام حسینؓ کے نوجوان بیٹے، بھتیجے، بھائی اور صحابہ شہید ہوتے گئے۔ حضرت علی اکبر، حضرت قاسم، حضرت عباس علمدار رضوان اللہ اجمعین اور دیگر پاک نفوس نے اپنی جانیں قربان کر کے وفاداری کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ بالآخر عاشورہ کے دن، 10 محرم 61 ہجری کو، حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہل خانہ کی لاشوں کے درمیان، تن تنہا یزیدی لشکر کا مقابلہ کیا۔ ان کے جسم پر زخموں کی بارش ہوئی، مگر زبان پر ذکر خدا، حق کی سربلندی اور دین کی حفاظت کی صدائیں تھیں۔ آخرکار شمر لعین نے امام علیہ السلام کا سر تن سے جدا کر کے ظلم کی وہ مثال قائم کی جو تاریخ میں تا قیامت سخت ترین مذمت کے ساتھ لکھی جائے گی اور جس کی سزا اس کے لیے جہنم کی اتھاہ گہرائیاں ہوں گی۔ کربلا میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت بظاہر ایک شکست نظر آتی ہے، مگر درحقیقت یہ اک بے مثال فتح تھی۔ یہ عظیم فتح تھی نظریے کی، اصولوں کی اور دین محمدیؐ کی۔ حضرت امام حسینؓ نے دکھا دیا کہ مسلمان کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا چاہے اس کی قیمت شہادت ہی کیوں نا ہو۔ حضرت امام حسینؓ کی لازوال شہادت ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر حق خطرے میں ہو، اگر دین پہ آنچ آ رہی ہو، تو اسے بچانے کے لیے جان کی قربانی بھی کم ہے۔ میدان کربلا نے دنیا کو دکھا دیا کہ اسلام کا حقیقی چہرہ وہی ہے جو امام عالی مقام نے پیش کیا، خالص، پاکیزہ اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونے والا۔ آج بھی جب دنیا کے کسی کونے میں ظلم ہوتا ہے، جب جابر حکومتیں حق کی آواز دبانے کی کوشش کرتی ہیں، تو مسلمان سیدنا حسینؓ کی راہ پر چلتے ہوئے صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں مسلسل پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف قیام کرنا ہی اصل اسلام ہے۔ کربلا کا سبق صرف شیعہ یا سنی کا نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کا اثاثہ ہے۔ یہ جذبہ ہر اس دل میں بیدار ہوتا ہے جہاں انسانیت، غیرت اور دین کا نور موجود ہے۔ کربلا ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ تحریک ہمیں حریت، قربانی اور حق پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یقینا حضرت امام حسینؓ نے اپنے لہو سے اسلام کی آبیاری کی اور تاقیامت دنیا کو دکھا دیا کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ بلا شبہ ان کی شہادت قیامت تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہے گی، اور مسلمان اس نورِ حسینؓ کو دلوں میں روشن رکھ کر ہر دور کے یزید کے سامنے سینہ سپر ہوتے رہیں گے۔

ٹیگز: