پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی تاریخ میں سیاسی فیصلے اکثر جذبات، ذاتی مفادات اور وقتی واہ واہ کے تابع رہے ہیں۔ یہاں طاقتور عہدے حاصل کرنا ایک مقصد سمجھا جاتا ہے، مگر ان عہدوں کی ذمہ داریاں، حساسیت، اور عالمی سطح پر ان کے اثرات کا شعور نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وہ بنیادی خلا ہے جو ملک کو ادارہ جاتی بحران، عالمی ساکھ کی تباہی، اور عوامی اعتماد کے انحطاط کی طرف دھکیل رہا ہے۔
ایک مثال وفاقی وزیر برائے ہوابازی کے اس بیان کی ہے جس میں انہوں نے پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں درجنوں پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ یہ بیان، اگرچہ ایک ممکنہ حقیقت پر مبنی تھا، مگر جس انداز میں اسے پیش کیا گیا، وہ ریاستی سفارت کاری، ادارہ جاتی وقار اور بین الاقوامی تعلقات کی شدید خلاف ورزی تھی۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے فوری طور پر پاکستان کی فضائی کمپنیوں پر اعتماد ختم کر دیا۔ PIA کی پروازیں یورپ اور امریکہ کے لیے بند ہو گئیں، کروڑوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا، اور پاکستان کے پائلٹس عالمی سطح پر مشکوک نظر آنے لگے۔ ان سب نتائج کے باوجود، اس وزیر نے کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی، نہ ہی اس غیر دانشمندانہ طرزِ عمل کی معافی مانگی گئی۔
یہ رویہ صرف ہوابازی تک محدود نہیں۔ تعمیراتی شعبے میں بھی یہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں بے شمار غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز، پلازے، اور عمارات تعمیر ہوتی ہیں، جن کے پیچھے سرکاری اداروں کی خاموشی، بددیانتی، اور رشوت خوری شامل ہوتی ہے۔ زمین اگر غیر قانونی ہو، یا اس پر تعمیر کی اجازت نہ ہو، تو سوال یہ ہے کہ بلڈنگ کی بنیاد پڑتے وقت ادارے خاموش کیوں رہتے ہیں؟ جب دیواریں کھڑی ہوتی ہیں، بجلی و پانی کنکشن دیئے جاتے ہیں، فائلیں رجسٹر ہوتی ہیں، خریدار معاہدے کرتے ہیں، تو اُس وقت کوئی نوٹس کیوں نہیں لیتا؟ لیکن جب سب کچھ مکمل ہو جاتا ہے، رہائشی بس جاتے ہیں، زندگی کی جمع پونجی لگی جاتی ہے، تو اچانک بلڈوزر آجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ''یہ تعمیر غیر قانونی ہے، مسمار کی جائے گی''۔
کراچی کا نسلہ ٹاور، لاہور کی بعض ہاؤسنگ سکیمیں، اسلام آباد کے کچھ پلازے… یہ سب مثالیں ہیں کہ کس طرح ادارے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور بعد میں طاقت کا مظاہرہ عوام کے کمزور کندھوں پر کرتے ہیں۔ اس سب کے نتیجے میں عام شہری اپنی چھت کھو بیٹھتا ہے، ریاست کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اور اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
ان دونوں مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے: اختیار تو موجود ہے، لیکن تربیت، شعور، اور نیت کا شدید فقدان ہے۔ ہمارے وزرائ، مشیر، اور اعلیٰ بیوروکریٹس جب بغیر کسی تیاری یا ادارہ جاتی فہم کے اختیارات سنبھالتے ہیں، تو ان کا ہر فیصلہ، ہر بیان، ہر خاموشی ریاست کے لیے مہنگی ثابت ہوتی ہے۔ طاقتور کرسی صرف اختیار کا نام نہیں، بلکہ اُس کے ساتھ وابستہ ایک ذمہ داری کا بوجھ ہے جس کا ہر پہلو عوامی و قومی مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ ہماری ریاستی مشینری میں آج تک کوئی ایسا مستقل ادارہ قائم نہیں کیا گیا جو یہ جائزہ لے کہ کون سے لوگ قومی مفاد کے منافی فیصلے کر رہے ہیں؟ کون خاموش رہ کر، چشم پوشی کر کے، اداروں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں؟ ان سب کو صرف ''غلطی'' کہہ کر چھوڑ دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ رویہ مزید بگاڑ کو جنم دیتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا خود مختار ادارہ قائم کیا جائے جو قومی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے بیانات، فیصلوں اور چشم پوشیوں کی تحقیقات کرے۔ وہ ادارہ صرف کرپشن یا مالی بدعنوانی تک محدود نہ ہو، بلکہ اس کا دائرہ ان بیانات، فیصلوں اور پالیسیوں تک ہو جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو مجروح کرتی ہیں۔ یہ ادارہ پالیسی میکنگ سے پہلے مشاورت فراہم کرے، تربیت کا نظام مرتب کرے، اور ذمہ داروں کی گرفت یقینی بنائے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس نوعیت کے ''ریاستی اصلاحاتی کمیشن'' موجود ہیں جن کا کام حکومتی کارکردگی کی اخلاقی و قانونی نگرانی ہوتا ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کی قیادت کی بصیرت میں ہوتا ہے۔ جب قیادت محض چمک دمک، میڈیا کی توجہ، اور وقتی سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہو جائے، تو ریاستی ادارے بکھرنے لگتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک باوقار، بااختیار، اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر اُبھرے، تو ہمیں اپنی قیادت اور اداروں میں شعور، تربیت، اور جواب دہی کے نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔
ریاست کا اصل دشمن وہ ہے اختیار رکھتے ہوئے خاموشی سے بدعنوانی کو پنپنے دیتا ہے، جو قومی اداروں کو کمزور کر کے وقتی فائدہ لیتا ہے، جو اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے جذباتی بیانات دیتا ہے، اور جو گناہوں پر پردہ ڈالنے کو ''حکمتِ عملی'' سمجھتا ہے۔ ایسے افراد کو صرف اداروں سے نہیں نکالنا، بلکہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔
آخر میں، یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں صرف فوج، معیشت یا قدرتی وسائل سے طاقتور نہیں بنتیں، بلکہ ذمہ دار قیادت، انصاف پر مبنی نظام، اور شفاف طرزِ حکمرانی ان کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں بیان بازی کی سیاست سے نکل کر اصولوں کی ریاست کی طرف سفر کا آغاز کرنا ہوگا…آج، ابھی، اور ہر قیمت پر۔