Wed, September 16, 2026

9مئی کے کچھ حقائق

9مئی کے کچھ حقائق

 انسداد دہشت گردی کی سرگودھا عدالت نے 9مئی کوجلائو گھیرائو اور اشتعال انگیز تقریروں کے کیس میںپنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سمیت 36 کارکنوں کو دس10سال قید کی سزا سنا دی ۔ اس موقع پر احمد خان بچھر عدالت میں موجود نہیں تھے ۔اس سزا کے بعد لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شیر پائو پل پر جلائو گھیرائو کے مقدمہ میں تحریک انصاف کے رہنمائوں ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ سمیت 8ملزمان کودس دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت 6ملزمان کو بری کر دیا ۔ اپریل 2022میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے پہلے سے لے کر اب تک تحریک انصاف کی جانب سے جو ماحول بنایا گیا وہ کچھ اس طرح تھا ۔ ہمت ہے تو خان کے خلاف عدم اعتماد لے کر آئو ۔ عدم اعتماد آ گئی ۔ ہمت ہے تو خان کے خلاف مقدمات بنا کر دکھائو ۔ مقدمات بھی بن گئے ۔ ہمت ہے تو بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات بنا کر دکھائو ۔ ان کے خلاف بھی مقدمات بن گئے ۔ ہمت ہے تو خان کو گرفتار کر کے دکھائو ۔ خان صاحب گرفتار بھی ہو گئے ۔ ہمت ہے تو بشری ٰ بی بی کو گرفتار کر کے دکھائو ۔ وہ بھی گرفتار ہو گئیں ۔ ہمت ہے تو خان پر کیس چلا کر دکھائو ۔ کیس بھی چلنا شروع ہو گئے ۔ ہمت ہے تو خان کو سزا دے کر دکھائو ۔ 190ملین پائونڈ کیس میں سزا بھی ہو گئی ۔ اسی طرح 9مئی کے کیسز میں بار بار ہر ٹاک شو میں ڈھٹائی کی حد تک کہا گیا کہ ثبوت ہیں تو لا کر دکھائو اور ملٹری کورٹ سے جن کو سزائیں ہوئیں ان سب کی ہر ایک کی الگ الگ وڈیوز الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی گئی لیکن اس کے باوجود بھی کہا گیا کہ ثبوت ہوتے تو اب تک سزا ہو چکی ہوتی یعنی ہمت ہے تو سزا دے کر دکھائو تو اب سزائیں بھی ہو گئی ۔ہم نے اپنی انہی تحریروں میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے لئے کئی بری خبریں ہیں اور ان میں سے ایک نو مئی کے کیسز کے فیصلوں کے حوالے سے بھی خبریں ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے 8اپریل کو ماتحت عدلیہ کو 9مئی کے کیسز کا چار ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا جو7اگست کو پورے ہو رہے ہیں ۔ یہ سلسلہ یہاں پر رکے گا نہیں بلکہ سات اگست سے پہلے عین ممکن ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی 9مئی کے مقدمات میں سزا سنا دی جائے ۔ 
9مئی کو جو کچھ ہوا اس میں کچھ تو نظروں کے سامنے ہو رہا تھا اور کچھ جو نظروں سے اوجھل تھا در حقیقت اصل سازش وہی تھی ۔ جو کچھ نظروں کے سامنے کیا گیا یہ اس سازش کی تکمیل کے لئے بہت ضروری تھا ۔ احتجاج لیکن پر امن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے اور آئین پاکستان اس کی اجازت دیتا ہے ۔ اب اگر بر صغیر میں احتجاج کی تاریخ دیکھیں تو اس کے لئے قیام پاکستان سے پہلے سے ہر بڑے شہر میں کچھ مقامات وقت کے ساتھ بنتے چلے گئے جیسے لاہور میں ریگل چوک ، رنگ محل ، مال روڈ ، کراچی میں جامعہ کلاتھ وغیرہ لیکن 9مئی کا احتجاج پورے ملک میں ہوا لیکن کسی ایک جگہ بھی عوامی احتجاج کے لئے مخصوص مقامات پر نہیں ہوا بلکہ 9مئی کے بعد جو آڈیو لیکس ہوئیں ان سے پتا چلتا ہے کہ ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت پورے ملک میں احتجاج کے لئے ملٹری تنصیبات کو منتخب کیا گیا ۔ جس دن یہ احتجاج ہوا تو اس وقت خان صاحب گرفتار تھے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا اور آڈیو لیکس پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کی تصدیق بھی کرتی ہیں ۔ 
اب اگر صرف احتجاج ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی حالانکہ پوری دنیا میں کبھی کسی ملک میں کسی سیاسی جماعت نے اپنی فوج کے خلاف اس طرح کا احتجاج نہیں کیا لیکن پھر بھی اگر یہ صرف پر امن احتجاج ہوتا تو ہم خیال ججز اور ہم خیال سول و ملٹری بیوروکریسی کی موجودگی میں کچھ نہیں ہونا تھا لیکن انقلاب لانے کے چکروں میں اس احتجاج کو زبر دست قسم کے تشدد میں بدل دیا گیا اور کور کمانڈر ہائوس لاہور اور شہداء کے مجسموں کو آگ لگائی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی ۔ ہم آخری سطح تک جا کر کہتے ہیں کہ شاید یہ توڑ پھوڑ بھی صرف نظر کر دی جاتی اور در گزر سے کام لیا جاتا لیکن آپ کو یاد ہو گا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کو رکوانے کے لئے خان صاحب نے کیا کچھ نہیں کیا اور آخر میں نومبر2022میں راولپنڈی میں دھرنے کا بھی پروگرام تھا لیکن عوام کی قلیل تعداد کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا تو ایک جانب جلائو گھیرائو تھا اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا طوفان تھا جس میں بتایا جا رہا تھا کہ فوج کے فلاں فلاں عہدیدار مستعفی ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ سارا دن چلتا رہا پھر یہ خبریں بھی چلائی گئیں کہ جنرل عاصم منیر کو افواج پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے گرفتار کر لیا ہے تو یہ 9مئی در حقیقت افواج پاکستان میں بغاوت کا منصوبہ تھا جو خدا کا شکر ہے کہ کامیاب نہیں ہو سکا اور پاک بھارت جنگ کے دوران بھی فیلڈ مارشل کی گرفتاری کے شوق کو پورا کیا گیا ۔آخر میں بس یہی عرض کرنا ہے کہ اب آپ فیک نیوز چلاتے رہیں کہ بانی کے بیٹے آ رہے ہیں وہ امریکہ سے بانی کی رہائی کا پروانہ لے کر آئیں گے اور یہاں منجی ٹھوک دی گئی ہے ۔ 

ٹیگز: