یہ حقیقت ہے کہ اُستاد جسے روحانی باپ کہا گیا ہے کا اپنے شاگردوں کے ساتھ رشتہ ایسا لابدل اور دیر پا ہوتا ہے کہ وقت گزرنے یا امتداد زمانہ کے ہاتھوں کمزور اور ناتواں ہونے کی بجائے مزید مستحکم اور مضبوط ہوتا ہے۔ میری اور میرے ساتھ راولپنڈی کے میٹرک کی سطح کے نامور تعلیمی ادارے ایف جی سرسید سیکنڈری سکول جو پچھلی صدی کے ستر کے عشرے تک سی بی سرسید سینئر اینڈ سیکنڈری سکول اور سی بی سر سید سائنس کالج کے ناموں سے معروف تھا کے اُس دور (پچھلی صدی کے تقریباً آخری تین عشروں) کے چند ایک بقید حیات اساتذہ کی خوش نصیبی ہے کہ ہمارے اپنے اُس دور کے کچھ شاگردانِ رشید جنہیں عملی زندگی میں داخل ہوئے بھی کئی عشرے گزر چکے ہیں ہمارے اعزاز میں گاہے گاہے کسی نہ کسی تقریب کا جو عموماً دوپہر یا رات کے کھانے کی صور ت میں ہوتی ہے کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ عزیزم ارشد اعظم راجہ جنہوں نے 1982 ء میں سرسید سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، ہمارے ایک ایسے ہی مہربان شاگرد ہیں جو ہم اپنے پُرانے اور دستیاب بقید حیات چند اساتذہ کے اعزاز میں اکثر دوپہر کے کھانے کی پُر تکلف دعوتوں کا اہتمام کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ ان دعوتوں میں محترم اختر چوہدری صاحب جن کی رابطہ کار کے طور پر مرکزی حیثیت ہوتی ہے کے ساتھ سر محبت خان نیازی، سر سلطان شاہین، سر نبی بخش ضیائ، ملک غلام رسول برسر اور یہ بندہ ناچیز مدعو ہوتے ہیں۔ راجہ ارشد اعظم ہم سب کی مہمان داری اور دلجوئی میں کچھ کمی روا نہیں رکھتے ہیں اُن کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے میں سمجھتا ہوں کم ہو گا۔ میں یہاں اپنے اُسی دور کے ایک اور شاگردِ رشید عزیزی آصف ظہیر کا جو CCMA میں ایک اُونچے منصب پر فائز ہونے کے ساتھ ادارے کی سپورٹس کی سرگرمیوں سے بھی منسلک ہیں کا بطورِ خاص ذکر کرنا چاہوں گا کہ مجھ سے رابطے میں رہتے ہیں اور ساتھیوں کی خوشی، غمی (خدانخواستہ) کے معاملات سے آگاہی رکھنے کے ساتھ ان میں شرکت کی بھی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
خیر یہ تذکرہ کافی طویل ہوسکتا ہے لیکن آج ایک تازہ ترین تقریب کا ذکر کرنا ہے جو اگلے دن ہمارے ایک عزیز شاگرد سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ ملک جواد خالد نے ہمارے اعزاز میں راولپنڈی جم خانہ میں رات کے کھانے (ڈنر) کے طور پر منعقد کی۔ ملک جواد خالدجو 2024ء میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منتخب صدر کے عہدے پر فائز رہے ہیں اور اس سے قبل بھی اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں ۔ایف جی سرسید سیکنڈری سکول سے
انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اُن کا تعلق جماعت دہم کی سیکشن بی سے تھا اپنی کلاس کے ساتھی طلبا کے ساتھ اُن کے بڑے قریبی دوستانہ اور بے تکلفانہ تعلقات قائم چلے آ رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے اُن کے کچھ سابقہ کلاس فیلوز جو بیرون ملک بالخصوص برطانیہ میں مقیم ہیں کے پاکستان آنے کا پروگرام بنا تو انہوں نے اُن کے اعزا ز میں حسبِ روایت کھانے کی دعوت کا پروگرام بنایا۔ آپس میں انہوں نے طے کیا کہ اس موقع پر اپنے اُس دور کے بقید حیات اساتذہ (زیادہ تر راہی ملک عدم ہو چکے ہیں) سے بھی رابطہ کر کے انہیں بھی اس دعوت میں مدعو کیا جائے۔ حسبِ سابق اختر چوہدری صاحب رابطہ کار کے طور پر سامنے آئے اور پیغام ملا کہ 21 جون کو نمازِ مغرب کے بعد جم خانہ کلب راشد منہاس روڈ پرپہنچنا لازمی ہے۔ میں مقررہ وقت پر جم خانہ کلب میں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جم خانہ کلب اب دور دور تک پھیل چکا ہے اور اس میں کافی نئے بلاکس بن چکے ہیں تو پارکنگ کے لیے وسیع قطعات بھی موجود ہیں۔ کچھ سال پہلے میں جم خانہ کلب میں ایک دو تقاریب میں شرکت کے لیے گیا تھا تو اُس وقت جم خانہ کلب کی یہ حالت نہیں تھی۔ خیر میں مرکزی ہال میں پہنچا تو عزیزم ملک جواد خالد استقبال کے لیے کھڑے تھے ۔ وہ مجھے طعام گاہ میں لے گئے جہاں محترم اختر چوہدری صاحب حسبِ توقع موجود تھے لیکن سر محبت خان نیازی ، سر سلطان شاہین اور سر نبی بخش ضیاء اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے نہیں آ سکے تھے۔ جواد نے وہاںموجود پرانے شاگردانِ رشید جن کے نام سچی بات ہے مجھے بھولے ہوئے تھے کا ایک ایک کر کے تعارف کرایا۔
ان میں ہنس مُکھ ، تازہ وتوانا تیمور کیانی سب سے پہلے بڑے پُر تباک انداز سے ملے ۔ ان کے ساتھ برطانیہ میں مقیم عزیزم عبدالحفیظ ، فرحت عباس، فیصل چیمہ اور زاہد رضا کا تعارف ہوا۔ غالباً فیصل چیمہ یا عزیزم زاہد رضا نے مجھے یا ددلایا کہ سرسید سکول میں آٹھویں جماعت میں اُن کا داخلہ میں نے کرایا تھا۔ ان تین ، چار شاگردانِ رشید نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ برطانیہ میں ہی مقیم نہیں ہیں بلکہ وہاں اپنے قائم کردہ اداروں کے ذریعے کامیاب زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ عزیزم عبید حمید اور طارق رزاق کا تعارف ہوا جو پاکستان میں بڑی کامیابی سے اپنا پرائیویٹ بزنس کر رہے ہیں ۔ سچی بات ہے ان سب سے مل کر اور ان کے کام کاج اور مصروفیات کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی۔ کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتوں کا سلسلہ چلتا رہا تو عزیزم جواد خالد نے ہر ایک بالخصوص سر اختر چوہدری اور میری خاطر مدارت میں کچھ کمی نہ چھوڑی ۔کھانا ختم ہونے والا تھا تو راجہ عمار مہدی جن کا تعلق راولپنڈی کے معروف سیاسی خانوادے راجگان دھمیال (راجہ بشارت، راجہ ناصر ، راجہ حامد نواز کے خاندان) سے ہے وہ بھی پسینے میں شرابور آن پہنچے ۔ ان سے تعارف ہوا تو میں نے اُن سے اُن کے سیاسی شب و روز کے بارے میں سوال کیا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی پارٹی (تحریکِ انصاف) آج کل ابتلا و آزمائش کا شکار ہے۔ کھانا ختم ہوا تو محترم اختر چوہدری جو تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں بڑے جوش و جذبے اور لگن کے ساتھ شریک رہتے ہیں اور اندرونِ اور بیرونِ ملک کئی سفر اور چلے بھی مکمل کیے ہوئے ہیں ، انہوں نے مختصر خطاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑنے اور نیک اعمال کرنے پر زور دیا۔ میں نے بھی عزیزانِ گرامی کو بتایا کہ سفرِ حرمین شریفین کے حوالے سے ’’دیارِ حجاز میں‘‘ کے نام سے جلد ہی میری کتاب شائع ہو رہی ہے میں چاہوں گا کہ اس کی ایک ایک جلد آپ لوگوں کو پیش کر سکوں۔
سچی بات ہے یہ تقریب ایف جی سرسید سیکنڈری سکول کے جماعت دہم کی ایک سیکشن بی کے چند طلبا کا اکٹھ تھی ۔ اختر چوہدری صاحب اس کلاس کے انچارج تھے جبکہ میری کلاس دہم سیکشن ڈی تھی اور بی سیکشن میں میرا کوئی پیریڈ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے باوجود اس کلاس کے قدیمی طلبا کی طرف سے اتنی پذیرائی اور عزت افزائی یقیناخوشی اور اعزاز کی بات ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ سرسید سکول میں پڑھاتے ہوئے خاص طور پر شروع کے برسوں میں اپنی اُفتادِ طبع ، اپنے مزاج اور اپنے مخصوص پینڈو پن (دیہاتی اُکھڑ پن) کی بنا پر میں اپنے طلبا اور ساتھی اساتذہ و رفقائے کار میں کوئی زیادہ مقبول اور ہر دلعزیز نہیں تھا۔ پھر میرے تدریس کے مضامین بھی اُردو ، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان وغیرہ تھے جنہیں سائنسی مضامین ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی وغیرہ کے مقابلے میں کم اہمیت دی جاتی تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایک اعلیٰ معیار اور مخصوص ماحول کے ادارے میں جگہ بنانا کچھ زیادہ آسان نہیں تھا۔ اللہ کریم کا خصوصی کرم ہوا کہ مجھے شعبہ امتحانات کا انچارج (کنٹرولر ایگزیمینیشن )، داخلے کا انچار ج اور ادارے کی ہم نصابی سرگرمیوںاور تقاریب کا انچارج اور فوکل پرسن ہونے کے ناتے کچھ ایسی ذمہ داریاں مل گئیں کہ ساتھی خواتین و مرد اساتذہ اور طلبا ء اور اُن کے والدین سے روابط اس طرح مستحکم ہوئے کہ اکتوبر 1969 ء تا اکتوبر 1994ء ربع صدی کا عرصہ جو میں نے سرسید سکول میں گزارا وہ میرے لیے ایک طرح کا یادگار بن گیا۔ میرے لیے یہ انتہائی مسرت اور شکر گزاری کی بات ہے کہ مجھے کوئی پُرانے سٹوڈنٹس ملتے ہیں یا میرے کالم وغیرہ پڑھتے ہیں اور اُن کا مجھ سے رابطہ ہوتا ہے وہ مجھے جتنی عزت اور احترام دیتے ہیں اور اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں یقینایہ میرے لیے اس عمر میں اللہ کریم کا ایک طرح کا انعام ہے۔