میں نہیں جانتا کہ چوبیس کروڑ کی آبادی کے ملک میں انتظامی ضرورتوں کے لئے صوبوں کی ضرورت کیا ہے خاص طور پر جب صوبے بھی بہت ہی غیر فطری اور غیر منصفانہ تقسیم کے ساتھ قائم ہوں کہ ایک صوبے کی آبادی آدھے پاکستان سے زیادہ ہو اور دوسرے صوبے کا رقبہ۔ صوبوں کے صوبوں کے ساتھ جھگڑے ایک طرف ،ایک ہی صوبے کے اندر اتنے تضادات ہیں کہ احاطہ نہیں کیا جا سکتا جیسے سندھ میں کراچی اور اندرون سندھ کے تضادات اور اتنے اختلافات ہیں کہ ان کو بھی ایک تحریر میں بیان نہیں کیا جا سکتا جیسے خیبرپختونخوا میں ہزارہ اور پختون ، پنجاب میں بالائی اور جنوبی پنجاب۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور والے کہتے ہیں کہ تخت لاہور ان کے وسائل کھا گیا ہے۔ بلوچستان کی تو بات ہی مت کیجئے کہ وہاں چند اضلاع میں موجود بلوچوں نے وہ کہرام مچا رکھا ہے کہ لگتا ہے کہ پورا بلوچستان ہی بحران میں ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے جیسے پورا خیبرپختونخوا دہشت گردی کا شکار ہے نہ ہی دہشت گردوں کا سہولت کار، یہ افغانستان کے ساتھ لگنے والے چند اضلاع کا مسئلہ ہے جس سے یوں لگتا ہے کہ پورا کے پی ہی دہشتگردی میں جل رہا ہے۔کسی ایک صوبے کی زبان کا ایک لہجہ نہیں، ایک معیشت نہیں ، ایک برادری نہیں ، ایک ثقافت نہیں تو پھر ان صوبوں میں مشترکہ کیا ہے؟
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صوبے ختم کر دئیے جائیں اور سارے معاملات وفاق سے کنٹرول ہوں جیسے ایوب خان کے دور میں ون یونٹ قائم کر دیا گیا تھاکہ اگر آپ اس کا مطلب یہ سمجھ رہے ہیں تو یہ بھی سو فیصد غلط ہے بلکہ جو میں کہنا چاہ رہا ہوں اس کے بالکل اُلٹ۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمیں چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے ہوں گے کہ اس وقت ایک صوبہ بارہ کروڑ آبادی کے ساتھ ہے تودوسرے پانچ ، چھ کروڑ کے ساتھ اور ایک کی آبادی تو صرف ایک کروڑ ہے۔ان صوبوں میں اس وقت موجود حکمرانی کا ماڈل ، صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھے حکمرانوں کوان کے اپنے ہی صوبے کے بہت سارے عوام سے بہت زیادہ دور رکھتا ہے۔ وہ ان کے اپنے دائرہ کار میں نہیں ہوتے ۔ کسی بھی صوبائی دارالحکومت کے سیکرٹریٹ میں بیٹھا ہوا ایک کلرک نما سیکرٹری سینکڑوں میل دور ملازمتیں کرنے والوں اور سہولتیں فراہم کرنے والوں کی زبان، چہروں اور مسائل تک سے ناآشنا ہوتا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ان غیر فطری اور غیر منصفانہ طور پر قائم صوبوں کو ایک ایک فطری اور منصفانہ انتظامی تقسیم میں بدل دیں، ایک ایسی انتطامیہ ان تک پہنچا دیں جن کے دروازوں تک ان کے ہاتھ پہنچتے ہوں، وہ ایک دوسرے کی زبان، مسائل سمجھتے ہوں اور سب سے بڑھ کے وہ انہیں مقامی سطح پر جوابد ہ ہوں۔
میں اس سے پہلے پنجاب کی تقسیم کا سخت مخالف رہا ہوں اور اب بھی ہوں مگر یہ مخالفت اس بنیاد پر ہے جب آپ باقی صوبوں کو برقرار رکھتے ہوئے صرف پنجاب پر چھری چلائیں اور اس کی بنیاد نہ انتظامی ہو نہ عوامی بلکہ صرف اور صرف تعصب ہو کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی بڑی آبادی کے باوجود انتظامی طور پر پنجاب دوسرے صوبوں سے کہیں بہتر چلایا جا رہا ہے۔اس کا محرومی کے پروپیگنڈے کے ساتھ موجود جنوبی پنجاب اب بھی اندرون سندھ، کے پی کے پہاڑوں اور بلوچستان سے کہیں زیادہ بہتر منظم ہے مگر اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے لاہور آنا پڑتا ہے ۔ اندرون سندھ والوں کو کراچی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور کے پی کے پہاڑوں والوں کو پشاور یاترا کرنی پڑتی ہے۔ سیاسی، سماجی اور انتظامی امور کے ماہرین اس پر متفق ہیں کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات مقامی سطح پر ہونے چاہئیں اورا سکے لئے ہمارے پاس موجودہ صوبوں کے نیچے تین انتظامی سطحیں موجود ہیں، پہلی ڈویژنیں، دوسری ضلعے اور تیسری تحصیلیں۔ میں نے انگریز دور کی بنی ہوئی اس تقسیم کو بہت سارے مقامات پر جا کے خود بھی دیکھا ہے اور اس بارے مطالعہ بھی کیا ہے کہ جہاں ایک ضلع ایک جیسے لوگوں پر مشتمل ہے وہاں ایک ڈویژن بھی سیاست، ثقافت،زبان، تاریخ، برادریوں ، امن و امان اور معیشت میں بہت کچھ مشترک، بہت سارے یکساں حوالے رکھتی ہے سو ہم صوبوں کی جگہ پرڈویژنوں کو انتظامی یونٹس بنا سکتے ہیں جیسے میاں عامر محمود نے تجویز پیش کی۔ کئی دوستوں کی تجویز ہے کہ اس تبدیلی کو ضلعی سطح پر لایا جائے مگر یہ بہت چھوٹے یونٹ ہوجائیں گے جیسے لاہور کے ساتھ قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ آسانی کے ساتھ ایک انتظامی یونٹ کا حصہ بن سکتے ہیں اور اسی طرح گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی ڈویژنوں کو دیکھ لیجئے۔ میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر پاکستان کے تینتیس ڈویژنوں کو ( آزاد کشمیر کے تین ڈویژنوں کو بوجوہ چھوڑ کے) انتظامی یونٹس ڈیکلئیر کر دیا جائے تو یہ اوسطا ستر لاکھ کی آبادی کو مینج کرنے کا انتطامی یونٹ بنتا ہے۔ یہ مقامی سطح پر بھی تنازعات اور نفرتوں کو ختم کر ے گا جیسے ڈیرہ غازی خان اور اجن پور والے نالاں ہیں کہ اہمیت ملتان کو ملتی ہے۔
مگر ایک بہت ہی اہم بات کہ جب ہم انتظامی یونٹس کو صوبوں سے ڈویژنوں پر لے جائیں تو خدا کے لئے انہیں صوبے ڈیکلئیر کریں نہ صوبے کہیں کہ اگر انہیں صوبے کہا تو پھر وہاں ایک وزیراعلیٰ اور ڈھیر سارے وزیر ہوں گے، ایک چیف سیکرٹری اور ڈھیر سارے سیکرٹری، صوبے اپنے ہی انتظامی اخراجات اور پروٹوکولوں کے نیچے دب کر رہ جائیں گے۔ہمیں ان ڈویژنوں کو بااختیار بنانے کے لئے سمارٹ ایڈمنسٹریشن کا ایسا فارمولہ لگانا ہوگا جو زیادہ سے زیادہ جمہوری بھی ہو۔ ڈویژنوں کے نیچے اضلاع اور تحصیلوں کے ذریعے بھی مقامی مسائل حل کرنے کا نظام بہت آسانی اور خوبی کے ساتھ چل سکتا ہے توکیا اس پورے منظرنامے میں صوبوں کا سیٹ اپ غیر ضروری نہیں لگتا۔ وفاق ہر ضلعے کی آبادی کی بنیاد پر آسانی کے ساتھ ڈویژنوں کو براہ راست وسائل دے سکتا ہے اور یہ ڈویژن اپنے اپنے علاقوں میں موجود قدرتی اور انسانی وسائل کا انتظام وا نصرام بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ ایک اور تجویز ہے کہ آپ اس سے اوپرچار، چار ڈویژنوں کا بھی کوئی ڈھیلا ڈھالا بغیر خرچے والا سیٹ اپ بنا سکتے ہیں جو اڑھائی تین کروڑ آبادی کو ایک نظر سے دیکھ سکے۔ اس انتظام سے چھوٹے شہروں سے لاہور ، کراچی اور پشاور میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہوسکتا ہے اور غیر مساوی ترقی پر خود لوگ اپنی قیادت کا محاسبہ کر سکتے ہیں۔اس سے پہلے پرویز مشرف کے دو رمیں ضلعی حکومتوں والا تصوراور تجربہ کامیاب رہا تھا مگر پورے صوبے پر حکمرانی کے شوق نے خود پرویز الٰہی سے وہ سب کچھ ریورس کروا دیا، ہاں، جسے قومی سیاست کا شوق ہو اور جو اپنا قد کاٹھ بڑا سمجھتا ہو وہ شوق کے ساتھ قومی اسمبلی میں آئے اور پورے ملک کی نمائندگی کرے،اس پر حکمرانی کرے یعنی اوپر وفاق پھر چار ڈویژنوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا وجود، نیچے طاقتور ڈویژنل سیٹ اپ۔ شہری سطح پر ضلعے اورمقامی سطح پر تحصیلیں۔