Wed, September 16, 2026

بقا کے خول میں مقید عورت

بقا کے خول میں مقید عورت

عورت کے بارے میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب وہ مسلسل دباؤ، غیر یقینی اور ٹوٹ پھوٹ کے حالات میں زندہ رہتی ہے تو اس کا جسم اور ذہن بقا کے موڈ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ نفسیات بتاتی ہے کہ جب اعصابی نظام کو بار بار دھچکے لگتے ہیں تو وہ حفاظت کے مستقل سگنل پر آ جاتا ہے۔ یوں عورت کا پورا وجود ایک ایسے الارم سسٹم کی مانند ہو جاتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ وہ جاگتے ہوئے بھی محتاط رہتی ہے، سوتے ہوئے بھی بے سکون، خوشی کے لمحات میں بھی اندر سے کھٹکا رہتا ہے کہ یہ لمحہ کب ٹوٹ جائے گا۔یہ کیفیت محض ڈرامہ یا حساسیت نہیں ہے جیسا کہ اکثر معاشرہ عورت پر الزام لگاتا ہے، یہ دراصل ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔ جب کسی کو بار بار دکھایا جائے کہ سکون عارضی ہے اور خوشی شرطوں کے ساتھ آتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس پر یقین کرنے لگتا ہے۔ عورت کا دل اور دماغ خود کو اس حقیقت سے ہم آہنگ کر لیتے ہیں کہ زندگی کا اصل چہرہ جدوجہد، دکھ اور تھکن ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سکون کا لمحہ آتا بھی ہے تو وہ اسے قبول نہیں کر پاتی۔ وہ پل بھر میں خوشی کے بجائے خطرے کو محسوس کرنے لگتی ہے یعنی سکون بھی اس کے لیے خطرے کی علامت بن جاتا ہے۔
عورت کی یہ کیفیت برسوں کی صدماتی تاریخ سے جڑی ہے۔ سالوں کے بوجھ، قربانیوں اور نظر انداز کیے جانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اندر سے ٹوٹتی رہتی ہے لیکن باہر سے مسکراتی ہے۔ وہ ہر روز ایک نیا چہرہ اوڑھ لیتی ہے تاکہ دنیا کو یقین دلا سکے کہ وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی روح تھک چکی ہوتی ہے، دل زخمی ہو چکا ہوتا ہے اور جسم اپنی اصل توانائی کھو چکا ہوتا ہے۔یہ مسلسل کشمکش عورت کی جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ لمبے عرصے تک بقا کے موڈ میں رہنے سے نیند کی کمی، مسلسل تھکن، ہارمونز کا عدم توازن اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عورت کا جسم بار بار اس جنگی کیفیت میں جا کر اینڈورفنز اور کورٹیسول جیسے ہارمون خارج کرتا ہے جو وقتی طور پر اسے چوکس رکھتے ہیں مگر طویل مدت میں جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عورتیں کم عمری میں ہی دائمی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔اس مسلسل کشمکش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عورت اچھے دنوں پر اعتماد نہیں کر پاتی۔ وہ خوشیوں کو عارضی سمجھتی ہے۔ جب کوئی اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے تو وہ چونک جاتی ہے، اسے یقین نہیں آتا کہ یہ بھی ممکن ہے۔ اس کی یادداشت میں محبت اکثر شرطوں کے ساتھ ملی ہوتی ہے، سکوت اکثر سزا کا پیغام ہوتا ہے اور سکون اکثر کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ۔ یوں وہ اپنے دل کو کبھی حقیقی راحت کے حوالے نہیں کر پاتی۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کو ایسی حالت تک کون لے کر جاتا ہے؟ اس کا جواب آسان ہے مگر کڑوا۔ یہ برسوں کی ناانصافیاں، بے اعتنائیاں، جھوٹے وعدے اور جذباتی تشدد ہے۔ ایک عورت جب بار بار ٹوٹتی ہے، جب ہر بار سہارا دینے والے ہی دھکا دینے لگیں تو وہ اپنے اندر ایک خول بنا لیتی ہے۔ وہ خود ہی اپنی محافظ بن جاتی ہے کیونکہ اسے کسی اور پر بھروسہ نہیں رہتا۔ لیکن یہ خود حفاظتی دراصل ایک مسلسل جنگ ہے۔ وہ اپنے اندر ہر وقت چوکس رہتی ہے۔ یہی کیفیت نفسیات میں "فائٹ اور فلائٹ" کہلاتی ہے۔اس حالت میں انسان کا اعصابی نظام ہر لمحہ اس خوف میں رہتا ہے کہ ابھی کچھ برا ہونے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورتیں اکثر تھکن، بے خوابی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور غیر ضروری گھبراہٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان کے لیے یہ عام زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔سماج کی بے حسی یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو سمجھنے کے بجائے عورت پر لیبل لگا دیتا ہے۔ اسے "موڈی"، "اوور سینسٹیو" یا "ڈرامے باز" کہا جاتا ہے۔ کوئی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ سب اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ اس کے اعصاب میں جمی ہوئی وہ کہانی ہے جو برسوں کی ٹوٹ پھوٹ نے لکھی ہے۔
ہم سب نے اپنی زندگی میں ایسی عورتیں دیکھی ہیں۔ وہ ماں جو بچوں کے سامنے ہنستی ہے مگر رات گئے چپ چاپ آنسو بہاتی ہے۔ وہ بیٹی جو تعلیمی یا پیشہ ورانہ میدان میں کامیاب نظر آتی ہے لیکن اندر سے مسلسل اپنے وجود پر سوال اٹھا رہی ہوتی ہے۔ وہ بیوی جو شوہر کے ساتھ خوش دکھائی دیتی ہے لیکن معمولی سے اختلاف پر دل ہی دل میں خوفزدہ ہو جاتی ہے کہ کہیں یہ رشتہ بھی ٹوٹ نہ جائے۔ یہ سب کردار اسی خول کی مختلف شکلیں ہیں جس میں عورت بقا کے لیے خود کو قید کر لیتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی عورت کو کیا چاہیے؟ اس کا جواب حیران کن حد تک سادہ ہے مگر عمل میں کٹھن۔ اسے تحفظ چاہیے، مستقل مزاجی چاہیے اور سکون چاہیے۔ وہ کامل شخص نہیں مانگتی، صرف صبر مانگتی ہے۔ اسے وہ شخص چاہیے جو اسے مزید شک میں نہ ڈالے، جو اسے یقین دلائے کہ سکون کوئی دھوکہ نہیں بلکہ حقیقت بھی ہو سکتا ہے۔ جو اسے بار بار یہ نہ جتائے کہ اس کے زخم اسے ناقابلِ محبت بنا دیتے ہیں بلکہ یہ یقین دلائے کہ وہ اپنی کمزوریوں سمیت بھی محبت کی مستحق ہے۔محبت کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ آپ کسی ایسے وجود کو سہارا دیں جو ٹوٹ کر بکھرا ہوا ہے۔ ایسے وجود کو وقت چاہیے، صبر چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ احساس چاہیے کہ وہ محفوظ ہے۔ شفا سکوت سے نہیں آتی، بلکہ تحفظ سے آتی ہے۔ سکون اس وقت معنی خیز ہوتا ہے جب دل کو یقین ہو کہ یہ پل عارضی نہیں، یہ اچانک ختم نہیں ہو جائے گا۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ عورت کی شفا صرف فرد کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ خاندان اگر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو سمجھنے کی کوشش کرے، شوہر اگر اپنی بیوی کے دل کی بے قراری کو سنجیدہ لے، اور ریاست اگر ایسے حالات فراہم کرے جہاں عورت معاشی و سماجی تحفظ کے ساتھ جی سکے تو یہ خول آہستہ آہستہ ٹوٹ سکتا ہے۔ لیکن اگر سماج اپنی پرانی بے حسی پر قائم رہے گا تو عورتیں اسی بقا کے خول میں سانس لیتی رہیں گی۔آج کے معاشرے میں ہزاروں عورتیں ایسی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ بظاہر خوش ہیں، ہنستی ہیں، اپنے فرائض ادا کرتی ہیں لیکن ان کے اندر کا وجود بقا کے موڈ میں زندہ ہے۔ وہ اب بھی اس دن کی منتظر ہیں جب زندگی انہیں یہ یقین دلائے گی کہ سکون دھوکہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم ایسے ماحول کا حصہ کیوں ہیں جہاں عورتیں تحفظ سے زیادہ خوف کو جانتی ہیں؟ ہم کیوں محبت کو شرطوں کے ساتھ باندھتے ہیں؟ ہم کیوں نرمی کو کمزوری اور یقین کو بیوقوفی سمجھتے ہیں؟ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویوں کو آئینے میں دیکھیں اور مانیں کہ عورت کے زخم اس کی کمزوری نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا کچا چٹھا ہیں۔اگر ہم واقعی عورت کو محبت دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اسے تحفظ دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے الفاظ اور رویوں میں مستقل مزاجی دکھانی ہوگی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ شفا صبر اور تحفظ سے آتی ہے، تنقید اور سزا سے نہیں۔ یہ کالم ایک پکار ہے کہ ہم عورت کو اس کے بقا کے موڈ سے نکال کر جینے کا موقع دیں۔ وہ محفوظ ہو، تو سکون خود بخود آ جائے گا اور شاید تب وہ پہلی بار پوری طرح یقین کرے گی کہ زندگی صرف جنگ نہیں، محبت بھی ہے۔

ٹیگز: