اسلام آباد:پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مابین بجٹ اہداف کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات آخری مرحلے میں پہنچ چکے ہیں، جہاں دونوں اطراف سے اہم معاشی اشاریوں پر اتفاق کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں، حکومت نے ملکی صنعتی ڈھانچے میں اصلاحات کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سال 2026ء سے 2031ء کے لیے تیار کردہ آٹو پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات آئی ایم ایف حکام کے سامنے رکھ دیے ہیں
نئی معاشی حکمتِ عملی کے تحت ملک کو ماحول دوست توانائی پر منتقل کرنے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح کو کم سے کم رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے اور صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ٹیرف کو سال 2030ء تک مرحلہ وار 6 فیصد تک لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کو بھیجی گئی دستاویزات کے مطابق، اس پانچ سالہ آٹو پالیسی کے دو بڑے اہداف ہیں۔ اول، ملک میں بحران کا شکار آٹو انڈسٹری کی کارکردگی کو دوبارہ بحال کرنا۔ دوم، گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مقامی تیاری کو بڑھا کر برآمدات (Exports) میں خاطر خواہ اضافہ کرنا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ان طویل المدتی صنعتی اہداف پر بات چیت کا مثبت اختتام ملکی معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