Wed, September 16, 2026

خاموشی کی زنجیروں میں جکڑی عورت

خاموشی کی زنجیروں میں جکڑی عورت

رات کا دوسرا پہر تھا۔ در و دیوار پر خاموشی طاری تھی مگر اندر ایک ہولناک طوفان برپا تھا۔ شازیہ کی سسکیاں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں مگر کوئی انہیں سننے والا نہ تھا، سسرال میں سب نے آنکھیں اور کان بند کر لیے تھے بہو جو تھی۔ اْس کا چھ سالہ بیٹا دروازے کے پیچھے کانپ رہا تھا، آنکھوں میں خوف اور آنسو جبکہ لبوں پر ماں کے لیے سسکتی ہوئی دْعائیں۔ شوہر نے ایک بار پھر اْسے محض کھانے میں نمک کم ہونے پر مارا تھا۔ ہاتھ کی انگلیاں نیلی پڑ چکی تھیں، رخسار پر ناخنوں کے نشان تھے مگر وہ پھر بھی خاموش تھی کیوں کہ معاشرہ کہتا ہے کہ "یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے" تاہم یہ معاملہ تب ذاتی نہیں رہتا جب ایسی کوئی شازیہ علم بغاوت بلند کرتی ہے اور شوہر سے علیحدگی کی بات کرتی ہے تب اسے بدکردار کہہ کر غیرت کے نام پر قتل کرا دیا جاتا ہے کبھی شوہر کے ہی ہاتھوں تو کبھی دیور ،باپ اور بھائی کے ہاتھوں یا پھر اولاد کے ہاتھوں۔ پاکستان میں ایسی شازیہ ہزاروں نہیں، لاکھوں ہیں جو روانہ نمک کم ہونے یا روٹی جل جانے پر تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں۔ گھریلو تشدد ایک ایسی بیماری ہے جو نہ صرف جسم کو زخمی کرتی ہے بلکہ روح تک کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔پاکستان میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد ایک ایسا المیہ ہے جو نہ صرف انفرادی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ تشدد صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی جذباتی اور معاشی پہلوؤں میں بھی اپنی جڑیں رکھتا ہے۔ عورت جو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن اکثر اپنے ہی گھر میں ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز اوسطاً 140 خواتین اور لڑکیاں اپنے ہی کسی قریبی رشتہ دار کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف قاتلانہ حملوں کے ہیں، ان لاکھوں عورتوں کا کوئی حساب نہیں جو روز جیتی ہیں اور مرتی ہیں مگر ان کی چیخیں کسی رپورٹ میں درج نہیں ہوتیں۔پاکستان میں صورتِ حال اور بھی گمبھیر ہے۔ سال 2024 میں رپورٹ ہونے والے 32,617 صنفی بنیاد پر تشدد کے کیسز میں سے 2,238 کیسز گھریلو تشدد سے متعلق تھے۔ ان میں سے بے شمار خواتین وہ تھیں جنہوں نے برسوں ظلم برداشت کیا اور پھر یا تو مار دی گئیں یا خود ہی مر گئیں۔ اکثر یہ سوال تو کیا جاتا ہے کہ "تم نے طلاق کیوں نہیں لی یا طلاق کیوں لی؟" لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ "تمہیں مارا کیوں گیا؟"۔ کیونکہ ہمارے ہاں یہ سوچ ہے کہ عورت کا گھر بسانا ہی اْس کی سب سے بڑی کامیابی ہے چاہے وہ گھر اْس کے لیے دوزخ کیوں نہ بن جائے۔ 
