Wed, September 16, 2026

بنگلہ دیش کا ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ، بورڈ اور کھلاڑیوں کو مالی مشکلات کا سامنا

بنگلہ دیش کا ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ، بورڈ اور کھلاڑیوں کو مالی مشکلات کا سامنا

ابوظہبی: بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ متعدد مراحل میں جاری مذاکرات اور مختلف پیچیدہ حالات کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور عبوری حکومت نے انڈیا میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

بی سی بی نے کہا ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا، تاہم ورلڈ کپ کے آغاز میں صرف دو ہفتے باقی رہ جانے کے باعث آئی سی سی نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اب اس مرحلے پر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

آئی سی سی نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی کہ بنگلہ دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے انکار کے بعد سکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے عالمی ایونٹس کرکٹ بورڈز اور کھلاڑیوں کے لیے اہم مالی فوائد کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور اس کے کھلاڑیوں کو مالی نقصانات کا سامنا ہوگا۔ ورلڈ کپ میں شرکت کی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو تقریباً چار کروڑ ٹکا (تقریباً تین لاکھ امریکی ڈالر) کی رقم ملنی تھی۔

اس کے علاوہ، اگر کوئی ٹیم ٹاپ 12 میں جگہ بناتی، تو اسے پانچ کروڑ ٹکا سے زائد (تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر) ملنے کی توقع تھی۔

اگر بنگلہ دیش نے باضابطہ طور پر ورلڈ کپ سے دستبرداری کا اعلان کیا، تو سب سے بڑا مالی اثر کھلاڑیوں پر پڑے گا، کیونکہ وہ میچ فیس، پرفارمنس بونس اور انعامی رقم سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں کھلاڑیوں کی ذاتی آمدنی میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔

اسی طرح، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ آئی سی سی کی طرف سے شرکت فیس کے طور پر تین لاکھ سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ملنے کی توقع تھی، جو اب بورڈ کو نہیں مل سکیں گے۔ بنگلہ دیشی کرنسی میں یہ رقم تقریباً چار سے چھ کروڑ ٹکا بنتی ہے، جو کہ بورڈ کے لیے ایک سنگین مالی خسارہ ہے۔
 
 

ٹیگز: