اُردو کے مشہور مصنف کرشن چندر نے ایک شہرہ آفاق ناول لکھا تھا، ایک گدھے کی سرگزشت اِس ناول میں کرشن چندر نے معاشرے کے بہت سے سیاہ چہروں کو بے نقاب کیا تھا۔ اِس سے ملتی جلتی کہانی گزشتہ دِنوں اَور ماضی قریب میں بھی پاکستانیوں کو سنائی گئی تھی۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اُسی کہانی کے نئے نئے سیزن وقتاً فوقتاً ہمیں سننے کو ملتے ہیں۔ گزشتہ دِنوں بھی گدھے کے گوشت کی فروخت کی کہانی کا شہرہ رہا۔ اِس پر بہت لے دے ہوئی۔ لیکن وہ ایک بات جس پر اَصل میں توجہ دی جانی چاہیے تھی وہ منظر عام سے غائب رہی۔
وہ اَصل بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سے اخلاقی قدریں منفی ہوتی جارہی ہیں۔ اخلاقی قدروں کی گراوٹ اِس اِنتہا کو پہنچی ہوئی ہے کہ معاشرے کا کوئی طبقہ بھی اِس سے محفوظ نہیں ہے۔ ماضی قریب میں ہماری سیاست میں کرپشن کا لفظ بہت زوروشور سے اِستعمال ہورہا تھا۔ پوری قوم کو یقین دِلا دِیا گیا تھا کہ ہمارا اَصل اَور بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجائے تو ملک جنت نظیر بن جائے گا۔ ہر طرح کے مسئلے حل ہوجائیں گے۔ میں تب بھی اَپنے دوستوں اَور رِشتے داروں سے کہا کرتا تھا کہ کرپشن مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اخلاقی قدروں کا زوال ہے۔ کرپشن دراصل اخلاقی قدروں کی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ ہم نتیجے کو پکڑ کر کبھی بھی اصل مسئلے کو حل نہیں کرپائیں گے۔ یہ اَیسا ہی ہے کہ کسی کے پیٹ میں اِنفیکشن ہوجائے اَور اُس کے باعث اُسے بخار چڑھ جائے۔ اگر ہم مریض کو صرف بخار کی دوا دیتے جائیں گے تو وہ کبھی تن درست نہیں ہوگا۔ اُسے اینٹی بائیوٹک کی ضرورت ہے تاکہ اَصل بیماری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ جب اَصل مرض ٹھیک ہوگا تو بخار خود بخود ختم ہوجائے گا۔
گدھے کے گوشت کی فروخت کے مسئلے کو کئی زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ ہمارے یہاں منافع کو اخلاقیات پر ترجیح دی جانے لگی ہے۔ ہم ہر طرح ، ہر صورت میں پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ حلال یا حرام کی قید سے ہم نکل چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک دولت آنی چاہیے خواہ کسی بھی طریقے پر آئے۔ ایک اِسلامی ملک میں گدھوں کو ذبح کرنا اَور اُن کا گوشت فروخت کرنا یہ بتاتا ہے کہ ہم کتے، سانپ، مری ہوئی مرغیاں وغیرہ بھی نہایت آرام سے فروخت کردیں گے۔ بہت سارے لوگوں کے ذہنوں میں حلال و حرام کا نقشہ بری طرح سے بگڑ چکا ہے۔ لوگ اَپنے فائدے کی ہر چیز کو حلال قرار دے دیتے ہیں اَور نہایت آرام سے اُس راستے پر چل پڑتے ہیں۔ کسی قسم کا ملال تک ہمارے ذہنوں میں راستہ نہیں بنا پاتا۔ہم لوگ ذاتی فائدے کو دین، اخلاق اَور قانونی اُصولوں پر ترجیح دینے لگے ہیں۔ جب پیسہ اخلاق سے بڑا ہو جائے تو معاشرہ تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔
دُوسرا زاویہ یہ ہے کہ ہم لوگ دینی اَور ثقافتی اقدار سے لاپروا ہوگئے ہیں۔ ہمارے دِین میں گدھے کا گوشت ناپاک اَور حرام سمجھا جاتا ہے لیکن لوگ نہایت آرام سے گدھوں کو ذبح کرکے اُن کا گوشت فروخت کرتے ہیں۔ اِس سے پتا چلا کہ ہم لوگوں میں دِین کی سمجھ بھی نہ ہونے کے برابر ہے اَور اگر کسی کو ہے بھی تو اُسے اِس کے احکام کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ کیا حلال ہے اَور کیا حرام۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ حرام فروخت کرنے کا کیا مطلب ہے۔ اِس کی کیا سزا آخرت میں ملے گی۔ ہم شراب کی حرمت پر بہت زور دیتے ہیں لیکن یہ چیز بھی معاشرے میں زہر کی طرح پھیل رہی ہے۔ ہر طرح کا نشہ یہاں دستیاب ہے۔ حرام ذرائع سے کمائی ہوئی دولت سڑکوں پر عام دیکھی جاسکتی ہے۔ ہمارے دینی حلقے اِن باتوں پر توجہ دینے کے بجائے رفع یدین، اذان سے پہلے درود پڑھنے، عید میلادالنبیؐ کے جلوسوں، شب برأت وغیرہ کے مسئلوں میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ معاشرے میں سے دینی قدریں ختم ہوتی جارہی ہیں۔
اِس کا تیسرا زاویہ یہ ہے کہ ملک کا قانون کمزور ہے۔ گدھے کے گوشت کی فروخت پہلی بار تو منظر عام پر نہیں آئی۔ چونکہ پہلے ہونے والے واقعات میں کسی کو قرار واقعی سزا نہیں ملی لہٰذا یہ واقعات دوبارہ ہوئے، سہ بار ہوئے اَور بار بار ہوتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ آرام سے اِس کی سزا سے بچ جائیں گے۔ چنانچہ اُن کے ذہنوں سے قانون کا خوف ختم ہوچکا ہے۔ اِسی معاملے میں کیا، ہر طرح سے یہ خوف دم توڑ چکا ہے۔ اگر یہ خوف ہوتا تو روزانہ اخبارات میں قتل، زنا بالجبر، ڈکیتی، دھوکا دہی وغیرہ کے واقعات کیوں چھپتے؟ یہ کام ہر جگہ، ہر وقت ہورہے ہیں اَور قانون کچھ نہیں کرپارہا۔
چوتھا زاویہ ہے کہ لوگوں کے دِلوں میں سے خوراک کے معاملے میں اِعتماد اُٹھ گیا ہے۔ کوئی نہیں جانتاکہ وہ کیاکھا رہا ہے۔ قیمے کے کباب نہ جانے کس جانور کے ہیں۔ چکن تکہ نہ معلوم زندہ مرغی کا ہے یا مردہ یا بیمار مرغی کا۔ حلیم میں گوشت پڑا ہے یا روئی۔ اِس طرح کے بے شمارواقعات ہمارے ملک میں روزانہ ہوتے ہیں۔ لوگوں کی صحت جواب دیتی جارہی ہے۔ دیگر ملکوں میں اسی سال کا شخص بھی چاق و چوبند نظر آتا ہے۔ ہمارے ملک میں اِس عمر کے لوگ عام طور پر چلنے پھرنے بھی سے بے زار ہوجاتے ہیں۔ اول تو اِس عمر تک بہت ہی کم لوگ پہنچ پاتے ہیں۔ جو پہنچ جائیں وہ کئی قسموں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے لوگ دُنیا کی غلیظ ترین غذا کھانے پر مجبور ہیں جس میں ہر طرح کی ملاوٹ شامل ہے۔
پانچواں زاویہ ہے کہ ہم لوگ آخرت سے بے پروا ہوچکے ہیں۔ لوگوں کو اَپنی موت بھی یاد نہیں ہے۔ ہمارے سامنے روزانہ لوگ مرتے ہیں لیکن ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ایک دِن مرجانا ہے، اُس سے پہلے پہلے زیادہ سے زیادہ دولت اِکٹھی کرلو، جائیدادیں اَور جاگیریں بنالو۔ اَپنی سات پشتوں کے لیے مال اِکٹھا کرلو جیسے ہم خود اَپنی آنے والی نسلوں کے رب ہیں۔ لوگ بھول گئے ہیں کہ ایک روزِ قیامت بھی ہوگا۔ اُس میں ہر عمل کا ریکارڈ پیش کردیا جائے گا۔ ریکارڈ میں بہت زیادہ مسائل ہوئے تو ہم نہایت خوفناک جگہ پر پہنچ جائیں گے۔ یہ ساری باتیں ہم لوگوں نے بالکل بھلا دی ہیں۔ آج کے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ایک شخص نے اَپنی بیوی کو جو اُس کے سات بچوں کی ماں تھی اِس لیے قتل کردیا کہ وہ ٹیلی فون پر کسی اَور مرد سے بات کررہی تھی۔ اِس سے پتا چلا کہ اُس قاتل کو یہ بات بالکل یاد نہیں تھی کہ قتل کرنا کتنا بھیانک فعل ہے اَور روزِ قیامت قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ مسلمان کہلانے کے باوجود آخرت سے بے پروا ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اِنسان محض زبان کی حد تک مسلمان ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے وہ کافر ہی ہے۔ چنانچہ کافر کے ساتھ آخرت میں جو معاملہ ہوگا وہی اُس مسلمان کیساتھ بھی ہوگا جس نے آخرت کو بالکل بھلا دیاہے۔ یہ اَیسا خوفناک اَنجام ہے جس سے ہر ایک کو پناہ مانگنی چاہیے۔
آخری بات یہ ہے کہ گدھے کے گوشت کی فروخت کو ہمیں ہرگز سرسری طور پر نہیں دیکھنا چاہیے ۔ یہ واقعات یہ بتاتے ہیں کہ معاشرہ خوفناک حد تک زوال کا شکار ہوچکا ہے۔ ہم اَپنی تعریفوں کے کتنے ہی پل باندھ لیں، کتنا ہی لوگوں یہ بتائیں کہ چونکہ تم مسلمان ہو، فلاں کے مرید ہو، فلاں کے نام لیوا ہو، نبی اکرم ؐکی اُمت میں سے ہو تمہاری جنت پکی ہے، ہماراانجام ہمارے اصل عقیدے اَور اعمال کے حساب سے ہی ہوگا۔ وہ انجام بظاہر اِتنا دِل خوش کن دکھائی نہیں دے رہا۔