قوانین کے حوالے سے بات کی جائے تو اس حوالے سے پاکستان میں متعدد قوانین موجود ہیں جو خواتین کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ 2016 میں پنجاب نے ‘‘پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ’’ منظور کیا، جس کے تحت متاثرہ عورت کو دارالامان، قانونی معاونت اور طبی سہولیات فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی۔ خیبر پختونخوا نے بھی 2021 میں ‘‘ڈومیسٹک وائلنس اگینسٹ ویمن ایکٹ’’ پاس کیا، جس کے تحت جسمانی، نفسیاتی اور معاشی تشدد کو جرم قرار دیا گیا۔ سندھ اور بلوچستان نے بھی اپنے اپنے طور پر قوانین متعارف کرائے مگر سب سے بڑا مسئلہ عملدرآمد کا ہے جس کے لیے پاکستان بطورِ ریاست ناکام ہو چکا ہے اور چاہیے یہ قوانین خواتین کے حوالے سے ہوں یا پھر کسی طرح کے۔دیہی علاقوں میں جہاں پنچایتیں اور جرگے اب بھی نظام عدل چلا رہے ہیں، وہاں عورتوں کے حق میں قانون کا استعمال نایاب ہے۔ اکثر اوقات، عورت کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے اور تشدد کو ‘‘تربیت’’ یا ‘‘شوہر کا حق’’ کہا جاتا ہے۔ قانون اگر کتابوں میں قید رہے اور عدالتیں اگر انصاف کی بجائے تاریخ پر تاریخ دیتی رہیں، تو ان قوانین کا فائدہ کیا؟سماجی رویے اور روایتیں اس تشدد کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ ایک بیٹی جب ماں سے کہتی ہے کہ "امی! وہ مجھے مارتا ہے"، تو اکثر جواب ملتا ہے، "بیٹا! مرد ایسے ہی ہوتے ہیں، تم صبر کرو"۔ صبر کی اس تعلیم نے کتنی بیٹیوں کی جان لی 
کوئی شمار نہیں۔ کتنی ماؤں نے اپنی بیٹیوں کے نیلوں کو چادر میں چھپایا اور کہا، "کسی کو بتانا مت، خاندان کی عزت کا سوال ہے"۔
وہ چیخی تھی، مگر دیوار چپ تھی
لبوں پہ زخم تھے، گفتار چپ تھی
بدن پہ نیل تھے، آنکھوں میں دریا
مگر اک پیاس جو ہر بار چپ تھی
کہیں آواز تھی حیرت میں ڈوبی
خموشی کی کہیں تلوار چپ تھی
وہ کہتی تھی، یہ میرا حق نہیں کیا؟
کہا دنیا نہیں سو یار چپ تھی
جلائی جا رہی حوا کی بیٹی
محبت مر گر تکرار چپ تھی
کہاں ہے ماں جو بچوں نے تھا پوچھا
جواباً کس لیے دستار چپ تھی
یہاں جلتی ہوئی لاشوں کا گریہ
یہاں قانون کی تلوار چپ تھی 
قلم تلوار کر بیٹھی ملیحہ
مگر لوگوں کی تو للکار چپ تھی
لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں۔ گھریلو تشدد کوئی ذاتی معاملہ نہیں یہ ایک اجتماعی جرم ہے اور خاموشی اس جرم کی شراکت دار ہے۔ ہمیں اپنے رویے بدلنا ہوں گے، ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں نہ کہ سسک سسک کر جئیں۔کئی غیر سرکاری تنظیمیں اس حوالے خواتین کو قانونی معاونت، رہنمائی اور پناہ فراہم کر رہی ہیں۔ حکومت، عدلیہ، پولیس، میڈیا اور عام افراد سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ گھریلو تشدد کے خلاف ایک مؤثر محاذ کھڑا کریں۔ سکولوں میں لڑکوں کو سکھایا جائے کہ عورت کوئی کمزور مخلوق نہیں اور لڑکیوں کو سکھایا جائے کہ وہ ظلم سہنے کے لیے نہیں، عزت سے جینے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔شازیہ کی کہانی صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم سب اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس آئینے سے نظریں چرا لیں، تو کل ہماری بیٹی، بہن یا ماں کی چیخیں بھی سنی نہیں جائیں گی۔وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں کو قبرستان بننے سے بچائیں۔ عورت کو صرف عزت دیں، محبت دیں ورنہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہر گھر کی دیوار پر خون سے لکھا ہو گا کہ"یہاں ایک عورت خاموشی سے مر گئی اور کسی نے کہا کچھ بھی نہیں"۔

ٹیگز: