Wed, September 16, 2026

سلطان راہی کی 87ویں سالگرہ: پنجابی سینما کا بے تاج بادشاہ آج بھی دلوں پر راج کر رہا ہے

سلطان راہی کی 87ویں سالگرہ: پنجابی سینما کا بے تاج بادشاہ آج بھی دلوں پر راج کر رہا ہے

لاہور: پاکستان فلم انڈسٹری کے ناقابلِ فراموش اداکار سلطان راہی کا آج 87واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ وہی سلطان راہی جنہوں نے اپنی بھرپور آواز، جاندار مکالموں اور بے مثال اداکاری سے فلمی دنیا پر برسوں حکومت کی۔

سلطان راہی نے فلمی سفر کا آغاز ایکسٹرا کرداروں سے کیا، لیکن قسمت نے جب اُن کا ساتھ دیا تو وہ کردار بھی نبھایا جو ایک دور کی علامت بن گیا — "مولا جٹ"۔ اس کردار نے انہیں ایسا مقام دیا کہ آج بھی وہ پنجابی فلموں کی پہچان مانے جاتے ہیں۔ ان کی اور مصطفی قریشی کی جوڑی کو فلم بین آج بھی یاد کرتے ہیں، جب مولا جٹ اور نوری نت کا ٹکراؤ پردے پر آتا تھا تو سینما ہال تالیوں سے گونج اٹھتے تھے۔

اپنے 40 سالہ کیریئر میں سلطان راہی نے 700 سے زائد پنجابی اور 100 اردو فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے نہ صرف کامیابیاں سمیٹیں بلکہ 160 سے زیادہ ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔ ان کی مقبول فلموں میں وحشی جٹ، مولا جٹ، شیر خان، چن وریام، بابل دا ویہاہ شامل ہیں۔

افسوسناک طور پر 1996 میں سلطان راہی کو گوجرانوالہ بائی پاس کے قریب فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھ صرف ایک انسان کا نہیں، بلکہ پوری فلم انڈسٹری کے سنہری دور کا خاتمہ ہو گیا۔

آج بھی ان کے ڈائیلاگز، ان کا انداز اور ان کا فن لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ "نواں آیا اے سوہنیا" جیسے مکالمے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، جو ہر نسل کو ان کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔

سلطان راہی نہ صرف ایک اداکار تھے، بلکہ وہ ایک عہد، ایک آواز، اور ایک روایت کا نام تھے — جو کبھی مٹ نہیں سکتی۔

ٹیگز: